counter easy hit

پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ امن ہوگا نہ جنگ!

Neither war, nor peace between Pakistan and India, a column by Najam Sethi on 27 Nov 2016

Neither war, nor peace between Pakistan and India, a column by Najam Sethi on 27 Nov 2016

انڈیالائن آف کنٹرول اور پاکستان کے انٹر نیشنل بارڈر پر مسلسل فوجی تنائو بڑھا رہا ہے ۔ اس سے پہلے 2003 ء سے لے کر اب تک فائر بندی کا معاہدہ کامیاب رہا تھا یہاں تک کہ انڈیا میں مود ی سرکاراقتدار میں آگئی۔ اب اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے ؟جب نریندر مودی بھارت کے وزیر ِاعظم بنے تو یہ بات واضح تھی کہ اُن کے اقتدار میں حکمران جماعت، بی جے پی، پاکستان کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کرے گی جیسا اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی کے دورمیں دیکھنے میں آیا تھا۔ ان دونوں رہنمائوں نے پاکستان کے ساتھ تاریخی امن قائم کرنے کی کوشش میں اپنے سیاسی کیریئر کو دائو پر لگادیا۔ ایڈوانی کے کراچی دورے اور واجپائی کے لاہور دورے اُس پالیسی کے سنگ ِ میل تھے ۔
جہاں تک نریندرمودی کا تعلق ہے تو اُنھوںنے اپنا سیاسی کیریئر ہی مسلم آبادی سے دشمنی اور مغربی معیشت کی آزاد مارکیٹنگ کے رجحانات کی طرف جھکائو کی بنیاد پر استوار کیا ہے ۔ اس کی وجہ سے وہ پاکستان کے بارے میں سخت گیر موقف اور امریکہ کی طرف جھکائو کی پالیسی رکھتے ہیں۔ بھارتی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر، اجیت دوول نے ایک نیا بیانیہ، ’’جارحانہ دفاع‘‘ آگے بڑھایا ۔ اس کا تعلق پانچ امور سے ہے ۔ پہلا کشمیر میں جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے انتخابات اور کولیشن سازی اوراس کے بعد وحشیانہ کریک ڈائون کرنا۔ دوسرا، لائن آف کنٹرول کو گرم کرتے ہوئے سرحد پار مداخلت کو روکنا ۔ تیسرا ، کراچی اور بلوچستان میں اپنے پراکسی دستوں کو متحرک کرنا ۔ چوتھا، کابل میں پاکستانی اثر کو کم کرنا، اور پانچواں، پاکستان کو ’’دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست ‘‘ کے طور پر پیش کرکے عالمی تنہائی سے دوچار کرنا۔ دوول ڈاکٹرائن کےپانچوں پہلو آج فعال دکھائی دیتا ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں فتح مودی کے لئے اضافی مددگار ثابت ہوئی ہے ۔ وہ امریکہ میں مقیم ہندوئوں کے ذریعے بھارت کو حاصل حمایت میں اضافہ کررہے ہیں۔
پاکستانی وزیر ِاعظم ، نواز شریف سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ مودی کو بھی واجپائی سمجھ بیٹھے ۔ان کا خیال تھا کہ وہ بڑے آرام سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1999 ء میں ٹوٹنے والی امن کی ڈور کو پکڑکر گرہ لگا دیں گے ، اور سب ٹھیک ہوجائے گا۔ چنانچہ 2014 ء میں بھارتی انتخابات سے پہلے اُنھوںنے ڈاکٹر موہن سنگھ کی حکومت کے ساتھ ایم ایف این (تجارت کے لئے انتہائی پسندیدہ ریاست) معاہدہ کرنے سے گریز اسی لئے کیا تھا کیونکہ وہ نئی بھارتی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کا انتظار کررہے تھے ۔ وہ نئی حکومت کے ساتھ از سر ِ نوتعلقات استوار کرتے ہوئے امن کے امکانات کو مستحکم کرنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ وہ مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے کے لئے نئی دہلی پہنچ گئے ۔ مودی نے نواز شریف کو گلے لگاکر تصویر بنوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، لیکن بغل میں چھری رکھنا بھی نہ بھولے ۔ حتیٰ کہ جب وہ رائے ونڈ آئے تو بھی دور ِ جدید کے شیوا جی دکھائی دے رہے تھے۔
اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی اس اناڑی سفارت کاری کو ناپسندکیا ۔ چنانچہ نواز شریف کو پرویز مشرف دور سے نظر انداز کیے گئے کشمیر بیانیے کو دوبارہ بحال کرنا پڑا کہ کشمیر ہی دونوں ممالک کے درمیان باعث ِ تنازع معاملہ ہے ۔ چنانچہ تھوڑی بہت سرگرمیاں شروع ہوگئیں اور کشمیر کے حالات خراب ہونے لگے ۔ ایک حوالے سے نواز شریف کو نہ صرف مودی بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی چکما دیا ۔ مودی نے اپنے یوم ِ آزادی پر ’’بلوچستان کی آزادی‘‘ کو عالمی جہت دینے کی کوشش کی ، نیز پاکستان کو دہشت گردی کی آماجگاہ قرار دیا ، تو پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے ایک بھارتی جاسوس، کلبھوشن یادیو کو پکڑ لیا۔ اس دوران فوج نے کراچی کے مافیاز کا بھی بھارتی ایجنسی ، را سے تعلق ڈھونڈلیا ۔ آج کل پاک بھارت تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو جاسوسی کا الزام لگاکر بے دخل کردیا ہے ۔ اب انڈیا گفتگوکا سلسلہ شروع کرنے پر بات بھی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بیک چینل مذاکرات کا دور تمام ہوچکا۔ دونوں ممالک کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز نے کافی عرصے سے ایک دوسرے سے ملاقات نہیںکی۔ انڈیا نے اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کو سبوتاژ کردیا ۔حالیہ دنوں اس نے پاکستانی علاقے میں مبینہ انتہا پسندوںکے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی عسکری قوت کا چرچا کیا ۔ اب پاکستان امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔ اس دوران انڈیا افغان صدر، اشرف غنی کو بھی پاکستان سے دور کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ نئے امریکی صدر بھی بھارت کی طرف جھکائو رکھتے ہیں ۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ کھلی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے ، لیکن یہ موقف درست نہیں ۔مودی ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک، پاکستان کے ساتھ جنگ ، جو دنیا کے رونگٹے کھڑے کردے،کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ جنگ کا ہلکا سا اندیشہ ظاہر ہوتے ہی بھارتی مارکیٹوںسے غیر ملکی سرمائے کا فرار شروع ہوجائے گا۔ یاد رہے، اس وقت عالمی سرمایہ کاروں کے نزدیک بھارت سرمایہ کاری کے لئے ایک بہترین مارکیٹ ہے ۔ جنگ کی صورت میں مودی کا ’’شائننگ انڈیا ‘‘ کا تصور مسخ ہوجائے گا ۔ چنانچہ سیاسی مخالفین مودی پر چڑھ دوڑیں گے اور وہ اگلے انتخابات میں ہار جائیں گے ۔
پاکستان اس صورت حال کو کس طرح اپنے حق میں ڈھالتا ہے ، اس کا دارومدار تین عوامل پر ہے ۔ پہلا اس حقیقت کی تفہیم کہ نریندر مودی کی شعلہ بیانی صر ف اگلے ریاستی انتخابات جیتنے کے لئے ہی ہے ۔ دوسرے کا تعلق ٹرمپ کی ایشیائی بحرالکاہل کے خطے کے لئے وضع کی جانے والی پالیسی سے ہے ، جو ابھی ہمارے سامنے نہیں آئی ۔ تیسرا ، نواز شریف کا سیاسی تسلسل اور سول ملٹری تعلقات میں توازن ضروری ہے ۔ تاہم بدترین بات یہ ہے کہ موجودہ سرحد ی کشیدگی ابھی کافی دیر تک جاری رہے گی ۔ غالباً پاکستان اور انڈیا اگلے سال میں کسی وقت مذاکرات کی میز پر بیٹھتے دکھائی دیں گے اُس وقت تک سرحدوں پر امن نہیںہوگا، لیکن خاطر جمع رکھیں، جنگ بھی نہیں ہوگی ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website