counter easy hit

کیا فتنہ قادیانیت دوبارہ سے سر اٹھا رہا ہے؟

Muslim

Muslim

تحریر: سالار سلیمان
اللہ کا یہ احسا ن سب سے بڑا ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا، ہم پاکستان میں پلے بھرے ہیں اور ہم کچھ نہ سہی تو اپنی اساس کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ایک ہے’ وحد ہ لا شریک ہے’ محمد رسول اللہ ۖ اس کے آخری نبی ہیں ‘ ان کی رحلت کے ساتھ ہی وحی الہی کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اب بند ہو چکا ہے اور کوئی بھی انسان جو کسی بھی شکل میں خود کو نبی کہتاہے وہ بلا شک و شبہ جھوٹا ہے’ کافر ہے اور اگر وہ ماضی میں مسلمان رہا تھا تو پھر اب وہ مرتد ہے ۔ عرفان برق صاحب پہلے قادیانی تھے’ قادیانی کے اعلیٰ خاندان سے ان کا تعلق تھا اور قادیانیوں کے مطابق وہ صحابی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کو اپنی کمیونٹی میں سے ہر طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑالیکن وہ مرد مومن کی طرح سے ڈٹے رہے کہ اللہ نے اُن کو وہ روشنی میسر کر دی تھی کہ جس کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ کو بھی مسلمان کیا۔ گزشتہ سال جب میں چند ماہ کیلئے دبئی جانے والا تھا تو اس سے پہلے میرا عرفان صاحب سے رابطہ ہوا اور اُن کی مہربانی کہ وہ میرے گھر تشریف لائے ۔ گفتگو کا موضوع اُن کا قبول اسلام اور قادیانیت ہی تھا۔ عرفان صاحب کو میں نے کہا کہ مرزا تو بہت ہی منجھا ہوا مفکر اسلام تھا اور وہ مناظر اسلام کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا تو وہ ہنس دیے۔ انہوں نے کہا کہ جس دور کی آپ بات کر رہے ہیں وہ انگریز کا دور تھااور اگر دیکھا جائے تو انگریز بر صغیر پراپنی کل حکومت کا ایک تہائی حصہ مکمل کر چکے تھے۔

بر صغیر کے شہروں میں مسلمانوں کی شرح خواندگی بہت کم تھی اور اس کے علاوہ دیہاتوں میں تو اللہ کی حافظ تھا۔ ایسے دور میں ایک فاتر العقل اور مجہول شخص نے جب دیکھا کہ لوگ اس کو جو ق در جوق سنتے ہیں اور اس کی ہر صحیح اور غلط بات کو بلا تحقیق درست مانتے ہیں تو اس نے ہلکے لیول کے عیسائیوں نے مناظرہ کئے جو کہ کل شاید دس بھی نہیں ۔ اس وقت ٹی وی تو تھا نہیں اور ریڈ یو بھی بہت کم تھے ۔ ابلاغ کا ذریعہ اخبارات اور رسائل تھے ۔ مرزا کے ہمنواوں نے اس کی مارکیٹنگ شروع کی اور وہ انسان ایک مبلغ کے روپ میں سامنے آ گیا۔ اس کے بعد اس کو ایک دن خبط سوار ہوا اور اس نے اپنے آپ کو مسیح موعو د کہااور بالاخر اپنی شعبدہ بازیوں کا اختتام اس نے ناموس رسالت ۖ پر ڈاکہ ڈال کر اور اپنے آپ کو بنی کہ کر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”قادیانیت اسلام اور سائنس کے کٹہرے میں” پیش کی ۔ انہوں نے ہی بتایا کہ حقیقت میں مرزا کچھ بھی نہیں تھا لیکن اس کی اٹھان دیکھ کر انگریزوں کے دماغ نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا’ مرزا اس کا فرنٹ مین تھا ۔

میںاس دور میں تو پیدا نہیں ہو اتھا اور نہ ہی عرفان برق صاحب تھے ، عین ممکن ہے کہ وہ ٹھیک فرما رہے ہو۔ البتہ اس موضوع پر جو کتب میں نے پڑھی ہیں وہ کہتی ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بلا کا مقرر تھا۔ وہ ہر قسم کی محفل میں آن ٹپکتا تھا اور محفل لوٹ لیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اُس کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا ۔ 1880ء سے مرزا کا عروج شروع ہو ا اور لاہور کے ایک جلسے میں اُس نے ملکہ برطانیہ کو قبول اسلام کی دعوت دے ڈالی ۔ 1893ء میں اس نے شاتم رسول ۖ سے پنجہ آزمائی کرکے مسلمانوں کے دل میں جگہ بنائی ۔1880ء میں مرزا نے ‘ملہم ‘ ہونے کا دعویٰ کر دیا تھا۔ مناظرے کے کچھ ہی دن کے بعد اس نے خود کو مجدد کہا’ اس کے بعد امام زماں ‘ اس کے بعد محدث عصر ‘ اس کے بعد مثیل مسیح سے ہوتا ہو ا وہ مسیح ابن مریم اور وہاں سے امام مہدی تک پہنچ گیا اور اس کے بعد 1900ء میں اس نے نظریہ حلو ل پیش کیا اور اپنے الٹے سیدھے دلائل سے خود کو او ر اپنی سادہ عوام کو یہ ثابت کرنے میں جت گیا کہ وہ میںہی نبی آخر الزماں ہوں اور مجھ میں نبی ۖ کی روح حلول کر گئی ہے ۔(نعوذ باللہ’لا حول لا ولا قوة الا باللہ) ۔ اس جھوٹے نبی کو اللہ نے پہلے سخت بیمار کیااور بعد ازاں اس کی موت پاخانے میں ہوئی تاہم اس وقت پر فتنہ قادیانیت پھیل چکا تھا۔

Mirza Masroor Ahmad

Mirza Masroor Ahmad

یہ پچاس کی دہائی کی بات ہے کہ مجدد عصر مولانا مودودی نے قادیانیوں کے فتنہ کو بڑھتے ہوئے دیکھا’ ان کی دور اندیش نظر نے یہ محسوس کیاکہ ابہت جلد یہ فتنا بڑھ جائیگا۔ مولانا مودودی نے حالات کے پیش نظر ” مسئلہ قادیانیت ” کے نام سے کتاب لکھی جو کہ آج بھی سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ مولانا موددوی کے علاوہ بھی اسی دور میں دیگر علمائے حق ختم نبوت کے موضوع پر کام کر رہے تھے ۔ مسئلہ قادیانیت لکھنے کی پاداش میں مولانا مودودی کو جیل ہوئی ، اس پر کیس چلا جس کا اختتام مولانا مودوی کی سزائے موت کے احکامات پر ہوا۔جیلر نے بتایاکہ وہ مرد حق سزائے موت کی آخری رات کو بھی اتنا پرسکون سو رہا تھا کہ اُس کے خراٹے سنائی دے رہے تھے۔ جب کہ دوسری جانب حکومت نے شدید عوامی دباؤ کا شکار ہو کر مولانامودودی کی سزائے موت کوختم کیا اور کچھ عرصے کے بعد مولانا مودودی کی رہائی کے احکامات بھی آ گئے ۔

25مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کا تفریحی ٹور نکلا۔ جب یہ مختلف اسٹیشنوں سے ہوتا ہوا ربوہٰ پہنچا تو یہاں پر قادیانیوں نے حسب روایت اپنا لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ کچھ قادیانی اُن طلبہ کے ڈبے میں بھی آگئے ۔ یہ طلبہ کوئی عام طلبہ نہیں تھے۔ یہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے ۔ انہوں نے ایک ہی نظر میںقادیانیت کے لڑیچر کو نہ صرف پہچانا بلکہ ربوہٰ کا ریلوے اسٹیشن ختم نبوت کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اسی اثنا ء میں ٹرین کی سیٹی بجی اور ٹرین اپنی منزل پشاور کی جانب گامزن ہوگئی۔ قادیانی اب کمزور نہیں تھے’ حکومت کے اہم عہدے ان کے پاس تھے۔ انہوں نے اپنی انٹیلی جنس سے اُن اسٹوڈنٹس کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں، اُن کے پلان کے بارے میں معلومات اکھٹی کی اوراُن کی واپسی کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ آخر یہ وہ اسٹوڈنٹس تھے جنہوں نے قادیانیوں کی ریاست میں ختم نبوت کے نعرے لگا کر قادیانیت کے محل کی دیواریں ہلا دی تھیں’ یہ وہ طلبہ تھے کہ جنہوں نے ریاست میں موجود ریاست کے خلاف آواز اٹھائی تھی ، انہوں نے قادیانیت میں محمد رسول اللہ ۖ کے آخری نبی ہونے کی گواہی دی تھی اور قادیانیوں نے نزدیک یہ ایک ناقابل معافی جرم تھاجس کی سزا دینا لازمی تھی ۔

29مئی 1974ء کو ان طلبہ کی واپسی تھی ۔ ربوہٰ سے پہلے ہی ایک قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے اُن طلبہ کے ڈبوںپر نشان لگا دیے تھے ۔ اس کے بعد جیسے ہی ٹرین ربوہٰ میں داخل ہوئی تو تقریبا ً پانچ ہزار سے زائد قادیانی اسلحے اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر اُس ڈبے میں سوار ہوئے ۔ پھر آسمان نے بھی ایک عجب منظر دیکھا کہ ٹرین اپنے مقررہ وقت سے زیادہ وقت کھڑی ہوئی اور قادیانیوں نے اُن طلبہ کو مار مار کر ادھموا کر دیا۔ وہ طلبہ مار کھاتے جاتے اور نعرہ رسالت لگاتے جاتے تھے ۔ ٹرین کے چلتے ہی یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح سے پھیلی اور فیصل آباد پہنچنے تک پورے ملک کو قادیانیوںکی غنڈہ گردی کا علم ہو چکا تھا۔ پورے ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ۔ ایسے میں دائیں بازو کی تمام جماعتوں نے اتحاد کیا اور یہ عزم کیا کہ اب قادیانیوں کا مسئلہ قانونی اور آئینی طور پر ختم کر کے دم لینا ہے کہ اس موضوع پر ہزاروں شہادتیں ہو چکی ہیں۔ گلی گلی قادیانیوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے اور مظاہرین تمام تر ریاستی تشدد اور جبر برداشت کرتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے ۔ مسلمانوں نے قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کر دیا اور وہ ایک مخصوص حد میں رہ گئے ۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں قادیان میں بھی اُن کے سرخیل مرزا نے دردیوار پر لکھوا چھوڑا کہ ”خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آ رہا ہے۔” لیکن اُ ن کے خدا کو نہ آنا تھا اور نہ ہی وہ آیا حتیٰ کہ 30جون1974ء آ گیا۔

National Assembly

National Assembly

30جون1947ء کو قومی اسمبلی میں علمائے حق کی جانب سے مولانا شاہ احمد نورانی صاحب نے ایک بل پیش کیا جس پر ملک کی تمام دائیں بازو کی جماعتوں کا اتفاق تھا اور پر اس پر 28اراکین کے دستخط بھی تھے۔ وزیر اعظم اور قائد ایوان جناب ذوالفقا ر علی بھٹو صاحب تھے ۔ وہ اپنی پرورش اور حلقہ احباب کی وجہ سے فطری بائیں بازو کے تھے لیکن اللہ نے اُن میں ابھی اتنا ایما ن قائم رکھا تھا کہ وہ رسالت مابۖ کے بارے میں کوئی لفظ برداشت نہیں کرتے تھے ۔ قادیانیوں سے اُن کے مراسم تھے۔ ابتداء میں حکمت عملی کچھ یوں تھی مرزا ناصر کو اسمبلی میں بولنے اور وضاحت کی اجازت ہوگی او ر سب کا خیال تھا کہ بیرون ممالک کا پڑھا ہوا ڈاکٹر کی ڈگری والا مرزادو منٹوں میںمولویوں کی بولتی بند کر دی گا۔ لیکن تاریخ کچھ اور ہی لکھنے کے موڈ میں تھی ۔
ایک جانب اسمبلی کی کاروائی جاری تھی اور دوسری جانب عوامی غم وغصہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ اس مقام پر دیگر ممالک بھی اس موضوع میں ملوث ہو چکے تھے اور کوشش یہی تھی کہ کسی طرح قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہ دیا جائے ۔ اُن کی کوشش تھی کہ یہ مسئلہ ٹالا جائے یا کسی طرح قادیانیوں کے حق میں ہی حل کیا جائے ۔ بڑے بڑے اہم عہدوں پر قادیانی تعینات تھے ، اُن کے سرکاری حلقوں میں گہرے مراسم تھے، لبرل طبقہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اُن کی مٹھی میں تھا۔ رائٹ آف دا سنٹر کنفیوژن کا شکار تھا اور صرف دائیں بازو سے نمٹنا باقی تھا۔ لیکن قادیانیوں کیلئے یہ دایاں بازو لوہے کا چنا ثابت ہو رہا تھا ۔

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے دو ماہ میں کل 28اجلاس اور 96نشستیں کی تھیں اور کمیٹی کو علم تھا کہ اب قومی اسمبلی میں اس معاملے کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ 5اگست سے 11اگست اور پھر20اگست سے 21اگست تک قومی اسمبلی میں اس ایک مسئلے پر بحث ہوئی ۔ یہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی حساس ترین کاروائی تھی۔ اس میں دونوں اطرا ف سے دلائل دیے جا رہے تھے اور جن کا خیال تھا کہ مرزا طاہر دو منٹ میں مولویوں کو چپ کروا دے گا ‘ وہ حیران تھے کہ مولوی مرزا طاہر کو کیسے مدلل طریقے سے خاموش کر وا رہے تھے ۔خود مرزا طاہر کی حالت دیکھنے والی تھی۔ اس سے کسی بھی سوال کا جواب نہیں بن پا رہا تھا۔ اٹارنی جنرل کے سوالوں کے جواب میںکبھی وقت مانگا جا رہا تھا اور کبھی خشک گلے کو گیلا کرنے کیلئے پانی مانگا جا رہا تھا۔ کئی مقامات پر مرزا طاہر نے اٹھائے جانے والے سوالات کے خاصے تلخ جوابا ت بھی دیے ۔ ختم نبوت کے موضوع پر اُ س کے جوابات ایسے تھے کہ بھٹو صاحب تک کے کان مرزا کے جوابات سن کر لا ل ہو گئے ۔
6ستمبر 1974ء کو ملک کی فضا میں خاصی تلخی تھی۔ حکومت نے ملک کے طول و عرض میں بھار ی پولیس کی نفری تعینات کر دی تھی ۔ یہ نفری اسلحے سے لیس تھی ۔ اسمبلی کی کاروائی مکمل ہو چکی تھی ۔ اراکین کا فیصلہ تھا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ا ب بس وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دستخط ہونا باقی تھے۔ خدشہ تھا کہ مزید تاخیر کی صورت میں ملک گیر احتجاج کی لہر اٹھے گی اور ریاستی امور ساکت ہو جائیں گے ۔بڑے بڑے شہروں میں فوج بھی تعینات کر دی گئی تھی ۔ قائدین کی لسٹیں تیار تھیں جبکہ ہزاروں کارکنان کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جا چکا تھا۔ ملک ایک دوراہے پر آ کھڑا ہوا تھا۔

Bhutto,

Bhutto,

یکایک حالا ت نے کروٹ لی اور بھٹو صاحب نے قرار داد پر دستخط کر دیے یوں قومی اسمبلی میں 7ستمبر 1974ء کو 4بج کر 35منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا اور اس باب کا آئینی طریقے سے ختم کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی نے دین اسلام کیلئے ایک بہت بڑے فتنے کا سر کچل کر رکھ دیا تھا۔ یہ اعلان ہوتے ہی پوری قومی اسمبلی نعروں سے گونج اٹھی ۔ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے سرخ تھے ۔ بھٹو صاحب نے اس کے بعد 27منٹ تک وضاحتی تقریر بھی کی ۔ ممبران ایک دوسرے کو مبار ک باد پیش کرتے رہے حتیٰ کے اس موقع پر بھٹو صاحب اور ولی خان بھی ایک دوسرے کو گرم جوشی سے ملے ۔ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم کی گئی اور مساجد میں شکرانے کے نوافل ادا کئے گئے ۔ اسلام جیت چکا تھا اور کفر کے پیروں میں اب شریعت کے ساتھ ساتھ آئین کی بیڑیاں بھی تھیں۔ کفر ہار چکا تھا۔ 1974ء کی قومی اسمبلی کی وہ کاروائی اس وجہ سے خفیہ رکھی گئی کہ اگر اس کو منظر عام پر لایا جاتا تو مسلمان اپنے جذبہ ایمانی میں ملک سے قادیانیوں کا خاتمہ کر دیتے لہذا ملک میں قتل و غارت گری کو روکنے کیلئے اس کا کاروائی کو خفیہ رکھا گیا تاہم اب چونکہ حالات ویسے نہیں ہیں اور قادیانی اب غیر مسلم ہیںتو یہ کاروائی تھوڑی سے ریسرچ کے بعد مل سکتی ہے ۔

حمزہ علی عباسی اچھے اداکار ہیں اور آج کل ایک نجی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں بطور اینکر بھی موجودہیں۔ حمزہ علی عباسی تحریک انصاف کے کلچرل ونگ سے بھی وابستہ ہیں۔ اُن کی فیس بک پوسٹس پڑھنے والوں کو علم ہے کہ حمزہ علی عباسی مختلف موضوعات پرکیسی رائے رکھتے ہیں۔ ‘ جوانی پھرنہیں آنی’ میں متنازعہ سین پر انہوں نے فیس بک پر اپنے مداحوں سے معافی بھی مانگی تھی ۔ حمزہ علی عباسی پاکستانیوں کی نظر میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ حمزہ علی عباسی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں ذکر کیا تھا کہ انہوں نے سی ایس ایس کے امتحانات پاس کئے تھے ‘ پولیس کی نوکری کرتے ہوئے انہوں نے استعفیٰ دیا تھااور پھروہ لائٹ کیرہ اور ایکشن کی دنیا میں آ گئے تھے ۔ تاہم حال ہی میںانہوںنے بظاہرقادیانیوں کے حوالے سے اپنے پروگرام میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا ریاست کسی کو غیر مسلم قرار دے سکتی ہے۔ اس کا جواب ہاں ہے اور اس حوالے سے نبی ۖ مہرباں کے زمانے سے خلفاء راشدین تک کے حوالہ جات دیے جا سکتے ہیں۔ خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق نے اپنے دور میں خالد بن ولید کی قیادت میں جھوٹے نبوت کے دعو ے داروں کے خلاف لشکر روانہ کئے تھے ۔ اُن کی سرکوبی کی تھی ۔ اس طرح کی کئی روایات دی جا سکتی ہیں کہ ریاست نے اسلامی قوانین روشنی میں نہ صرف غیر مسلم بھی قرار دیا بلکہ ایسے فتنوں سے سختی سے نمٹا بھی تھا۔ قادیانیوںکو کافر قرار دینے کا آئینی مسئلہ بھی ہے اور شرعی مسئلہ بھی ہے اور میں ایک سابق سی ایس پی آفیسر سے امید رکھتا ہوں کہ اس نے خاصی کیس اسٹڈی کی ہوگی ۔ یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ حمزہ علی عباسی صاحب نے یہ پینڈورا بکس عین اُن لمحا ت میں کیوں کھولا ہے جب پاکستان اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے ۔ آئینی لحاظ سے دیکھیں تو قادیانیوں کو غیر مسلم ریاست نے قرار دیا’ اسمبلی میں قرار داد پیش کی گئی ، اس پر مکمل بحث ہوئی ، دونوں اطراف کا موقف لیا گیا ، اس کے بعد قرارداد وزیراعظم کے دستخطو ں سے منظور ہوئی اور آئینی ترمیم کے نتیجے میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی ۔ اگر حمزہ صاحب قادیانیوں کو غیر مسلم نہیں مانتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اُن کو مسلم مانتے ہیں ۔ اب اگر حمزہ عباسی اُن کو مسلم مانتے ہیں تو وہ اُن کوان کے عقا ئد کے مطابق مسلم مانتے ہیں ، اور اگر ایسا ہے تو کیا میں یہ سمجھو کہ حمزہ علی عباسی محمد الرسول اللہ ۖ کی ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں؟

حمزہ علی عباسی صاحب آ پ سے جو ہو سکتا ہے وہ آپ کر لیں کہ قبر آپ کی اپنی ہوگی اور روز محشر جواب بھی آپ نے خود ہی دینا ہے اور عاشقان ختم نبوت سے جو ہو سکتاہوا وہ ہم کر لیں گے کہ ہم نے بھی آقا ۖ کومنہ دکھانا ہے ۔ بھٹو صاحب جیسا آدمی جس نے عوامی جلسے میں شراب پینے کا اقرار کیا تھا’اُس نے کہا تھا کہ عین ممکن ہے کہ میں قیامت کے دن صرف اس لئے بخشا جاوں کہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا اور یہی رائے اس کے بار ے میں بہت سے جید علمائے کرام بھی رکھتے ہیں۔ عباسی صاحب یہ ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا میں مسلمان اپنے آقاۖ کی توہین برداشت کر لیں، یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمان اُن کی عظمت کا دفاع نہ کریں ۔ ہم تو اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ انشااللہ۔

تحریر: سالار سلیمان