counter easy hit

پاکستانی ثقافت کو فروغ دینے میں ناروے کے محفل ریسٹورنٹ کا کردار

Mehfel-Restaurant

Mehfel-Restaurant

تحریر: سید سبطین شاہ
بیرون ممالک میں کسی ملک کی ثقافت کو فروغ دینے کا کام تو سفارتخانوں اورسفارتی ثقافتی مراکز کا ہوتاہے لیکن کبھی کبھی نجی تنظیمیں اور شخصیات بھی ایساکام کرتی ہیں۔ ویسے تو اپنی ثقافت اور اقدارکا تحفظ تو ہر پاکستانی کا فرض ہے کیونکہ باہر رہنے والا ہر پاکستانی اپنے وطن کا سفیر تصورکیاجاتاہے۔اگرچہ اکثر سفارتخانوں کے عملے کا رویہ تو پاکستانیوں کے ساتھ جاناپہچاناہے لیکن پھربھی بہت سے پاکستانی اپنے محب الوطن ہونے کا ثبوت دیتے ہیں او ر اپنی ثقافت کے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔پاکستانی مشرق وسطیٰ میں ہوں یا یورپ میں، اپنی ثقافت کے فروغ کے لیے تقاریب منعقد کرکے اپنے آپ کو سرگرم رکھتے ہیں۔

بعض اوقات اداروں اور شخصیات کے ساتھ ریسٹورنٹ بھی ثقافت کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ریسٹورنٹ ناروے کے دارالحکومت اوسلومیں ہے جس کا پاکستانی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ہے۔ناروے ایک ایسا ملک ہے جہاں پاکستانیوں نے نہ صرف اپنے معاشی حالات درست کئے اور ناروے کی سیاست میں بھی بھرپورحصہ لیا، وہاں انھوں نے پاکستانی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے بھی بھرپورکردار اداکیا۔ ناروے کا سالانہ کثیرالثقافتی میلہ شروع کرانے اور پاکستانی ثقافت اورپاکستانی کھانوں کو متعارف کروانے میں نارویجن پاکستانیوں کا کردار کسی کے تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کے علاوہ چودہ اگست یوم آزادی پاکستان کے پروگراموں کاانعقاد ہویاتیئس مارچ یوم پاکستان کی تقریب، ان سب پروگراموں کا مقصد بھی پاکستانی ثقافت کو فروغ دینااور ناروے اورپاکستان کے مابین تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔

Culture

Culture

جیسا کہ پہلی سطور میں بیان کیا جا چکا ہے کہ ثقافت کو فروغ دینے اور امیج کو بہتر بنانے کی انہیں کاوشوں میں سے ایک کاوش محفل ریسٹورنٹ کی ہے، اس ریسٹورنٹ نے تقریباًایک عشرہ قبل پاکستانی کھانوں کو نارویجن اوردیگر غیرملکیوں میں متعارف کروایااور اس کے ساتھ ثقافتی محافل کا بھی باقاعدہ انعقاد شروع کیا۔ گذشتہ دنوں کئی سالوں کے بعد اپنے ناروے کے سفر کے دوران اوسلوکے محفل ریسٹورنٹ جانے کا اتفاق ہوا۔اگرچہ کافی عرصے کے بعد اس ریسٹورنٹ کودوبارہ دیکھنے اور اس کے مالک جنا ب سید طارق شاہ صاحب سے ملنے کاموقع ملا لیکن کھانوں کا معیار اور ریسٹورنٹ کے مالک کا رویہ گاہکوں کے ساتھ وہی تھا جو راقم نے پانچ چھ سال قبل ملاحظہ کیاتھا۔

اس ریسٹورنٹ میں کئی اعلیٰ شخصیات کھاناکھانے اور ثقافتی محافل میں شریک ہونے کے لیے آچکی ہیں ۔ ثقافتی پروگرام ہوں یا سیاسی تقاریب ، اس ریسٹورنٹ نے لوگوں کو ہمیشہ اچھی سروس دی۔ آج بھی کھانوں کی لذت اور معیار وہی ہے۔ یہاں خالص پاکستانی کھانے میسر ہیں۔ ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کاکہناہے کہ وہ اپنے کھانوں کے معیار پر کوئی سودابازی نہیں کرتے ۔ اعلیٰ معیارکے پاکستانی مصالحے استعمال کئے جاتے ہیں اور حفظان صحت کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھاجاتاہے۔ریسٹورنٹ کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے اسے اب تک کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔سیاسی شخصیات کی اس ریسٹورنٹ آمد کے حوالے سے اتناہی کافی ہے کہ 2007 میں جب بے نظیربھٹوپاکستان جانے سے چند ماہ قبل ناروے آئیں تو ان کی تقریب اسی ریسٹورنٹ میں منعقد ہوئی۔

Pakistani-Culture

Pakistani-Culture

ان کے علاوہ کئی اور پاکستانی اور دیگر ممالک کی شخصیات یہاں کھانا کھا چکی ہیں۔ ریسٹورنٹ نے پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے کئی ثقافتی محافل بھی منعقد کیں ہیں اور پاکستان کے نامور اداکاروں اور فنکاروں کو بھی یہاں مدعو کیا جا چکا ہے طارق شاہ کا کہتے ہیں کہ اگرچہ ان سے قبل ناروے میں پاکستانیوں کے ریسٹورنٹ تھے لیکن ان کے کھانے انڈین نام کے ساتھ متعارف تھے اور کوئی اس بات کے لیے تیارہی نہیں تھاکہ پاکستانی کھانوں پاکستانی نام کومتعارف کرائے۔

ان کی طرف سے پاکستانی کھانے متعارف کروانے کے بعد یہ کھانے نہ صرف نارویجن لوگوں میں مقبول ہوئے بلکہ کئی پاکستانی ریسٹورنٹ مالکان کوبھی یہ بات سمجھ آگئی کہ پاکستانی کھانے ناروے میں مقبولیت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کام میں محنت بہت زیادہ ہوئی اورکافی وقت لگا لیکن اس سے ملک کے امیج کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملی۔ پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے اور پاکستان کے بارے میں بہتر تاثرات قائم کرنے کا کام مشکل ضرور ہے لیکن ایسا کیا جا سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کواس طرح کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے چاہیے جو کسی معاوضے اورتنخواہ کے بغیرملک کے امیج کو بہتربنانے اور ثقافت کو فروغ دینے میں کوشاں رہتے ہیں۔

Sibtain-Shah

Sibtain-Shah

تحریر: سید سبطین شاہ