counter easy hit

بچوں میں غذائی قلت، ذمہ دارکون؟

Nutrition deficiency in children, responsive?

بچوں کی اہمیت کون نہیں جانتا،انسان کی خوشیوں کاسبب،مستقبل کاسہارا،جینے کی وجہ،جن کی مسکراہٹ دیکھ کرغموں سے چوردل بھی خوشی سے باغ باغ ہوجاتے ہیں،جنہیں کامیاب انسان بنانے کیلئے انسان صبح سے شام تک کوشش اورمنصوبہ بندی کرتاہے، بچوں کی اہمیت خاص طورپروہ لوگ زیادہ جانتے ہیں جو اِن سے محروم ہیں۔۔بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت اورصحت کے بارے میں انتہائی زیادہ حساس ہیں مگرکہیں اس حوالے سے غفلت بھی پائی جاتی ہےیہی وجہ ہے کہ یہ بچے بہت سی چیزوں میں کمی کاشکارہوجاتے ہیں،تعلیم وتربیت اورخاص طورپرصحت کے پیچیدہ مسائل کاسامنارہتاہے،بچے تونہ سمجھ ہوتے ہیں انہیں صحت کے مسائل سے دوررکھنے کیلئے جہاں مختلف حکومتی ادارے قائم ہیں وہیں والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ حفظان صحت کے اصولوں پرعمل پیرا رہیں۔یہ ذمہ داری شروع دن سے عائد ہوتی ہے۔بچے کی آنکھ کھولنے سے بھی پہلے کہ جب اس کے وجود کی تخلیق کاآغازہوجاتاہے،اس میں ذرہ بھربھی کوتاہی خوفناک نتائج کی وجہ بن سکتی ہے۔ شیرخواربچوں کی صحت کاانحصار بہت سی چیزوں پرہوتاہے جن میں ماں کی صحت،حفظان صحت کے نظام میں خامی،قوت مدافعت کی کمی اورناقص غذا نمایاں ہیں۔ماہرین کے مطابق جہاں حاملہ خواتین کواپنی صحت اورخوراک کاخیال رکھناضروری ہے وہیں بچے کی پیدائش کے بعداسے ماں کادودھ مقررہ عرصے تک پلاناضروری ہے۔اگرمائیں اس چیز کاخیال رکھ لیں توشیرخواربچوں کی شرح اموات میں کمی اورانہیں صحت مندزندگی فراہم کرنے میں بڑی مددمل سکتی ہے لیکن اکثرماؤں میں اس دودھ کی بچوں کیلئے اہمیت بارے آگاہی نہیں اوروہ خود کواس ذمہ داری سے جلدازجلدالگ کرکے بچوں کے منہ میں فیڈرتھمادیتی ہیں، اس لاپرواہی سے کیاکیامسائل پیداہوتے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہےجس پربہت کچھ لکھاجاسکتاہے۔ جب مائیں بچوں کی پیدائش سے انہیں صحت مندخوراک سے محروم کردیتی ہیں تویہ سلسلہ پھران کی زندگی میں مزیدآگے بڑھتاجاتاہے اوربچے رفتہ رفتہ غذائی قلت کاشکارہونے کی طرف بڑھتے ہیں جس کاانجام موت کی صورت میں بھی نکلنے کے خدشات ہوتے ہیں جو والدین کیلئے ناقابل فراموش صدمہ ہوتاہے،پاکستان میں غذائی سروے کی حالیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعدصورتحال تشویشناک نظرآرہی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ملک میں ہردس میں سے چاربچے غذائی قلت کاشکارہیں،ہرتیسرے بچے کاوزن نارمل سے کم ہے،بلوچستان اورفاٹا میں یہ شرح سب سے زیادہ ظاہرکی گئی ہے۔یونیسف اوروزارت صحت کی ملک گیرنیوٹریشن سروے رپورٹ دوہزاراٹھارہ،انیس کے مطابق غذائی قلت کاشکار بچوں کی تعدادچالیس اعشاریہ دوفیصدہے جن میں لڑکوں کی تعدادزیادہ ہے۔پانچ سال سے کم41فیصدلڑکے،پانچ سال سے کم عمرانتالیس اعشاریہ چارفیصدلڑکیاں غذائی کمی اورانتیس فیصدبچے وزن کی کمی کاشکارہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ ملک میں ساڑھے نوفیصدبچوں کاوزن زیادہ ہے اورسات سالوں کے دوران موٹاپے کی جانب مائل ہوتے بچوں کی تعداددگناہوگئی ہے۔دوہزارگیارہ میں فربہ بچوں کی شرح پانچ فیصدجب کہ دوہزاراٹھارہ میں یہ تعداد ساڑھے نوفیصدہوچکی ہے۔اسی طرح تقریبا ساڑھےاڑتالیس فیصدبچوں کوہی ماں کادودھ پلایاجاتاہے،یہ رجحان خیبرپختونخواہ میں زیادہ ہے جوساٹھ اعشاریہ آٹھ فیصدبتایاگیاہے۔ماہرین کے مطابق غذائی کمی کاشکاربچوں میں مختلف امراض کیخلاف مدافعت کم ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کئی امراض تیزی سے پھیل رہی ہیں۔نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق پانچ سال تک کی عمرکے تقریبا چالیس فیصدبچوں کے قدچھوٹے رہ گئے ہیں۔ مارچ دوہزارسترہ میں بھی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اورحکومت پاکستان نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کچھ اعدادوشمارظاہرکیے گئے،،اس رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کی وجہ سے پیداہونے والے صحت کے مسائل سے پاکستان کوہرسال ساڑھے سات ارب ڈالرکامعاشی نقصان اٹھاناپڑتاہے۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیاتھا کہ پاکستان میں ہرسال ایک لاکھ77ہزارسے زائدپانچ سال کی عمرتک پہنچنے سے قبل بچے اس لیے موت کے منہ میں چلتے جاتے ہیں کیوں کہ وہ خود اوران کی مائیں غذائی کمی کاشکارہوتی ہیں لہذا جہاں بچوں کی خوراک کاخیال ضروری ہے وہیں ماؤں کی صحت اوران کی متوازن غذاکی اہمیت سے بھی انکارممکن نہیں۔ پاکستان کے بہترمستقبل کیلئے فکرمندافراد،حکومت اوراس کے اداروں کیلئے بچوں کی غذائی قلت سب سے اہم مسئلہ ہوناچاہیے کیوں کہ اگرہم نے مل جل کراگلی نسل کوترقی یافتہ ملک دیناہے توپھراس نسل کوصحت کے مسائل سے بھی بچانے کیلئے کمربستہ ہوناچاہیے جہاں محکمہ صحت اوربچوں کے حوالے سے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کو آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے وہیں پنجاب فوڈاتھارٹی کاکردار بھی انتہائی اہمیت کاحامل ہے اوران کے ذمہ داراپنے پیشہ وارانہ فرائض سے اچھی طرح آگاہ بھی نظرآتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بازاروں سے ملنے والی خوراک کامعیارپہلے کی نسبت بہترہواہے مگراس میں مزیدبہتری کی ضرورت ہے،اپنی اپنی جگہ پراپنی ذمہ داریوں کواگراچھی طرح پورا نہ کیاگیاتوآنے والے دنوں میں صورتحال مزیدگھمبیرہونے کاخدشہ ہے۔سب سے بڑاکام عوام اورخاص طورپرماؤں میں آگاہی دیناہے جہاں شادی شدہ خواتین پرزروردیناوقت کی ضرورت ہے وہیں مستقبل کی ماؤں کوٖغذاکی اہمیت اوراس کی قلت کے خطرناک نتائج سے باخبرکرنے پرپوری طاقت لگاناہوگی تبھی ہم اپنی اگلی نسل کوصحت مندبناسکتے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website