counter easy hit

نیا سال اور آزاد صحافت کو درپیش چیلنج

آزادیٔ صحافت اس صدی کے آغاز سے خطرے میں ہے، مگر صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرداں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال کوئی صحافی قتل نہیں ہوا۔ گزشتہ سال کوئٹہ کے سول اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں خودکش حملے میں 100 سے زائد وکلا کے علاوہ دو فوٹو جرنلسٹس محمود خان اور شہزاد احمد ہلاک ہوئے تھے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو مختلف نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ غیر ریاستی کرداروں پر مشتمل پریشر گروپ خبر کے قتل اور اپنی مرضی کے مواد کو خبر کے طور پر پیش کرنے کے لیے دھمکیاں دیتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان پریشر گروپوں کی سرکوبی نہیں کرپاتیں، اس طرح صحافی سیلف سنسرشپ کا طریقہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ سال ایک حساس خبر کی اشاعت کے بعد آزادئ صحافت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے تھے۔ وفاقی حکومت نے اس خبر کی اشاعت کے ذمے دار رپورٹر کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی تھی مگر صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر یہ پابندی ختم کردی گئی تھی ۔ اس وقت پریس کونسل کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ خبر کے ذرائع کا تحفظ صحافی کا بنیادی حق ہے، صحافی اس حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

عوام کے جاننے کے حق کی توثیق کے لیے صحافیوں کی یہ ذمے داری ہے کہ ریاست کے تینوں ستونوں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ اور ان کے انتظامی اداروں کے بارے میں عوام کو اطلاعات فراہم کریں اور عوام کے جاننے کے حق کے تناظر میں قومی مفاد کی تشریح ہونی چاہیے۔ صحافت کے استاد ڈاکٹر عرفان کا کہنا تھا کہ ہر دور میں قومی مفاد کی تعریف مختلف رہی ہے۔ برطانوی ہند حکومت نے ہندوستان کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کے مطالبے کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا۔ ہندوستان کی صحافت کی تاریخ میں بہت سے ایسے صحافیوں کا ذکر ملتا ہے جو ہندوستان کی آزادی کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے جرم میں سزا وار قرار پائے۔ ذرائع کے تحفظ کے لیے مولانا حسرت موہانی کا نام سرفہرست ہے۔

ان کے رسالے اردو معلی میں مصر کی صورتحال کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس مضمون پر مصنف کے حقیقی نام کے بجائے قلمی نام درج تھا۔ انگریزی سرکار نے رسالہ کے مدیر مولانا حسرت موہانی کو پیشکش کی تھی کہ وہ مصنف کا حقیقی نام ظاہر کردیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی مگر حسرت نے صحافت کی تابناک روایت پر عمل کرتے ہوئے مضمون کے مصنف کا نام ظاہر نہیں کیا۔ انگریز حکومت نے ایک خصوصی عدالت میں یہ مقدمہ بھیج دیا۔ خصوصی عدالت کے جج نے بھارت کی ریاست اترپردیش کے دور افتادہ علاقے میں حسرت موہانی کے خلاف مقدمہ چلایا تھا اور حسرت کو 2 سال قید اور 500 روپے جرمانہ کی سزا دی تھی۔ حسرت نے استقامت سے جیل کاٹ لی تھی مگر جرمانہ ادا نہ کرنے پر ان کا قیمتی اثاثہ یعنی لائبریری کی کتابیں نیلام کردی گئیں۔ لیکن حسرت نے کبھی اس مضمون کے مصنف کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔

خبر کے ذرائع کے تحفظ کے لیے وفاق کی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں خبر کے ذرائع کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، اسی طرح برطانیہ اور امریکا کی عدالتوں نے بھی خبر کے ذرائع کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی ہے۔ ایسی ہی قانون سازی کی ملک میں سخت ضرورت ہے۔ جاننے کے حق کے لیے کوئی قانون سازی مہم نہ ہونے کی بنا پر عوام اور صحافیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے جامع قانون کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو شہید اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کے درمیان 2010 میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ جب دونوں برسر اقتدار آئیں گی تو جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے آئینی ترمیم کریں گی۔ دونوں جماعتوں نے 18ویں ترمیم میں آرٹیکل اے- 19 شامل کرکے اپنے  وعدے کی تجدید کی تھی۔ 2013 میں آرٹیکل اے- 19 کے مطابق پختونخوا اور پنجاب میں جامع قانون سازی ہوئی، مگر وفاق، سندھ اور بلوچستان میں پرانے قوانین ہی نافذ رہے۔ صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے وفاق، سندھ اور بلوچستان میں ان قوانین کو بہتر کرنے کے لیے کوششیں کیں۔ سینیٹر فرحت اﷲ بابر، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ وعدے کرتے رہے۔

پیپلز پارٹی کے مرد آہن سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے سینیٹ میں جاننے کے حق کے لیے ایک مسودہ پیش کیا۔ سینیٹ نے اس مسودے کو منظور کرلیا مگر مسلم لیگ کی حکومت اس مسودے کو قومی اسمبلی میں پیش کرکے قانون بنانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے ایک قانون کا مسودہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کو پیش کیا مگر قائم علی شاہ اس کو اسمبلی میں پیش نہیں کرپائے۔ سندھ کے اطلاعات کے مشیر مولا بخش چانڈیو نے جو عوامی مسائل پر زوردار تقاریر کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، سی پی این ای کے مشاورتی اجلاس کے بعد غیر رسمی ملاقات میں واضح کیا کہ سول سوسائٹی کو اس قانون کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے (سندھ حکومت اس ضمن میں قانون سازی کے لیے تیار نہیں ہے)۔ سینیٹر فرحت اﷲ بابر گزشتہ دنوں سول سوسائٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی آئے اور ان سے پوچھا گیا کہ حکومت سندھ اس قانون کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے تو انھوں نے خاموشی اختیار کرلی۔

وفاق اور تین صوبوں میں قانون کمزور ہونے کی بنا پر معروضی رپورٹنگ میں کئی مسائل درپیش ہیں۔ قانونی طریقے سے مصدقہ دستاویزات حاصل نہ ہونے کی بنا پر دستاویزات کے حقیقی اور جعلی ہونے کی بحث باقی رہتی ہے، جس کا فائدہ بدعنوان عناصر کو ہوتا ہے۔ آزادیٔ صحافت کو ایک خطرہ ایجنڈا جرنلزم سے ہے۔ بعض صحافی اخبارات اور ٹی وی چینلز مخصوص ایجنڈا کی بنا پر خبریں شائع کرتے ہیں۔ یہ خبریں معروضی حقائق سے دور ہوتی ہیں، اس طرح زرد صحافت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں بعض عناصر کو میڈیا کے خلاف پروپیگنڈا کا موقع ملتا ہے۔

مجموعی طور پر میڈیا کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ اخبارات میں ایڈیٹر کا ادارہ کمزور ہونے اور الیکٹرانک چینلز میں ایڈیٹر کا ادارہ قائم نہ ہونے کی بنا پر پاکستانی صحافت کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کے صحافی دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے سخت صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان جنھوں نے نائن الیون کے بعد اخبارات کی صورتحال پر تحقیق کی ہے، کا کہنا ہے کہ 1947 سے 1988 تک ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد صرف چند تھی، پھر یہ تعداد دو ہندسوں پر پہنچ گئی اور نائن الیون کے بعد سے گزشتہ سال تک 150 صحافی ہلاک ہوئے۔

پولیس صرف ایک امریکی صحافی کے قاتلوں کو گرفتار کرسکی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے دنیا کے تین خطرناک ممالک میں ہونے لگا تھا مگر گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے بعد صورتحال میں خاصی مثبت تبدیلی آئی اور گزشتہ سال کوئی صحافی قتل نہیں ہوا۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے یہ تبدیلی رونما ہوئی اور صحافیوں کو تحفظ کا احساس ہوا، جس سے ان کی کارکردگی کا معیار بلند ہوا، مگر جاننے کے حق اور خبر کے ذرائع کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی نہ ہونے، صحافیوں کے معروضیت کی اہمیت کو نہ محسوس کرنے اور بعض مفاد پرست عناصر کے دباؤ پر بعض میڈیا ہاؤسز کے ایجنڈا صحافت کو تقویت دینے سے پاکستانی صحافت کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ نیا سال نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔ امید ہے کہ اس سال پاکستانی صحافت ان چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہوگی۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website