counter easy hit

ہم محسنوں کو نہیں بھولتے

Life

Life

تحریر : شاہ بانو میر

ماں کی نرم گرم گود سے اتر کر جب انسان دنیا کی سنگلاخ زمین پر اپنے کچےّ قدم رکھتا ہے تو اس کیلیۓ یہ نوکیلے سنگلاخ راستے قدرے تکلیف دہ ہوتے ہیں٬
ہر ہر موڑ پر نیا سبق ٬ نئے اطوار ٬ نئے تجربے ٬ اس کی جبلّت کی تخلیق میں یوں پیوست کر دیے گئے کہ وہ ان سے گھبرا کر واپس ماں کی آغوش میں نہیں جا چھپتا ٬ بلکہ ہر قدم پے ہونے والے ان اسباق سے اپنی زندگی کے ماہ و سال کچھ یوں گزارتا ہے کہ عمر کا تہائی حصّہ گزارنے تک وہ ناموری کی کسی نہ کسی حدکو چھو کر زندگی کیلیۓ واضح رخ اختیار کر لیتا ہے٬ زندگی صرف اپنی ذات پر محنت کر کے اپنی ذات کی کامیابی کا نام نہیں بلکہ ذرا غور کرنے کی عادت ڈالیں تو پتہ چلتا ہے

کہ گھر سے نکل کر جس تعلیمی ادارے تک ہم گے اگر وہاں کا ماحول وہاں کے مُحترم اساتذہ کرام ہمیں قبول نہ کرتے تو کسی بھی انسان کی زندگی کی کامیاب شاہراہ ابتداء میں ہی ختم ہو جاتی اور وہ اس منزل تک پہنچ نہ پاتا جہاں کھڑا آج وہ اپنی محنت کو ہی اپنی کامیابی گردانتا ہے٬ آغاز سے انتہاء تک یقینی طور پے ایسے مُخلص ایسے ایماندار ہمدرد افراد کا ساتھ ہمیں میسّر آتا ہے ٬ کہ جن کی سپورٹ ہمیں کہیں بھی کسی بھی میدان میں نام سے اعزاز سے نوازتی ہے٬
میں کچھ نہیں ہوں ٬ لیکن آج چار حرف جو لکھنے آئے اور آپ سب تک کچھ پہنچا پائی تو اس میں جہاں میرا شوق میرا ارادہ میرا تہیہّ تھا ٬ وہاں یقینی طور پے اللہ پاک کے خاص احسانات شاملِ حال رہے اور کچھ ایسے افراد کی رہنمائی ملی جن کے توسط سے بروقت اہم نصیحتوں سے اور کسی بھی مشکل وقت میں دلاسے نے حوصلے نے عزم کو ٹوٹنے نہیں دیا٬

یہ ربّ العزت کی خاص مہربانی ہے اُن افراد پر جوخالقِ کائنات کی اس وسیع و عریض دنیا کو اپنی سوچ میں محدود دیکھتے ہیں اور بعض اوقات کسی آزمائش میں مبتِلا ہو جاتے ہیں٬ وہ مُشکل وقت تجزیے کا نہیں تجربے کا اور پھر اُس سے اخذ کردہ نتائج کو مرتّب کرنے کا ہوتا ہے٬ وقت کی لیبارٹری شفاف تجزیاتی نلکیوں میں یوں رویّے چھنا چھن ہِلاتی ہلکورے دیتی اور پھر ہر رویےّ کو سو فیصد سچائی کے ساتھ منظرِ عام پر لے آتی ہے٬ اُس تجربے میں جو رویہّ سو فیصد نتائج دے وہی ہے وہ انسان جو آپ کو سمجھتا ہے ٬ آپ کا ہمدرد ہے اور آپ کو وقت کے اس گہرے چھائے ہوئے گرداب سے باہر نکالنے کا متمنی ہے٬ ایسے لوگ اس دور میں شاز و ناظر ملتے ہیں

ٌلیکن بہر حال ہیں انہی کی بدولت شائد ابھی تک دنیا کے معاملات قدرے تردد سے سہی لیکن کچھ نہ کچھ بہتر تناسب سے روان دواں ہیں٬ اعجاز حسین پیارا بھی ایسے ہی انسان کا نام ہے جو ہمہ جہت صفات کا مالک ہے٬ ہمدرد انسان جو اپنے ادارے سے وابستہ ہر فرد کیلئے فکر اور سوچ رکھتا ہے٬ صحافتی حلقہ عرصہ دراز سے مختلف انداز میں اس نام سے اس نام سے وابستہ ادارے سے اور ان کے گاہے بگاہے نت نئے اچھوتے صحافتی تجربات سے بخوبی واقف ہے٬ یورپ بھر میں پاکستانی خبروں اور پاکستانی کمیونٹی کیلئے خوبصورت مؤثر تعارف کی ریت ڈالنے والا یہ نام٬ دی جزبہ جیسی مُستند مضبوط اور مستقل مزاج ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں
اردو لنک میں جب اردو ٹائپنگ سیکھی تو جیسے کوئی شوق تھا جو کشاں کشاں منزل کی جانب رواں دواں تھا٬ لیکن انجان راستے اور منزل کی کھوج کی سوچ تو تھی

٬ لیکن براہ راست وہاں تک رسائی بظاہر ممکن نہیں دکھائی دے رہی تھی٬ حسنِ اتفاق
کہ محترم راؤ خلیل کی وساطت سے جزبہ تک رسائی حاصل ہوئی اور بہت نام سنا تھا
اعجاز حسین پیارا ان کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا٬ کم و بیش 5 سال ہونے کو آئے ٬ ان کے ادارے کے ساتھ منسلک ہوئے٬ بہترین تجربہ ٬ بہترین تحریری تجربہ گاہ کے مالک جو ادارے کو کھِلاتے تو سونے کا نوالہ ہیں پر دیکھتے شیر کی آنکھ سے ہیں موجودہ ہنگامہ خیز دور میں انٹر نیٹ پے بھرمار نے آئے روز ڈوبتی ابھرتی ویب سائٹس کا تلاطم بپا کر رکھا ہے

لیکن ایسے تندو تیز ماحول میں ایک مخصوص رفتار کے ساتھ بغیر کسی تعصب کے سب کے ساتھ باہمی خوشگوار روابط استوار رکھتے ہوئے ویب سائٹ کو یورپ میں اس کے بہترین معیار کے ساتھ برقرار رکھنا بِلاشبہ وہ مشکل امتحان ہے جس میں وہ کامیاب ترین نام کے ساتھ ہر اعلیٰ سطح پے سر فہرست دکھائی دیتے ہیں٬ پاکستان میں رہتے ہوئے ادارے کے معاملات کو جانچنا پھر اسے قوتِ فیصلہ سے درست سِمت میں ترتیب دینا ٬ اتنا آسان کام نہیں ٬ لیکن صحافتی سمندر کی متلاطم موجیں بھی ایسے ہی کسی جانباز کو گہرائی گُم ہونے نہیں دیتیں بلکہ اچھال کر باہر نکال لاتی ہیں ٬ مستقل مزاجی اور کام میں توازن کے ساتھ انفرادیت ٬ وہ خاصہ ہے و ان کو آج بھی یورپ میں اپنے ادارے کی طرح ہر دلعزیز بنائے ہوئے ہے٬

بہترین دماغ کے مالک ہیں ٬ ان کے تجزیات ان کی فہم و فراست اور گہرا صحافتی تجربہ اگر کوئی پرکھنا چاہے تو ٬٬ دی جزبہ ٬٬٬ حاضر ہے٬ مجھے بطورِ ٹیم فخر ہے کہ میری تحریری خامیوں کو درست ہونے کا موقعہ ملا ٬ میری تحریر میں شائد قدرے بہتری آئی ٬ سوچ کے توازن میں ٹھہراؤ ٬ اور غیر جانبداری کی اصول یہاں سے سیکھا٬
ذات کو نظر انداز کر کے وسیع تناظر میں سوچنا ٬ اور دوسروں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی قابلیت کا اعتراف کا اِدراک ان سے سیکھا٬ مستقل مزاجی ٬ رویّے میں لچک ٬ اورمشکلات کو مسائل کو نظر انداز کر کے صرف توجہ کام پرمرکوز کرنے کا ہُنر سو فیصد اعجاز صاحب کی نصیحت آموز گفتگو سے سیکھا٬ ذات کی شکستِ ریخت کو نظر انداز کرتے ہوئے بہترین سوچ کے ساتھ ادارے چلانے والےلوگ ہی ادارے کے نام کی کامیابی کی کامیابی کی دلیل ہیں٬

ُپاکستان کا خوبصورت رُخ دنیا پے آشکار کرنے کی سوچ اور بے شمار پاکستانیوں کی کامیابیوں کو در پردہ سراہنے کی بجائے انہیں منظرِ عام پر لا کرمختلف ممالک کی حکومتوں کو باور کروانا کہ دہشت گردی کے علاوہ پاکستانی یہ کامیاب حیثیت بھی رکھتے ہیں٬ یہ سوچ اور پھر اس پر عمل ہر پاکستانی کا نہیں ہو سکتا٬ کبھی کامیابیوں کی داستان لیے ہوئے ــ روم کی گلیاں ــ سامنے لے آتے ہیں ٬ تو کبھی میگزین کی صورت ہم یورپ بھر میں مقیم اہم کامیاب پاکستانیوں سے روشناس ہوتے ہیں٬ کبھی بیرونِ ممالک پاکستانیوں کے مسائل کو عالمی سطح پے اجاگر کرنے کیلئے دنیا بھر سے مندوبین کو بلا کر کانفرنس کا اہتمام کرتے ہیں ٬ تو کبھی صرف پاکستانی بن کر ان مسائل کا شکار پاکستانیوں کیلیۓ تحریری میدان میں سرگرمِ عمل دکھائی دیتے ہیں ٬ میں اپنی خوش نصیبی سمجھتی ہوں

کہ سنجیدہ مستقل مزاج محنتی غیر جانبدار سوچ کے مالک اعجاز حسین پیارا کے ادارے کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا اب الحمد للہ مزید کئی خواتین ادارے کے ساتھ منسلک ہو کر اس کی قائم کردہ سنجیدہ حدود میں رہتے ہوئے بہترین انداز میں ادارے کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں٬ آرٹیکلز کا اعلیٰ معیار روزمرہ کے تارکینِ وطن کے گھمبیر مسائل جو کسی ملک میں مقیم کوئی پاکستانی ہی درست انداز میں تحریر کر سکتا ہے ٬ یہ مسائل ہم پر دی جذبہ کے ذریعہ روز مرہ کی بنیادوں پر پہنچتے ہیں ٬ دنیا بھر میں ہوئی ہر اہم خبر ٬ ایجادات ٬ حادثات ٬ ایڈونچرز ٬ خلائی تحقیقات سیاسی اتار چڑہاؤ حکومتوں کی ریشہ دوانیاں یورپ جیسی مہنگی سرزمین پر آسان انداز میں گھر بیٹھے ہم تک پہنچانے والی دی جذبہ کے پیچھے موجود مستقل سوچ کے مالک اعجاز حسین کا کمال ہے٬

بیرونِ ملک پاکستان کا نام بہتر کرنے اور سوچ کو مثبت سمت دینے والا یہ نام صحافتی حلقوں کیلئے منفی عمل کے جواب میں مثبت رّد عمل کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا٬ بہت کچھ سیکھنے کیلیۓ ادارے کی حیثیت کا حامل یہ نام خُدا کرے کہ مزید کئی اور خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو تراش خراش کر وطنِ عزیز کیلئے ماہِ کامل بنائیں آمین اپنی تحریری سوچ کو وسیع کرنے کیلیۓ اس نام میں موجود ادارے سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے٬ شرط یہ ہے کہ آپ میں سنجیدہ کام کرنے کی لگن اور کامیابی کیلیۓ محنت کرنے کا جذبہ موجود ہو٬ تو دی جزبہ کے افق پر آپ بھی چمک سکتے ہیں٬ اعجاز حسین پیارا آپ کی محنت آپ کی سوچ آ پ ادارے کی کامیابی ہم سب کیلئے باعثِ افتخار ہے٬

اگر ہم سب ذات کو نظر انداز کر کے وسیع تر سوچ کے ساتھ “”صحافتی دنیا”” مثبت رویّے کے ساتھ پُرسکون ماحول میں کام کریں تو کئی اعجاز پیارا ابھر کر سامنے آئیں گے جو موجودہ دنیا کے اشاعتی اداروں کی تیز دوڑ میں پاکستان کو اس کے نام کو کام کو بہترین انداز میں اجاگر کر کے ہم سب کیلئے فخر کا باعث بن سکتے ہیں٬ آئیے اعجاز حسین پیارا کی طرح مثبت رد عمل کی طرف پہلا قدم بڑہاتے ہوئے انتشار خلفشار سے باہر نکل کر صرف کام اور صرف کام کو اپنا شعار بنا کر ٬ بہترین نقشِ قدم چھوڑ جائیں کہ آنے والے اس پر عمل کرتے ہوئے مزید ترقی کی شاہراہ پے جاری سفر رکھ سکیں

اعجاز حسین پیارا صرف نام نہیں بلکہ ایک صحافتی ادارہ ہے جن کی سوچ سے مستفید ہو کر ہم کام اور کامیابی سوچ سکتے ہیں٬ آج ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس مقام تک آگئی کہ دنیا کا واحد میگزین درمکنون “” جو سو فیصد خواتین کی محنت سے تیارّ پرنٹ میگزین ہے٬ اس کا دوسرا شمارہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے٬ یہ میگزین بنانے کی سوچ خواتین کو گھریلو زندگی کی مصروفیات سے کھینچ باہر نکالنا ٬ پھر راغب کرنا ٬ انہیں ویب پر متعارف کروانا اور ان کی معیاری حُب الوطن تحریروں سے دی جزبہ کو مزین کرنا یہیں سے سیکھا در مکنون میں ان تمام استادوں کا ذکر ضرور ہوگا ٬ جنہوں نے ایک خاتون کے کام کو سراہا ٬ راستہ دیا ٬ رہنمائی کی٬ٌ ان تمام محسنوں کو در مکنون ضرور متعارف کروائے گا تا کہ اور لوگ بھی یہی رویہّ یہی سوچ اپنا کر بیش قیمت سوچوں کو تراش کر مزید کئی ادارے بنانے کیلئے بنیاد رکھ سکیں٬ شکریہ اعجاز حسین پیارا آپ کے ہر اُس تعاون کا رہنمائی کا جو آپ نے ہمیشہ بروقت دی ٬ یہ اس سوچ کو نکھارنے مضبوط کرنے کا خوبصورت رد عمل ہے جو آج درمکنون کی صورت انشاءاللہ گھر گھر موجود نظر آئے گا
اعجاز حسین پیارا
ہم محسنوں کو نہیں بھولتے

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر : شاہ بانو میر