counter easy hit

اے پی سی کاٹھ کی ہنڈیا ثابت ہوئی

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) اپوزیشن کی اہم اوربڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان حکومت کیخلاف چلائی جانیوالی تحریک کے حوالے سے دراڑیں پڑگئی ہیں اور اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمن کو منانے کی کوششیں بھی ناکام ہوگئی ہیں جبکہ میاں شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہ صرف اعلانیہ طورپر مولانا فضل الرحمٰن سے بعض معاملات پر معذرت کی تھی بلکہ اسی روز ان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کو جو قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں اپنے ہمراہ خصوصی ہیلی کاپٹر میں آزاد کشمیر لے کرگئے تھے جہاں انھوں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اور اس دوران آمدورفت میں بیشتر وقت وہ مولانا اسعد محمود کو اپنے موقف پرآمادہ کرتے رہے اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے وضاحتیں پیش کرنے کیلئے بھی تیار تھے۔لیکن اپنے والد کا پیغام پہنچانے کے بعد مولانا اسعد محمود نے مظفر آباد سے انھیں فون کیا اور میاں شہباز شریف کے موقف کے حوالے سے تفصیلی طورپرآگاہ کیا۔ جسے مولانا فضل الرحمن نے مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن جنھوں نے کراچی میں آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو اور لاہور میں میاں شہباز شریف سے ملاقاتیں کر کے عید کے فوری بعد آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پرآمادہ کیا تھا اور احتجاج کے حوالے سے تحریری معاہدے کی شرط بھی رکھی تھی۔ لیکن تذبذب کے ساتھ آمادگی کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل حکومت اوراپوزیشن کے درمیان جو غیراعلانیہ رابطے اور معاہدے ہوئے ان میں جے یو آئی کو قطعی طورپرنہ صرف نظرانداز کردیا گیا تھا بلکہ انھیں کسی بھی حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور اجلاس میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل اور انسداد دہشتگردی ترمیمی بلز کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دیا جبکہ جے یو آئی کی جانب سے ان بلز کی مخالفت کی گئی تھی۔ بلز کی منظوری کے موقع پر اوراجلاس کے اختتام پر جے یو آئی کے ارکان نے اس حوالے سے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ جس کے جواب میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے خاموشی اختیار کی تھی۔ جے یو آئی کے ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے تمام پیش رفت لندن میں موجود میاں نواز شریف کی یقین دہانیوں پر کی تھی۔ جنھیں پاکستان میں نظرانداز کردیا گیا۔ مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کی ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی نے قبول کی تھی اب یہ انھیں کی ذمہ داری ہے ان ذرائع کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے سات ستمبر کو کوئی نئی تحریک چلانے کی کال نہیں دی بلکہ یہ اس تحریک کا تسلسل ہوگا جو کورونا کے باعث موخر کردی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن جو ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں پیر کو اسلام آباد آئیں گے تاہم اس تمام صورتحال کے تناظر میں اب اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور حکومت کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی تحریک چلائے جانے کے امکانات فی الوقت تقریباًختم ہوچکے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website