counter easy hit

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ہمارے جملہ مسائل کاحل صرف حصولِ تعلیم میں ہی پوشیدہ ہے خواہ وہ مسائل معاشی ہوں،معاشرتی ہوں یا پھرسماجی۔ افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم کے کردارو اہمیت سے ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے۔جہاں علم کے سمندر کی گہرائی کی پیمائش میںانسان عروج کی منازل طے کر نے میں مسلسل مگن ہے وہیںبنی نوع انسان تعلیم کے بنیادی حق سے محروم بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار تویکسر ممکن نہیں کہ تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ نہ صر ف اسلام بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب بھی حصول تعلیم پر زور دیتے ہیں کیونکہ تعلیم مذہبی شعوراور معاشرتی، اخلاقی، سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی ترقی کی طرف پہلا قدم ہے۔ اسی لئے پہلی وحی کا آغاز بھی ’’اقراء‘‘ سے ہوا۔دنیا میں آبادی کے اضافے اور مختلف قسم کے دیگر مسائل نے انسانی ضروریات کو مزید گمبھیربنا دیا ہے جنہیںمحض تعلیمی ترقی سے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ آج عالمی خواندگی کے دن کا منایا جانا اُسی شعور کی بدولت ممکن ہوسکا ہے، جو شعور انسان کے لئے تعلیم کا دیا ہوا اک تحفہ ہے۔تعلیم کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے اقوامِ عالم کی جدوجہد مثبت سمت میں آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ یہ کاوشیں قابلِ ستائش ہیں، تاہم ترقی پذیر ممالک کی مشکلات اوردرپیش چیلنجز کے خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشوںکو مزید بڑھائے جانے کی ضرورت اپنی جگہ ابھی بھی برقرارہے۔اگر پاکستان ہی کو لے لیا جائے تو یہاں اگرچہ خواندگی میں اضافہ سالہا سال کی محنت کا متقاضی ہے تاہم یہ امر نہایت ہی قابل اطمینان ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کی کاوشوں سے ملک میں تعلیم کے شعبے نے نمایاں ترقی کی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی تعداد میں واضح اضافے کے ساتھ ساتھ طلباء کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میںنظر آیا ہے۔ آج پاکستان سمیت پوری دنیا دہشت گردی جیسے ناسور کا سامنا کر رہی ہے۔ آئیے دہشت گردی، سماجی نا انصافی، بے روزگاری اور دیگر مسائل کو تعلیم کے فروغ کے ذریعے جڑ سے اُکھاڑپھینکیں۔ کیونکہ دنیا کے تمام مسائل کا حل،حصولِ تعلیم اور فروغِ تعلیم میںہی پنہاں ہے۔ اس ضمن میں ایچ ای سی کا کردار قابل ذکر ہے۔سال 2002میں صدارتی آرڈی نینس کے تحت یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ یہ قدم ملک میںاعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ 14سال پر محیط اس عرصے میں ایچ ای سی نے کامیابیوں کی کئی داستانیں رقم کی ہیں۔ جہاںاعلیٰ تعلیم کے شعبے کو جامعات کے قیام اور ان میں بنیادی ڈھانچہ کی فراہمی کے ذریعے مادی معاونت میسر ہوئی،وہیں ملک میں تعلیم یافتہ و باہنر افرادی قوت کی فراہمی بھی یقینی بنا دی گئی۔ نہ صرف یہ کہ ملک میںاعلیٰ تعلیم تک رسائی کا عمل تیز ہوا بلکہ ملک کے نوجوان بہ آسانی بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے لگے۔ملک میں تحقیقی کلچر کے فروغ کیلئے ایسے اقدامات کئے جانے لگے جن کی مثال ماضی میںکہیں نہیںملتی۔ اِس ادارے کے قیام سے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا جو سنہرا دورشروع ہوا وہ یقینا ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کا زینہ ثابت ہو گا۔ اعلیٰ تعلیم تک رسائی، ملک میں تحقیقی کلچر کے فروغ کے ساتھ ساتھ تحقیقی سرگرمیوں کی معاشرتی و معاشی ضروریات سے ہم آہنگی، اور معیار تعلیم کی بہتری ایچ ای سی کے بنیادی مقاصد کا حصہ ہیں۔ ایچ ای سی کی کاوشوں سے آج ملک میں جامعات کی تعداد 179تک جا پہنچی ہے۔ ضلعی سطح پر نئی جامعات اور یونیورسٹی کیمپسز کا قیام اور طلباء کے لئے اعلیٰ تعلیمی سہولیا ت کی فراہمی ایچ ای سی کے اہداف میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے کے پہلے مرحلے کا آغاز حال ہی میں کیا گیاہے جس کے تحت 31 اضلاع میں جامعات کے سب کیمپس بنائے جائیں گے۔ حال ہی میں جاری کردہ انٹرنیشنل یونیورسٹی رینکنگز میں چھ پاکستانی جامعات نے ٹاپ 700یونیورسٹیز میں اپنا مقام بنایا ہے۔ معیار تعلیم پر سمجھوتہ کئے بغیر ایچ ای سی ملک میںاعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لئے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔اس سلسلے میں ادبی سرقہ نویسی یا چربہ سازی کے انسداد کے لئے ایچ ای سی کو جدید سافٹ وئیر کی مدد حاصل ہے اور ایچ ای سی چربہ سازی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ایچ ای سی اپنے بجٹ کا 40فیصد حصہ ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ پر خر چ کرتا ہے۔1947 سے لے کرسال 2002 تک ملک میں صرف 3281پی ایچ ڈ ی اسکالر تھے جبکہ ایچ ای سی کے قیام سے سال 2015تک پی ایچ ڈی اسکالرز کی تعداد 8900تک پہنچ چکی ہے۔اسی طرح جامعات کے اند ر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے قیام جیسے اقدامات ایچ ای سی کے عزم کی پختگی کا بین ثبوت ہے۔ ایچ ای سی کے اقدام کی ہمہ گیریت اور جامعیت کو ایک کوشش میں ضبط ِ تحریرمیں لانا ممکن نہیں۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس رفتار اور عزم سے اعلیٰ تعلیم کمیشن اپنی منزل کی طرف گامزن ہے، کوئی شک نہیں کہ آنے والا وقت ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑاکرے گا۔ کیونکہ ایچ ای سی ہمہ وقت ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے کے مصداق مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

(صاحبِ تحریر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ہیں

بشکریہ روزنامہ جنگ

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website