counter easy hit

قومی اسمبلی میں گرما گرم بحث، اپوزیشن آنا شروع کرے انکی تمام تحاریک لی جائینگی، ہمارا طیارہ ملائشیا نے روک لیا اور وزیرخارجہ پارلیمانی امور نمٹا رہے ہیں

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما نوید قمر کو بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک التواء پیش کرنے کی اجازت نہ دیئے جانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تحریک التوا پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کو تحریک التوا پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا گیا تو اس پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ لوگ قومی اسمبلی میں باقاعدگی سے آنا شروع کریں تو آپ کی ہر تحریک پر بات کی جائیگی اور اسے ایجنڈے میں بھی شامل کیا جائیگا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور میں تحریک التوا جو بہت اہم ہوتی تھیں ان کو بھی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب اس حوالے سے آواز اٹھائی جارہی ہے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ گزشتہ روز بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے کیا اس پر اسمبلی میں بات نہیں ہونی چاہیے پارلیمنٹ کے باہر خواتین 18دن سے احتجاج کر رہی ہیں پمز میں احتجاج ہو رہا ہے کیا ان کے حوالے سے اسمبلی میں بات نہیں کی جانی چاہیے کیا ہم ان کے احتجاج میں جا کر تقریریں کریں ویڈلاک پالیسی کے تحت اسلام آباد میں نوکریاں کرنے والوں کو نکال دیا گیا جو پورے ملک سے آئے ہیں اگر ہم ان تمام چیزوں کو اگر اسمبلی میں نہ لائیں تو ہم کدھر جائیں گے اس پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا کہ ہم آپ کی تحریک التوا کو کل کے ایجنڈے میں شامل کرینگے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آج ہی ایجنڈے میں شامل کیا جائے آپ عوامی ڈپٹی اسپیکر ہیں اور اسمبلی 22,کروڑ کی نمائندگی کرتی ہے ، اس پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نوید قمر کی تحریک التوا کو جمرات کو لگا دیتے ہیں یہ اپوزیشن کی کارکردگی کی وجہ سے آج ملک کی یہ حالت ہے۔ سندھ حکومت نے عمر کوٹ کے الیکشن میں مداخلت کی ہے اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے نوید قمر کو بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تحریک التوا پیش کرنے کی اجازت دے دی اس پر وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ ہم اس تحریک التوا کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اور اب جب اپوزیشن کو جواب ملے گا تو یہ بھاگ جائیں گے اس پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جس زبان میں آپ بات کریں گے اسی زبان میں ہم جواب دینگے۔ اس پر عمر ایوب نے کہا کہ جب ہم نے اپوزیشن کو آئینہ دیکھایا تو یہ واک آؤٹ کر جائیں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ملائشیا نے ہمارا جہاز روک لیا تھا اور خارجہ پالیسی سب کے سامنے ہے اور وزیر خارجہ پارلیمانی آمور کے وزیر کے بھی جواب دے رہے ہیں۔ اس پر وزیر مملکت نے کہا کہ شاہ محمود قریشی گزشتہ پانچ سال ہمارے پارلیمانی لیڈر رہے ہیں کل اپوزیشن نے وعدہ کیا لیکن وہ نہیں آئے اور ایک غیر منتخب نمائندے کے نیچے میٹنگ کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کے اجلاس کی سربراہی ایک منتخب لیڈر کو ہی کرنی چاہیے لیکن اس اجلاس کی وجہ سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کیا اور ایک غیر منتخب پارٹی کی نائب صدر غیر منتخب لیڈر کی سربراہی میں اجلاس میں بیٹھے رہے ہیں۔ وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی وفد سے ملاقات کا وعدہ کرنے کے باوجو ‘غیر منتخب شخص’ کی صدارت میں اجلاس میں شر کت کی۔ قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کو مخاطب کرکے علی محمد خان نے کہا کہ ‘جب آپ لوگ بھی کوئی وعدہ کریں تو پورا کریں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پچھلے ہفتے آپ لوگوں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ لوگ آئیں گے اور پارلیمنٹ کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے اسپیکر آفس میں بیٹھ کر تبادلہ خیال ہو گا’۔ اجلاس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘ہم لوگ اسپیکر کے دفتر میں آئے، پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کے دیگر متعدد لوگ بھی آئے لیکن نہیں آئے تو مسلم لیگ (ن) کے لوگ تھے، پتہ نہیں انہیں مائیک کے سامنے آئین یاد آجاتا ہے جیسے ہی باہر جاتے ہیں سب کچھ بھول جاتے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘کم از کم آپ کو بتانا ضروری تھا کہ کیوں نہیں آرہے ہیں کیونکہ کوئی شریف آدمی وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے اورقرآن بھی کہتا ہے وعدہ کرو تو پورا کرو تو ہم کل آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے لیکن آپ لوگ پتہ نہیں کدھر تھے’۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی اجلاس میں نائب صدر مریم نواز کی شرکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ ‘آپ لوگ شاید وہاں تھے جہاں ایک غیر منتخب شخصیت اپوزیشن کے 100 اراکین کے اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘پھرہمیں کہا جاتا ہے کہ ووٹ کو عزت دو، آپ نے کل بڑی عزت دی ووٹ کو، لاکھوں ووٹ لینے والے ایک غیر منتخب شخصیت کے نیچے اس مقدس پارلیمنٹ ہاؤس میں شرکت کی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ بے شک جا کر مسلم لیگ (ن) کے سینٹرل آفس میں اجلاس کریں لیکن جمہوریت اور ووٹ کو عزت دو کا تقاضا ہے کہ اس مقدس ایوان کے سایے میں جتنے اجلاس ہوں منتخب لوگوں کی صدارت منتخب لوگ کریں’۔قبل ازیں احسن اقبال نے اعتراض کیا تھا کہ اس حکومت میں پارلیمانی امور کے مشیر اور ایک وزیر مملکت بھی ہیں لیکن جب بھی کوئی پارلیمانی معاملہ آتا ہے تو وزیرخارجہ کھڑے ہو کر پارلیمانی امور کا فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ذمہ داری خارجہ معاملات کو دیکھنا ہے، ہمیں سنگین خدشات ہیں کہ خارمہ امور متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ملائیشیا میں ہمارا جہاز کھڑا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اقوام متحدہ نے پابندی لگا دی ہے کہ پاکستانی ایئرلائن پر سفر نہیں کیا جاسکتا جبکہ افغانستان کی ایئرلائن منظور ہوگئی ہے، کشمیر کے مسئلے پر بھارت دن دہاڑے اپنا قبضہ مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر خارجہ پاکستان کا وزیر پارلیمانی امور بنا ہوا ہے تو پاکستان کی وزارت خارجہ کون چلا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ ذلت دیکھنی پڑی ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website