counter easy hit

پڑھیے ایک لہولہان نوجوان کا پیروں سے زمین نکال دینے والا قصہ

Read a story of a young man from the feet of a young man

اسپتال کی وارڈ میں اس وقت ڈاکٹروں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا ہر شخص حیران تھا سامنے ایک مریض پڑا تھا ایک ایسا نوجوان جو کچھ دیر قبل موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ میں ہسپتال لایا گیا تھا بہت ذیادہ شور کر رہا تھا درد سے شورمچانے پر ایک ڈاکٹر نے اسے بیہوش کردیا اب مرہم پٹی شروع کی تو لڑکے نے بڑبڑانا شروع کردیا یہ کوئ اتنی اہم بات نہ تھی کہ ڈاکٹر اس پر توجہ دیتے ۔ پر ایک نوجوان ڈاکٹر اس وقت چونکنے پر مجبور ہوا جب لڑکے کے بےربط جملے اس نے سنے۔ صبر جانو میں روٹی پکا کر میں کزن کے ساتھ بیٹھی ہوں کال مت کرو۔مہمان آئے ہیں چائے رکھنے جاری ہوں۔آج بہت تھک گئی۔ پلیز ابھی بات کرنے کا موڈ نہیں۔ میں لڑکوں سے بات نہیں کرتی۔ بیلنس کم ہے کارڈ بھی نہیں مل رہا کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ نوجوان ڈاکٹر یہ سب جملے سن کر پریشان ہوگیا اور اس کا ہاتھ بہ اختیار لڑکے کے سر کا جائزہ لینے لگا پر سر پہ تو کوئی چوٹ ہی نہ تھی اگر ہوتی تب بھی اس کے علم کے مطابق میڈیکل کی تاریخ میں کبھی ایسا نہ ہوا تھا کہ کسی حادثہ کی وجہ سے جنس تبدیل ہوگئی ہو اور وہ مرد سے زنانی بن جائے۔ڈاکٹر کا گھبرا جانا فطرتی امر تھا۔ اس نے سب ڈاکٹروں سے یہ بات کی۔کچھ دیر میں یہ خبر پورے ہسپتال میں پھیل گئی نتیجتا سب بڑے ڈاکٹر اس مریض کے پاس جمع ہوگئے اسکے دماغی ٹیسٹ لیے گئے سب رپوٹیں اوکے نکلی پر مریض کی بڑبڑاہٹ ابھی تک زنانہ تھی اور اب سب ڈاکٹر اسکے گرد جمع اسکے ہوش میں آنے کے منتظر تھے۔ اور جوں جوں وہ ہوش کی وادی کے طرف بڑھ رہا تھا اسکی آواز و رفتار میں تیزی آرہی تھی اب تو ایسے جملے نکل رہے تھے۔ جانو میں ویٹ کر رہی ہوں۔ ابھی آئی۔ بولا نا کل پکچر دوں گی۔ اور کچھ ایسی باتیں بھی تھی جس کی وجہ سے لیڈیز ڈاکٹر کو وہاں سے کھسکنا پڑا۔ اور بالآخر لڑکے کو ہوش آگیا اور اب وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سب کو دیکھے ادھر ڈاکٹر منتظر کے اب وہ کچھ بولے تا کہ پتہ چلے دماغی حالت نوجوان مریض کی کیسی ہے ۔ آخر لڑکے نے بات شروع کی مگر وہ بالکل نارمل تھا۔ ڈاکٹر حیران تھے کہ پہلے زنانہ جملے اب نارمل ہو کر مردانہ جملے کہ یکایک مریض لڑکے کا موبائل فون بج پڑا۔ایک ڈاکٹر نے جلدی سے کال اٹھائی تاکہ جو بھی مریض کے گھر والوں کو اطلاع دیں سکیں۔ فون ریسیو ہوا تو آگے سے آواز آئ ہائے سوئیٹی کیسی ہو؟ جانو میسج نہیں دیکھ رہی۔ جی آپ کون ؟ ڈاکٹر کا اتنا کہنا تھا کہ فون بند۔۔ پھر ڈاکٹر نے موبائل میں آخری ڈائل کیے گئے نمبر پر کال ملائی اور اسے بتایا کہ یہ لڑکا ہسپتال میں ہے اس کے گھر والوں کو بتادیں تب آگے سے اچھی خاصی گالیوں کے بعد جواب ملا کہ۔ سالے کو مار دو ہمیں لڑکی بن کر دھوکہ دیا کنجر نے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website