counter easy hit

ملٹی نیشنل اور پاکستانی کمپنیوں کا ملکی تاریخ میں سب سے بڑا فراڈ بے نقاب

Fraud

Fraud

لاہور (یس ڈیسک) مالی سال دو ہزار چودہ، تیرہ اور بارہ کی آڈٹ رپورٹس اور وزارت پٹرولیم کی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ 9 کمپنیوں نے وزارت پٹرولیم کے افسروں کی ملی بھگت سے تیل کے چونتیس ذخائر سے گزشتہ چھ برسوں کے دوران آزمائشی پیداوار کے نام پر اربوں روپے کی گیس اور تیل نکال کرفروخت کر دیا حالانکہ قانون کے مطابق دو سال سے زیادہ عرصے تک آزمائشی پیداوار جاری نہیں رکھی۔ اس کے بعد کنواں بند کرنا یا کمرشل بنیاد پر فروخت کا اعلان کرنا لازمی ہے۔

دستاویز کے مطابق صرف دو ہزار چودہ کے دوران دو ملٹی نیشنل کمپنیوں “مول” اور ”او ایم وی” نے چالیس ارب روپے کا تیل غیر قانونی طور پر نکال کر فروخت کر دیا۔ دو ہزار تیرہ میں ملٹی نیشنل اور پاکستانی کمپنیوں نے ساٹھ ارب روپے اور دو ہزار بارہ میں چونتیس ارب روپے کا تیل، گیس اور ٹیکس چوری کیا۔ آڈیٹروں کی نشاندہی پر وزارت پٹرولیم نے اڑتالیس ارب روپے کمپنیوں سے واپس لے لئے جبکہ چھیاسی ارب روپے یہ کمپنیاں اپنے کھاتوں میں منتقل کر چکی ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کمپنیوں میں نیم سرکاری کمپنی آئل اینڈ گیس ڈویلمنٹ کارپوریشن، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور ماڑی گیس کمپنی کے علاوہ نجی کمپنیاں ہائیکر بیکس، او ایم وی ماؤرس، او ایم وی، مول، پاکستان آئل فیلڈ اور یونائیٹڈ انرجی شامل ہیں۔ دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ دو ہزار دو سے سال دو ہزار دس کے دوران تیل اور گیس کی تلاش کا لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنیوں نے چار سے دس سال گزر جانے کے باوجود ایک ڈالر بھی انویسٹ نہیں کیا اور نہ کوئی کنواں کھودا۔

ان میں ہاشو گروپ کی رکن پاکستانی کمپنی اوشئین اور زیوار پٹرولیم، ٹلو، ہیریٹیج، یو ای پی، ناتیویس، دیوان گروپ کی دیون پٹرولیم اور ریلی انرجی، سیف اللہ گروپ کی سیف انرجی، مسلم لاکھانی کی میسا، اے کے ڈی گروپ کی آئل اینڈ گیس انویسٹمنٹ لیمٹڈ، کراچی کے بزنس مین جمیل یوسف کی ٹکار انرجی، اسلام آباد کی پی ای ایل، سابق رکن پنجاب اسمبلی کے بیٹے شہزاد سلیم کی سپرنٹ انرجی شامل ہیں۔ نجی شعبے کی بائیکو کمپنی نے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کئے گئے چار ارب انیس کروڑ اور اٹک گروپ کی پاکستان آئل فیلڈ نے دو ارب ستائیس کروڑ روپے غائب کر لئے۔ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں نے بھی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کے اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اپنے منافعوں میں شامل کر لئے ہیں۔