counter easy hit

پاکستان بھارت کو تاریخی شکست دے کر چیمپئن ٹرافی کا فاتح بن گیا

پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو بدترین شکست دے کر تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار ٹرافی اپنے نام کرلی۔

پاکستان کی جانب سے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 میں بھارت کو 339 رنز کا سب سے بڑا ہدف دیا گیا جس کے تعاقب میں بھارتی سورما بری طرح ناکام ہوئے اور شاہینوں نے بھارتی بیٹنگ لائن کو 158پر تہس نہس کرکے 181 رنز سے فتح اپنے نام کرلی۔

339 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں جب بھارتی اوپنر بلے باز میدان میں آئے تو محمد عامر کی تباہ کن بولنگ کے سامنے ٹک نہ سکے۔

پہلے ہی اوور میں محمد عامر کی بہترین بال پر روہت شرما بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے اور بھارت کو صفر پر پہلی وکٹ گنوانا پڑ گئی۔

محمد عامر کے ہی دوسرے اوور میں اظہر علی نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کیچ ڈراپ کردیا لیکن اگلی ہی گیند پر کوہلی شاداب خان کو کیچ دے بیٹھے۔

چیمپئنز ٹرافی کے فیصلہ کن معرکے میں محمد عامر نے بھارتی کپتان کو صرف 5 رنز بناکر ڈریسنگ روم واپس جانے پر مجبور کردیا اور بھارت کی دوسری وکٹ صرف 6 رنز پر گری۔

9 ویں اوور میں بھارت کا اسکور جب 33 پر پہنچا تو محمد عامر نے ہی شکھر دھون کو 21 رنز پر چلتا کردیا۔ وہ وکٹ کے پیچھے سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔

12 ویں اوور کی آخری گیند پر شاداب خان نے یووراج سنگھ پر ایل بی ڈبلیو کی جاندار اپیل کی لیکن امپائر نے آوٹ دینے سے انکار کردیا جس پر کپتان سرفراز نے امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ریویو لیا اور تھرڈ امپائر نے یووراج کو 22 رنز پر آوٹ قرار دے دیا۔

کھیل کے 14 ویں اوور میں حسن علی نے سابق بھارتی کپتان دھونی کو صرف 4 رنز پر چلتا کردیا۔ دھونی کا کیچ عماد وسیم نے پکڑا۔

72 کے مجموعی اسکور پر شاداب خان نے جادھو کو 9 رنز پر ڈریسنگ روم کی راہ دکھا دی۔

بھارت کی جانب سے ساتویں نمبر پر کھیلنے والے ہاردک پانڈیا نے جارحانہ انداز اپنایا اور 6 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 43 گیندوں پر 76 رنز بناکر نمایاں رہے۔ وہ 152 اسکور پر حسن علی کی گیند پر رن آوٹ ہوگئے۔

156 رنز کے مجموعی اسکور پر جنید خان نے جڈیجا کو 15 رنز پر آوٹ کردیا جب کہ اس کے فوری بعد حسن علی نے ایشون کو صرف ایک رن پر پویلین بھیج دیا جس کے بعد حسن علی نے بھمرا کو صرف ایک رن پر میدان بدر کردیا اور جیت پاکستان کی جھولی میں آگری۔

قومی ٹیم کی جانب سے محمد عامر اور حسن علی نے 3،3 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جب کہ شاداب خان نے 2 اور جنید خان نے ایک وکٹ حاصل کی۔

قومی ٹیم تاریخی فتح پر اوول اسٹیڈیم میں سربسجود ہوگئی۔

چیمپئنز ٹرافی کے فیصلہ کن معرکے میں شاندار سنچری جڑنے پر فخر زمان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

جب کہ حسن علی کو ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 13 وکٹیں لینے پر گولڈن بال اور مین آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا۔

گرین شرٹس نے چیمپئنز ٹرافی تھام کر اسٹیڈیم کا چکر لگایا اور عوام سے داد وصول کی۔

میچ کے بعد بات کرتے ہوئے قومی کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں، ٹیم کی کپتانی پر فخر ہے سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ ٹیم انتظامیہ اور کرکٹ بورڈ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے زیادہ تر کھلاڑی نوجوان تھے انہوں نے مایوس نہیں کیا، مجھے ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں پر فخر ہے۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ہم نے مثبت کرکٹ کھیلی اور کامیاب ہوئے، عامر اور دیگر بولرز نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، فخر زمان کی اننگز بہت عمدہ تھی جب کہ جیت کا تمام کریڈٹ بولرز کو جاتا ہے۔

اس سے قبل لندن کے کینگسٹن اوول گراؤنڈ میں بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پہلے گرین شرٹس کو بیٹنگ کی دعوت دی تو اظہرعلی اور فخر زمان نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا۔

کھیل کے چوتھے اوور کی پہلی گیند پر فخر زمان کو قیمتی چانس اس وقت ملا جب جیسپرت بھمرا کی گیند پر وہ وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے تاہم تھرڈ امپائر کے فیصلے نے گیند کو نو بال قرار دیا۔

دونوں اوپنرز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 128 رنز جوڑے تو اظہرعلی دائرے کے اندر ہی شارٹ کھیلتے ہوئے رنز لینے کے لیے دوڑے اور باآسانی رن آؤٹ ہوگئے، انہوں نے 71 گیندوں پر 59 رنز بنائے جس میں ایک چھکا اور 6 چوکے بھی شامل ہیں۔

اوپنر فخر زمان نے شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور 31ویں اوور میں اپنے کیرئیر کی پہلی سنچری مکمل کی۔ انہوں نے چوکا لگا کر 92 گیندوں پر 2 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 100 رنز مکمل کیے۔

فخر زمان اور بابراعظم نے دوسری وکٹ پر 72 رنز جوڑے اور قومی ٹیم کا مجموعی اسکور 200 تک پہنچا تو بلند شارٹ کھیلتے ہوئے فخر کیچ آؤٹ ہوگئے، انہوں نے 3 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 106 گیندوں پر 114 رنز بنائے۔

میچ کے 40 ویں اوور میں 247 رنز پر پاکستان کی تیسری وکٹ گری اور شعیب ملک صرف12 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

بابر اعظم نے بھی اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 46 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کے اسکور کو مزید آگے بڑھایا تاہم وہ اس سے آگے نہ بڑھ سکے اور 43 ویں اوور میں جادھو کی گیند پر کیچ آوٹ ہوگئے۔

محمد حفیظ نے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کی 31 ویں نصف سنچری مکمل کی اور وہ 57 رنز پر ناقابل شکست رہے جب کہ ان کے ساتھ عماد وسیم بھی 25 رنز پر ناٹ آوٹ آئے۔

بھارت کی جانب سے روی چندرن ایشون مہنگے بولر ثابت ہوئے جنہوں نے 10 اوورز میں 70 رنز دیئے جب کہ ہاردک پانڈیا، بھوونیشور کمار اور جادھو نے ایک ایک وکٹیں حاصل کیں۔ خیال رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں اس میچ کو شامل کرکے 5 مرتبہ آمنے سامنے آئیں جن میں سے پاکستان کو 3 میچوں میں فتح ہوئی۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website