counter easy hit

بلدیاتی انتخابات، سیاسی جماعتیں اور عوام

Election

Election

تحریر : زاہد محمود
کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کا زور وشور عروج پر ہے ، لاہور ہائیکورٹ کے اس حکم کے بعد کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے امیدوار چننے میں دشواریاں پیدا ہو گئی ہیں ۔ پنجاب میں دیکھا جائے تو اصل مقابلہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ( ن ) کے درمیان ہے دونوں جماعتوں کے کارکن بلدیاتی انتخابات میں حصول ٹکٹ کیلئے سر گرداں ہیں کچھ آزاد امیدواروں نے بھی ان پارٹیوں کارخ کیا ہے اور کچھ نے حسب روایت عین انتخابات کے موقع پر اپنی وفاداریاں تبدیل کی ہیں ۔ جس سے ٹکٹ کے حصول کے لیئے ایک کشمش نے جنم لیا ہے کیونکہ جن امیدواروں کو پہلے اپنی پارٹی کی حمایت حاصل تھی اب امکانات ہیں کہ انھیں اپنی جماعت سے مطلوبہ حمایت نہ مل سکے گی بہرحال بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک مستحسن اقدام ہے اور حقیقی جمہوریت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے حقیقی عوامی نمائندے بڑی تعداد میں اقتدارتک پہنچتے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کی پالیسی اگر دیکھی جائے تو ایسا ہوتا نظر نہیںآرہا ۔ سیاسی جماعتیں ان انتخابات کوآئندہ عام انتخابات کے تناظر میں دیکھ رہی ہیں ۔ ٹکٹ کی تقسیم میں سب سے زیادہ اس بات کو مد نظر رکھا جا رہا ہے کہ کونسا شخص جیتنے کی پوزیشن میں ہے ۔ کس کی برادری علاقے میں زیادہ ہے ۔کونسا شخص انکو عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ دے سکتا ہے ۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان ہی انتخابات کے نتیجے میں ہر پارٹی کے بہترین سیاسی کارکن جو کہ سیاسی عمل پر یقین رکھنے والے ہوں اور وفاداریاں بدلنے والے نہ ہوں کو ٹکٹ دیتیں تاکہ ان لوگوں کی تربیت ہوتی اور یہ آگے جا کر پارٹی میں اہم مقام حاصل کرتے ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ سیاست کو چند گھرانوں تک محدود کردیا گیا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات میں بھی ان ہی لوگوں کو آگے لایا جارہا ہے کہ جنکا پہلے سے سیاسی اثر رسوخ ہے ، سابق طالبعلم اور نوجوان کارکن ٹکٹ کے حصول میں زیادہ تر ناکام نظر آرہے ہیں اور وہ یا تو آزاد انہ طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں یا اس نظام سے مایوس ہو کر بیٹھ رہے ہیں جو کہ کسی بھی صورت میں جمہوریت کے لیئے نیک شگون نہیں ہے۔

طالبعلم اور نوجوان کارکن کسی بھی جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگ اب پرانے چہروں سے چھٹکارا چاہتے ہیں کیونکہ عام آدمی موروثی سیاست کو مسائل حل میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے ۔سیاسی جماعتوں کو اب عوام کے جذبات کاخیال کرنا ہوگا اور انکی خواہشات کے مطابق اپنے امیدواروں کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ یہاں ایک بات میں واضح طور پر کہتا چلوں کہ جتنی بڑی تعداد میں تحریک انصاف نے عام انتخابات میں نئے لوگوں کو آزمایا اتنی تعداد میں اب بلدیاتی انتخابات میں نہیں آزمار ہی شاید یہ جماعت بھی اب روایت پسند بننا چاہ رہی ہے، یہ درست ہے کہ قومی اور صوبائی حلقوں میں نئے لوگ اس حد تک کار آمد شاید ثابت نہ ہو سکیں کیونکہ وہ انتخابات کچھ اور ہوتے ہیں اور حلقے بڑے ہونے کی وجہ سے ایک ایسا شخص جو کہ مکمل طور پر تربیت یافتہ نہ ہو اور انتخابی نظام کو نہ سمجھتا ہو کسی بھی صورت میں سیاسی جماعتوں کا انتخاب نہیں ہوگا لیکن اگر اس نظام کو بہتر کرنا ہے تو بلدیاتی انتخابات میں پڑے لکھے اور نئی سوچ کے حامل کارکنوں کو ٹکٹ دینا اب نا گزیر ہو چکا ہے۔ بطور ایک سیاسی طالبعلم جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں لوگوں کے مزاج اب بدلتے جا رہے ہیں اور ایک ” حقیقی سیاسی کارکن” اس نظام سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیاسی جماعتوں میں خود کو منوانے اور اور سیاسی نظام میں بہتری کے خوہاں کارکنوں سے نا چیز کی عرض ہے کہ بلدیاتی انتخابات اس مقصد کیلئے بہترین موقع ہیں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے جو کہ کسی بھی سطح پر آپکی جماعت کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتا تو بطور احتجاج آپ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں اس سے نہ صرف جماعت کا نظریہ مضبوط ہوگا بلکہ آپ کا عمل ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کیلئے اہم قدم ہوگا ۔ ایسے تمام لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے ایک اچھے امیدوار ثابت ہو سکتے ہیں انکو عملی طور پرمیدان سیاست میں نکلنا ہوگا اور اپنے آپکو ایک متبادل قیادت کے طور پر تیار کرنا ہوگا اس سے نہ صرف نچلی سطح سے جمہوریت کا آغاز ہوگا بلکہ اوپر کی سطح پر بھی جمہوریت مضبوط ہوگی اور سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری فضا ہموار ہوگی۔

عوام سے بھی میری ایک گزارش ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں آپ ایسے لوگوں کوووٹ دیں جو آپ کے حقیقی نمائندے بن سکیں ،برادری اور تعلق کی بنیاد پر بھی ووٹ ضرور دیں لیکن اگر کوئی بہتر امیدوار آپکے پاس ووٹ کے لیئے آئے تو اسکا ساتھ دیں اسکی حوصلہ افزائی حقیقت میں آپکے لئے فائدہ مند ہوگی کیونکہ جو لوگ آپ منتخب کریں گے یہی لوگ یا تو آپ کے مستقبل کے لیڈر بنیں گے یا آپکے مستقبل کے لیڈران کا انتخاب کریں گے ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو کہ آپکے مسائل کو سمجھتے ہوں اور انکو حل کرنا چاہتے ہوں ۔ ایسے لوگ منتخب کریں جن سے آپ مسائل کے لیئے آواز نہ اٹھانے پر باز پرس کر سکیں ۔ ایسے لوگ منتخب کریں جو آپکی رائے کو نہ صرف سنیں بلکہ انکو اہمیت بھی دیں اور اگر مناسب ہو تو آپکی رائے کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کریں ۔ ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو آپ میں سیاسی شعور کو پختہ کریں اور ایسا وہی لوگ کریں گے جنکا اپنا سیاسی شعور اس حد تک ہوگا کہ وہ دوسروں کو مناسب تربیت دیں سکیں۔

اپنے معاشرے کو جمہوری ، فلاحی اور مثالی بنانے کے لیئے آپکے پاس بلدیاتی انتخابات کی صورت میں بہترین موقع ہے سیاسی جماعتیں ، سیاسی و سماجی کارکن اور عوام اس موقع کو غنیمت جانیں سیاسی جماعتیں بڑے ناموں کو اپنے ساتھ ملانے سے نہیں بلکہ غیر معروف چہروں کو بڑے نام بنانے سے مضبوط ہونگی ۔ سیاسی کا رکنوں کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ اپنی قیادت تک یہ بات ضرور پہنچائیں کہ بھلے ہم غیر معروف ہیں لیکن ہم وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی تنخواہ کے اور بغیر کسی لالچ کے آپ کے لیئے کام کرتے ہیں ہمیں لالچ ہوتی ہے تو صرف اسکی کہ وہ نظریہ جسکی آپ بات کرتے ہیں وہ نافذالعمل ہو ۔ عوام کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ ثابت کریں کہ اگر انھیں سیاسی جماعتیں صحیح متبادل دیں تو وہ ان کی آواز پر لبیک ضرور کہیں گے۔

Zahid Mehmood

Zahid Mehmood

تحریر : زاہد محمود