counter easy hit

مولاناصاحب کو لینے کے دینے پڑ گئے۔۔۔ مولانا فضل الرحمان کے دست راست گرفتار؟ حکومت نے بڑا حکم جاری کر دیا

راولپنڈی(ویب ڈیسک)نیب راولپنڈی نے رہبر کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما اکرم خان درانی کوہاوَسنگ فاوَنڈیشن کیس میں کل طلب کرلیا،سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اکرم درانی کوچوتھی بارطلب کیاگیاہے۔نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے انتہائی قریبی رشتہ دار اور جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما محمد اکرم خان درانی کو قومی احتساب بیورو نے چوتھی مرتبہ ہاوَسنگ فاوَنڈیشن کیس میں طلب کر لیا ہے،یاد رہے کہ اکرم خان درانی21نومبرتک عبوری ضمانت پرہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی رہبر کمیٹی کے سربراہ ہیں اور حکومتی کمیٹی کے ساتھ ان کی سربراہی میں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔اکرم درانی کےخلاف غیرقانونی بھرتیاں اورآمدن سےزائداثاثہ جات کاکیس نیب میں زیر تفتیش ہے جبکہ انہیں ہاوَسنگ فاوَنڈیشن کیس میں طلب کیاگیا ہے۔اس سے پہلےغیرقانونی بھرتی کیس میں 2 سرکاری افسربھی گرفتارہوچکےہیں،گرفتارہونےوالوں میں مختاربادشاہ اورعاطف ملک شامل ہیں،زیرحراست ملزم مختاربادشاہ پی ڈبلیوڈی کےچیف ایڈمن آفیسر ہیں ،ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نےغیرقانونی طریقےسےبھرتیاں کی تھیں۔یاد رہے کہ آج ہی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ دو دن بعد آزادی مارچ نیا رخ اختیار کرے گا، تین تجاویز پر غور کررہے ہیں،آزادی مارچ 2 دن بعد نیا رخ اختیار کرے گا، ہم 3 تجاویز پر غور کررہے ہیں، کارکنان پرعزم ہیں، وہ ایک ماہ بھی رہنےکو تیار ہیں، کچھ پتے اپنے پاس بھی رکھیں گے، سارے پتے نہیں دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہرہبرکمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے، کمیٹی ابھی تک وزیراعظم کےاستعفے پر ڈٹی ہوئی ہے، اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتوں نےاتفاق کیا کہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے، کارکنان کیلئے ٹینٹ اور کھانے پینےکا بندوبست کیا جارہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاہے کہ ر یاست اس لئے کمزور ہورہی ہے کہ ریاست کے چاروں ستونوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، پاکستان کے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوتی لیکن بہت خوبصورت انداز میں منیج کئے جاتے ہیں۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے مظہرعباس نے کہا کہ ریاست اس لئے کمزور ہورہی ہے کہ ریاست کے چاروں ستونوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، پاکستان کے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوتی لیکن بہت خوبصورت انداز میں منیج کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب بھی ڈیل کرتے ہیں ، ان کو فوائد حاصل ہوتے ہیں اور جب ڈیل نہیں کرتے تو ان کو نقصانات ہوتے ہیں۔ نواز شریف کوایک ڈیل کے نتیجے ہی میں اقتدار میں لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن کی بناءپرہم کہہ سکیں کہ ڈیل ہوئی ہے ۔مظہر عباس نے کہا کہ چودھری غلام سرور عمران خان کی کابینہ کے وزیر ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ڈیل ہوئی ہے ۔ان کی بات کا نوٹس سب سے پہلے عمران خان کولینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کویہ بات ماننی پڑے گی کہ کونسا جوڈیشل فورم ہو جو یہ فیصلہ کرے کہ 2018کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش بری نہیں ہے ، صرف اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہنے سے حکومت گھر نہیں جاسکتی ۔

Molana Fazal ur Rahman, companion, arrested,

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website