counter easy hit

پارہ چنار کے مظلومو! پوری قوم تمھارے ساتھ ہے

 اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارا ملک اور معاشرہ دارالفساد کا منظر پیش کررہا ہے، جہاں قتل وغارت گری، ڈکیتیاں، رہزنیاں، کرپشن، اغوا برائے تاوان، کارلفٹنگ، رشوت، ناانصافی، طبقاتی امتیاز، غربت، قبضہ مافیا، انسانی اسمگلنگ، منشیات کا دھندا، مذہبی منافرت، تنگ نظری، شدت پسندی اور انتہاپسندی کے عفریت اور بلائیں قوم پر مسلط ہیں۔ لہٰذا گذشتہ چند ماہ کے دوران سہون شریف، ڈی آئی خان، تنگی چارسدہ، شبقدر، پشاور، لاہور اور اب ایک بار پھر کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں دہشت گردی نے قیامت برپا کردی۔

Parachinar oppressed! The whole nation is with you

Parachinar oppressed! The whole nation is with you

پارہ چنار میں خواتین کی امام بارگاہ کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے فوراً بعد بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق نئے سوالات پیدا کردیے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر کس حد تک عمل درآمد ہوا، اور اگر نہیں ہوا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ بہرحال ماننا پڑے گا کہ نیشنل ایکشن پلان کو تاحال صحیح معنوں میں عمل کے قالب میں نہیں ڈھالا گیا، جس کا نتیجہ ہم موجودہ دہشت گردی کی نئی لہر کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکم رانوں کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے ہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا، لیکن دہشت گردی کے اس مسئلے کے دیرپا حل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا کہ ’’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔ ‘‘ آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے بہیمانہ حملے کے بعد ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان منظور کیا تھا اور اس پلان میں کالعدم تنظیموں کی بیخ کنی، فوجی عدالتوں کے قیام، مسلح تنظیموں پر پابندی، نفرت آمیز تقاریر وتحریروں، فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کی روک تھام کے اقدامات تجویز کیے گئے تھے، لیکن دہشت گردی کے مکمل سدباب اور اس کی بیخ کنی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ اس لیے جب تک دہشت گردی کے پس پشت نظریہ اور سوچ کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور ذہنوں کو بدلا نہیں جاتا تب تک اس پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں، کیوں کہ یہ ایک مائنڈسیٹ ہے اور جب تک اس مائنڈ سیٹ کو مکمل طور پر مات نہیں دی جاتی اس وقت تک اس عفریت سے نجات پانا مشکل ہے اور مائنڈسیٹ کو بنانے کے لیے جہاں بھی بیج بوئے جاتے ہیں اس کے خلاف سخت ایکشن لینا ہوگا۔ آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد اگرچہ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی محسوس کی گئی اور ملک کے جن جن علاقوں میں ضرب عضب کے نام سے طویل اور بھرپور آپریشن کیا گیا اس کے نتیجے میں دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا اور ان علاقوں کو تخریب کاروں سے پاک کر دیا گیا، لیکن ہمیں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے کہ ان عناصر کی باقیات کی طرف سے اب بھی موقع ملنے پر کوئی نہ کوئی حملہ اور دھماکا کر دیا جاتا ہے، جس میں بیرونی عناصر کے ہاتھوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پارہ چنار میں روس کے فوجی وفد کی وزیرستان کے دورے کے عین ایک روز بعد دھماکا کیا گیا، چناں چہ اس سانحے میں بیرونی سازش کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ساتھ ہی ملک کی تقدیر بدلنے والا عظیم منصوبہ پاک چائنا اکنامک کوریڈور بھی دشمنوں کی آنکھوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔ اس صورت حال میں ہماری خفیہ ایجنسیوں کو مزید چوکس رہنے کا ایک واضح اشارہ ملتا ہے۔

جمعے کے روز فاٹا کی کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں جو دھماکا ہوا تادم تحریر آنے والی اطلاعات کے مطابق اس میں 22 سے زاید افراد جاں بحق اور 95 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پارہ چنار میں سات بڑے دھماکے ہو چکے ہیں اور یہ آٹھواں دھماکا ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت سمیت وطن عزیز کے تقریباً تمام اکابرین نے حسب روایت دھماکے کی مذمت کی ہے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ موصول اطلاعات کے مطابق یہ ایک کار بم دھماکا تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعد سیکیوریٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کرکے مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا، دھماکے کے فوراً بعد فوج نے بم دھماکے کے زخمیوں کی امداد اور وہاں سے انخلاء کے لیے پشاور سے میڈیکل ہیلی کاپٹر روانہ کردیا، جس کے بعد شدید زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں پہنچایا گیا جہاں پہلے سے ایمرجنسی نافذ تھی۔ دھماکے کے بعد شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے اس کی ذمے داری قبول کرلی۔ یاد رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ واقعات کے باعث حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ماضی میں اسی وجہ سے بہت سے لوگ جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ خیال رہے کہ اس ایجنسی میں شدت پسند تنظیمیں بھی متحرک رہی ہیں جو وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتی رہی ہیں، تاہم بہتر سیکیوریٹی انتظامات کے باعث پچھلے کچھ عرصے سے یہاں امن قائم ہو چکا تھا، حالات کافی بہتر ہو چکے تھے، جب کہ لوگ بھی بے خوف و خطر ہو کر روزگار زیست میں لگے ہوئے تھے، جب کہ معاشی سرگرمیاں بھی پنپ رہی تھیں۔ تاہم 21 جنوری 2017ء اور گذشتہ روز اس درد ناک سانحے کے بعد ایک بار پھر علاقے میں خوف کی فضاء طاری ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال 21 جنوری کو بھی سبزی منڈی کی عیدگاہ مارکیٹ میں ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم 25 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو چکے تھے۔

فاٹا کے دیگر علاقوں کی طرح کرم ایجنسی میں بھی کافی عرصہ طالبان کا اثرورسوخ رہا ہے اور یہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا، جو 2011ء میں اختتام پذیر ہوا۔ اس آپریشن کے بعد اس علاقے میں امن قائم ہوگیا تھا۔ تاہم دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کی باقیات کہیں نہ کہیں کوئی واردات کرنے میں کام یاب ہوجاتی ہیں۔ تاہم موجودہ واقعے نے لوگوں میں پھر سے خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ اس لیے جہاں تک آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کا تعلق ہے تو اس سے عوام پُرامید ہیں کہ ردالفساد سے ملک میں فساد کی جتنی اور جس قسم کی بھی جڑیں ہیں ان تمام کا خاتمہ کیا جائے گا۔

مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ سیکیوریٹی اداروں کے ساتھ ساتھ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں، لکھاری و دانش ور، علماء کرام، سیکیوریٹی ایجنسیاں، صوبائی حکومتیں اور خصوصاً ہمارا میڈیا ایک ہی صف میں کھڑا ہو، کیوں کہ کہ آج ہم ایک خطرناک سماج میں رہتے ہیں اور یہ وہ سماج ہے کہ جس میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ سیاست داں ہوں یا عام آدمی، یہاں تک کہ اب ہمارے معصوم بچے، میڈیا، فوج اور پولیس بھی محفوظ نہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت ان جانے اور کبھی قابو نہ آنے والے دشمنوں کی زد میں آسکتا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان لوگوں سے عبادت گاہیں، مزارات، تعلیمی ادارے، عدالتیں اور جنازے بھی محفوظ نہیں، ملک کے درجنوں شہروں اور سیکڑوں قصبوں میں کوئی مسجد ایسی نہیں جہاں مسلح پہرے داروں کی موجودگی کے بغیر نماز ادا کی جاتی ہو، مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہیں اس سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں، ہمارے اسکول، کالج اور یونی ورسٹیاں بھی پولیس چوکیوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے جس عفریت کا آج ہم سامنا کررہے ہیں وہ غربت، معاشی ناہمواری، مذہبی شدت پسندی اور فرقہ پرستی سے پیدا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مذہبی عزائم میں معقولیت کی حد سے آگے نکل جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے عقائد دنیا میں سب سے زیادہ معقول اور سچے ہیں اور انہیں اپنے نظریات کو زورزبردستی سے نافذ کرنے کا حق ہے، لہٰذا پوری دنیا پر ان عقائد کی بالادستی قائم کرنا لازم ہے یہاں سے وہ ایک قدم آگے جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ چوں کہ وہ حق پر ہیں لہٰذا دوسروں کو ان کی پیروی کرنا ہوگی اور وہ اگر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو پھر ان کو ’’بے راہ روی‘‘ کی سزا بھگتنی ہوگی۔ ان کو طاقت کے استعمال کے ذریعے سیدھی راہ پر لایا جائے گا گویا بنیادپرست اور شدت پسند عناصر اپنے عقائد واقدار کو جارحانہ انداز میں دوسروں پر ٹھونسنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں، بنیاد پرستی کی ضد اعتدال پسندی یا میانہ روی ہے، خوش قسمتی سے اعتدال پسندی کو دنیا کے تمام مذاہب کی تائید حاصل رہی ہے۔ ہمارے دین اسلام میں بین المذہبی معاملات میں بنیادی اور راہ نما اصول قران حکیم کے الفاظ میں یہ ہیںکہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ آج کی بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں اس سے اچھا اصول اور کیا ہوسکتا ہے۔

ہماری سیاسی روایت کے برخلاف دہشت گردی، مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے آپریشن ضرب عضب کے ساتھ آپریشن ’’ردالفساد‘‘ پر بھی ہماری سیاسی اور عسکری قیادت باہم متحد دکھائی دے رہی ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کے تعلقات میں یہ ہم آہنگی اور توازن نیک شگون ہے۔ کاش کہ یہ ہم آہنگی اور توازن پہلے ہوتا تو آج ہمیں یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ اگر ماضی میں ہماری مقتدرقوتیں ملک کی لبرل، ترقی پسند اور قوم پرست جماعتوں کو کچلنے کی کوشش نہ کرتیں تو آج ملک کا نظریاتی، سیاسی اور معاشی نقشہ یہ نہ ہوتا۔ آج ملک میں مذہبی شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کا یہ حال کبھی نہ ہوتا، مگر افسوس کہ ہماری مقتدر قوتوں نے ابتدا سے ہی ملک کی ترقی پسند، روشن خیال اور قوم پرست قوتوں پر زمین تنگ رکھی، جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ بہرحال خوش آئند امر یہ ہے کہ دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کے حوالے سے بیش تر سیاسی جماعتوں نے اپنا پرانا روایتی موقف بدل ڈالا۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور اگر خدا نخواستہ ہماری قومی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف یہ موقع بھی ضائع کردیا اور عملاً اس کے خلاف موثر کردار ادا نہیں کیا تو اس کے نتائج ہم سب کے لیے انتہائی خطرناک ہوں گے۔

آج کی صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں پھیلی ہوئی دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کی جو سماجی، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی وجوہات ہیں، ہمیں ان وجوہات کو جانا اور سمجھا جائے کہ ’’یہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں‘‘ کیوں کہ دہشت گردی کا پودا اب تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے جسے پانچ اہم ذرائع سے توانائی مل رہی ہے، جغرافیائی یا جسمانی، معاشی، سیاسی اور افرادی قوت کی وافر مقدار میں دست یابی نے پاکستان کو دہشت گردوں کے پھلنے پھولنے کا عالمی صدر مقام بنادیا ہے۔ 1979ء سے آج تک ہمارا معاشرہ اور مقتدرقوتیں ایسے انتہاپسندوں کو نظریاتی پناہ گاہیں فراہم کرتی رہی ہیں، جہاں انہیں من چاہے انداز میں پھلنے پھولنے کے مواقع ملتے رہے، ان نظریاتی پناہ گاہوں میں تعلیمی اداروں بالخصوص پرائمری سطح کے امتیازی نصاب، درس گاہوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں نے یکساں منفی کردار ادا کیا ہے، بیرونی ممالک سے مالی وسائل مہیا ہوتے رہے، ملک کی کئی مذہبی اور سیاسی جماعتیں انتہاپسندی کے نظریات کے فروغ میں پیش پیش رہیں، دینی علوم کے نام پر قائم مدارس میں ایک قلیل تعداد ایسے مدارس کی بھی ہے جو مذہبی تعلیمات کی آڑ میں بچوں کے ننھے ذہنوں میں فرقہ پرست نظریات ٹھونستے ہیں۔ اس قسم کے مدارس مذہبی شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کے عزائم پورے کرنے کے لیے افرادی قوت فراہم کرتے ہیں، اگر ہم عسکریت پسندی کے تناور درخت کی صرف شاخ تراشی ہی کرتے رہے تو اس سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے، بل کہ ہمیں موجودہ ’’ردالفساد‘‘ کے ذریعے ملک ومعاشرے میں پھیلی ہوئی فساد کی تمام جڑیں کاٹنا ہوں گی۔

پارہ چنارمیں ہونے والے خوںریزواقعات
31 مارچ دوہزارسترہ کو پارہ چنار میں ہونے والا دھماکا یہاں کی تاریخ کا نواں دھماکا ہے، اس سے قبل بھی آٹھ دھماکے ہوچکے ہیں، جن میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل آٹھ دھماکے 2007ء کے بعد ہوئے ہیں، حالاں کہ اس سے قبل 80ء کی دہائی میں بھی پارہ چنار دھماکوں اور دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھا۔ تاہم اس وقت کے دھماکوں میں اتنا جانی نقصان نہیں ہوا تھا، جتنا نقصان اب تک ہوچکا ہے، جیسا کہ 4 اگست 2007ء کو عیدگاہ مارکیٹ میں پشاور فلائنگ کوچ اسٹینڈ سے چند میٹر کے فاصلے پر خودکش حملہ آور نے اپنی کرولا گاڑی سمیت خود کو دھماکے سے اڑا کر 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جب کہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ 16 فروری 2008ء کو مذکورہ مقام سے صرف دس میٹر کے فاصلے پر پشاور اسٹینڈ کے قریب جو دھماکا ہوا تھا اس میں 70 کے قریب افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، جب کہ سو سے زاید زخمی ہوئے تھے۔ 17 فروری 2012ء کو کرم بازار میں ایک اور دھماکا ہوا تھا جس میں تقریباً 14 افراد جان سے گئے تھے۔ اگست 2013ء میں ماہ رمضان میں زیژان روڈ اور شنگک روڈ پر یکے بعد دیگرے دو خودکش دھماکے کیے گئے تھے، جن میں 47 افراد جاں بحق اور سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ 13 دسمبر 2015ء کو عیدگاہ کے قریب لگی منڈی میں ریموٹ کنٹرول دھماکا ہوا، جس میں 30 سے زاید افراد مارے گئے، 21 جنوری 2017ء کو عیدگاہ مارکیٹ کے اندر واقع نئی سبزی منڈی میں ایک اور ریموٹ کنٹرول دھماکا کیا گیا جس میں 25 افراد جاں بحق اور 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website