counter easy hit

الہی خیر

Operation Zarb-e-Azb

Operation Zarb-e-Azb

تحریر: انجینئر افتخار چودھری
اور جان لیجئے کہ اگر آپریشن ضرب عضب کے ہاتھ پنجاب تک نہیں پہنچتے تو اس سے قومی یک جہتی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا اور قوم آصف علی زرداری اور الطاف حسین کی باتوں کو سچ ماننا شروع کر دے گی کہ یہ آپریشن ایک خاص طبقے پارٹی اور کمیونٹی کے لئے شروع کیا گیا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کراچی کھل چکا ہے اور پاکستان کا معاشی حب ایم کیو ایم کے شکنجے سے چھڑا لیا گیا ہے لیکن یہ چیز بھی تو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کو صرف ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ہی نہیں لوٹا اسے پنجابی بیوروکریسی پنجابی سیاست دانوں سمیت دوسرے صوبوں کے لوگوں نے بھی شیر مادر سمجھ کر لوٹا ہے۔

یہ بڑی زبردست بات کی گئی کہ چور کا کوئی صوبہ اور پارٹی نہیں ہے وہ پی ٹی آئی کا بھی چور ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون جمعیت علمائے اسلام غرض ہر پارٹی کا چور ہے اگر ثابت ہو جائے کہ اس نے قومی وسائل کو لوٹا ہے۔ آج ایک اینکر کہہ رہے تھے کہ فوج نے نواز شریف صاحب سے مک مکا کر لیا ہے کہ ہم خارجہ پالیسی دفاع کشمیر کے معاملات آپ پر چھوڑتے ہیں لیکن اس کے بدلے آپ احتساب کا دائرہ ہم تک نہیں لائیں گے۔مجھے سچی بات ہے اس بات کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے لیکن دل مان اس لئے رہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کے بعد پنجاب میں کوئی کاروائی نہیں ہوئی شنید تھی کہ اب دائرہ اس ملک کے صاحبان اقتتدار کے گھر تک پہنچنے والا ہے لیکن دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا۔پہلے سے بھی زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

وہ وزراء جو اپنے آپ کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ رہے تھے وہ بڑے اعتماد سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔کیا کاروائی ہوئی ہے کیا رانا مشہود سلاخوں کے پیچھے ہے؟کیا نندی پور جیسے پراجیکٹ کے گھپلوں ایل این جی کے معاملات اور دیگر بڑے سکیم جو منظر عام پر آئے ہیں ان پر کوئی ایکشن ہوا؟اگر کوئی ہوا ہے تو سامنے کیوں نہیں آ رہا۔آج تو نندی پور کے داغ کو دھونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ہمیں میاں نواز شریف کے دورہ امریکہ اس سے پہلے جنرل اسمبلی میں خطاب میں صاف نظر آ رہا کہ اس میں ملٹری اسٹیبلیشمنٹ پس پردہ اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔اور وہ کردار حقیقتا ہمارے قومی مو ء قف کی عکاسی کرتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ یہ وہی میاں نواز شریف ہیں جو کہا کرتے تھے کہ ہم بھی اسی رب کو پوجتے ہیں جنہیں بھارتی پوجتے ہیں بس درمیان میں ایک لکیر سی ہے۔

فوج کا عالم یہ ہے کہ ہر پاکستانی جنرل راحیل کی تعریف میں رطب اللسان ہے مگر پنجاب میں آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ضرب عضب کو ضرب غضب نہ بنایا گیا تو لوگ باتیں کرنا شروع کر دیں گے۔یہ بات ہمیں یاد رکھنا ہو گی کہ بنگلہ دیش کے قیام کی بڑی وجہ یہی تھی کے ایک علاقے کی فوج دوسرے پر چڑھ دوڑی تھی۔اور بھارتی پریس نے پنجابی استعمار کی اصتلاح استعمالکی تھی جس کا آگے چل کر بڑا نقصان ہوا جھوٹ بول بول کر دنیا کو بتایا گیا کہ پنجابی فوج بنگالیوں پر ظلم کر رہی ہے۔پیپلز پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ اقتتدار میں ہوتی ہے تو چاروں صوبوں کی زنجیر بن جاتی ہے اور جب اقتتدار سے باہر تو زنجیر توڑنے کی بات کرتی ہے۔

جناب زرداری آگ کے شعلے اگل رہے ہیں۔ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ان کی پارٹی کے لٹیروں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ چور ادھر ہیں تو مسلم لیگ نون میں بھی ہیں ان کو کیوں نہیں پکڑا جاتا ایم کیو ایم کا بھی یہی کہنا ہے کہ ہمارے پکڑتے ہو تو پنجاب اور دیگر صوبوں کے کیوں نہیں پکڑتے۔اب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے وہ غلط کہہ رہے ہیں؟اگر غلط نہیں تو پھر جانے پہچانے ڈاکوئوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا؟پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اس مو ء قف کی ہر ذی شعور تائید کرے گا۔

ان کالموں میں میرا جنرل راحیل شریف صاحب سے درخواست ہے کہ وہ دیر نہ لگائیں۔میں لکھے دیتا ہوں کہ اگر پنجاب تک آپریشن نہیں بڑھایا جاتا تو یاد رکھئے پاکستان کے انصاف پسند لوگ ان پر شک کی نگاہ اٹھانا شروع کر دیں گے اور میرے نزدیک وہ دن برا دن ہو گا۔مدتوں بعد پاکستانی قوم کو ایک ایسا جرنیل ملا ہے جو پاکستان کے دشمنوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے۔جس نے جنرل مشرف کے لگائے ہوئے زخم ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہی کے ہوتے ہوئے پاکستان کے غاصبوں پر ہاتھ نرم کر دیا گیا ہے۔کیا جنرل راحیل شریف تھک گئے ہیں۔انہیں کم از کم اس بات کا تو پتہ چل گیا ہو گا کہ ایک جعلی سروے کے ذریعے مقبولیت میں شہباز شریف سے بھی نیچے دکھایا گیا ہے۔

اس کا کیا مطلب ہے نام پلڈاٹ کا لیا جا رہا ہے اور ہے سروے ایک ممدوح کی کمپنی کا۔اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے کس کے اشارے پر ہو رہے ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ کون پس پردہ تاریں ہلا رہا ہے؟میرے خیال میں پاکستان جو تیزی سے استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپریشن کرتے ہوئے انصاف کیا جائے۔تا کہ وہ لوگ جو اب یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ فوج اور سول انتظامیہ مک مکا کر چکی ہیں ان کی زبان بند ہو۔ اور اسے سراسر جھوٹ کہا جا سکے۔الہی خیر

Engineer Iftikhar Chaudhry

Engineer Iftikhar Chaudhry

تحریر: انجینئر افتخار چودھری
iach786@gmail.com