counter easy hit

پڑھیے ایک ارب پتی کی غربت پر مبنی دل دہلا دینے والی داستان

Read a billion leafy poverty-based narrative

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمارے قریبی لوگوں میں سے ایک آدمی سے واقعہ پیش آیا وہ 1971 سے پہلے مشرقی پاکستان کے اندر کام کرتا تھا، اس کے بڑے بڑے گیس سٹیشن تھے، کروڑوں روپے کا مالک تھا بلکہ اربوں کا مالک تھا سیکڑوں کی تعداد میں اس کے گیس اسٹیشن تھے، اللہ کی شان دیکھئے اتنے مال پیسے والا تھا کہ اس کا ایک کام کرنے والا اس کے دو لاکھ چوری کرکے بھاگ گیا، اس نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا، کچھ عرصے کے بعد وہ پھر واپسآ گیا رونے دھونے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی اس نے وہ دو لاکھ بھی معاف کر دیے اور اس کو نوکری پر بحال کر دیا، سوچئے کہ وہ کتنا کاروبار اور مال رکھنے والابندہ ہو گا جسے پرواہ ہی نہیں تھی وہ دو لاکھ روپے کی۔اتنا کچھ اس کی مال جائیداد تھی لیکن جب جنگ میں ڈھاکہ علیحدہ ہواتو یہ اس حال میں کراچی اترا کہ اس کی بیوی کے سر پر فقط دوپٹہ تھا دونوں جیبیں خالی تھیں کچھ ہاتھ میں نہیں تھا، سب کچھ وہاں چھوڑ آیا، اب کراچی میں اس کے بھائی تھے، ان کے گھر آ کر ٹھہرے وہ خود یہ واقعہ سناتے تھے کہ جب میں آیا تو مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میں زندہ ہوں، میں کروڑوں اربوں پتی انسان اورآج ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں میں کس سے مانگوں گا، میں کیسے زندگی گزاروں گا، کہنے لگے قریب تھا کہ میرا Nerves break down ہو جائے مگر بیوی نیک تھی، دیندار تھی، پہچان گئی کہ میرے خاوند کے اوپر یہ حالات آ گئے ، چنانچہ جب ہم کھانے کے دستر خوان پر بیٹھتے تو میرے بھائی اور ان کے بچے بھی ہوتے تو میری بیوی یہ واقعہ چھیڑتی اور کہتی کہ ہمارے اوپر اتنا بڑاصدمہ آیا میں عورت ہوں میں زیادہ گھبرا گئی ہوں اور میرے خاوند کو تو اللہ نے پہاڑ جیسا دل دے دیاہے، انہوں نے اس کو ہاتھوں کی میل بناکر اتار دیا، ان کو تو پرواہ نہیں،کہنے لگے: میں اندر دل سے خوف زدہ تھا اور وہ ایسی باتیں کرتی کہ سن سن کر مجھے تسلی ہونے لگی کہ جب میری بیوی کو کوئی غم نہیں تو پھر میں کیوں اتناپریشان ہو رہاہوں، میں ڈپریشن کاشکار کیوں ہو رہاہوں، چنانچہ ایسی باتیں کرتی کہ ان کا دل توبہت بڑا ہے انہو نے تو اتنے مال کو ہاتھوں کی میل سمجھ لیا ہے، ان کو تو اللہ نے پہلے بھی بہت دیا وہی پروردگار ہے اب ان کو یہاں بھی بہت دے دے گا یہ تو قسمت کا بادشاہ ہے،قسمت کے دھنی ہیں، جب اس نے ایسی ایسی باتیں کیں تو کہنے لگے میری طبیعت بحال ہوگئی، ہم نے مشورہ کیا، بھائی سے ادھار لے کر ایک ٹرک خریدا اس کو کرائے پر چلانا شروع کر دیا میں نے محنت کی میرے مولا نے میری مدد کی کہنے لگا: پانچ سال کے بعد سیکڑوں ٹرکوں کی کمپنی کا میں پھر مالک بن گیا، آج پھر اربوں پتی بن کر زندگی گزاررہا ہوں مگر میں اپنی بیوی کا احسان کبھی نہیں اتار سکتا جس نے اس حالت میں بھی مجھے سنبھال لیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website