counter easy hit

رینجرز نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو گرفتار کرلیا

Rangers arrest Lyari Baloch leader

Rangers arrest Lyari Baloch leader

کراچی……….کراچی کےمضافاتی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے رینجرز نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق رینجرز کی نفری نے انٹیلی جنس اطلاع پر کراچی کے مضافاتی علاقے میں کارروائی کر کے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو گرفتارکرلیا۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق عزیر بلوچ کراچی کے مضافاتی علاقےسے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ رینجرز نے اسے گرفتارکرلیا۔عزیر بلوچ ستمبر 2013 سے شروع ہونے والے کراچی آپریشن کے دوران دبئی فرار ہوگیا تھا ۔ ملزم کے قتل ، اقدام قتل، بھتا خوری اور اغوا برائے تاوان کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔اس سے قبل لیاری میں ملزم کی گرفتاری کیلئے اس کی رہائش گاہ پر 50 سے زائد چھاپے بھی مارے گئے لیکن اسے گرفتار نہیں کیا جاسکا تھا۔لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر جان بلوچ طویل عرصے سے درجنوں سنگین مقدمات میں حکومت کو مطلوب تھا ۔ لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار عذیر جان بلوچ اپنے والد کے اغواء اور بہیمانہ قتل کے بعد قانون شکن بنا۔ اس کے والد ٹرانسپورٹر فیضو ماما کو ایک دہائی قبل لیاری میں ارشد پپو کے گروہ نے اغواء کرلیا تھا۔ اسے تاوان وصول کرنے کے بعد قتل کرکے لاش پھینک دی گئی۔ ان دنوں کالج میں زیرتعلیم عذیر جان بلوچ نے رحمان ڈکیت کے گروہ میں شمولیت اختیار کرلی۔10 اگست 2009 کو رحمان ڈکیت پولیس افسر اسلم چوہدری کے ہاتھوں مشکوک مقابلے میں ماراگیا تو باقاعدہ دستار بندی کے عذیر جان بلوچ، ڈنڈے کے زور پر امن قائم کرنے والی امن کمیٹی کا سربراہ بن گیا۔ اس دوران قتل و غارت گری میں ملوث ہونے پر سندھ حکومت نے اس سمیت درجنوں دہشت گردوں کی گرفتاری پر انعام مقرر کردیا۔ جس پر عذیر جان بلوچ اور ساتھیوں نے لیاری سے پیپلزپارٹی کے خلاف بغاوت کردی۔ عذیر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی جسے حکومت نے واپس لے لیا تو کالعدم قرار دی گئی امن کمیٹی نے بھی حکومت کے خلاف نرمی کردی۔عذیر بلوچ نے اپنے والد کے قتل کے انتقام کی آگ بجھانے کیلئے17 مارچ 2013 کو ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو ڈیفنس سے اغواء کرکے لیاری میں انتہائی سفاقانہ طریقے سے قتل کردیا۔ تینوں مقتولین کی لاشوں کی باقیات آج تک نہیں مل سکیں۔
لیاری میں مختلف آپریشنز کے بعد عذیر جان بلوچ بڑی آسانی سے فرار ہوتا رہا۔ وہ ایران کے راستے مسقط اور دبئی جاکر اپنے کاروبار کی نگرانی بھی کرتا رہا۔ عذیر جان بلوچ لگ بھگ پچاس سنگین مقدمات میں مطلوب ہے۔