counter easy hit

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید کا بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی تشویش کا خیرمقدم

برسلز (مانیٹرنگ رپورٹ)چیئرمین کشمیرکونسل یورپ (کے سی ای یو) کے چیئرمین علی رضا سید نے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی تشویش کی حمایت کی ہے۔
واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن مس ماریا ارینا نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاء کو ایک خط کے ذریعے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں خصوصاً اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ سلوک پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اپنے خط میں مس ارینا نے بھارتی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے تحفظ اورخصوصا نیشنل انویسٹیگیٹیو ایجنسی کی جانب سے گوتم نولکھا اور آنند تلٹومبڈے کی حالیہ گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر تشویشناک اور توجہ طلب ہے کہ انسانی حقوق کے یہ محافظین خوف و ہراس کا نشانہ بنے بغیر ہندوستان کے غریب اور پسماندہ ترین برادریوں کے حق میں اپنی آواز بلند نہیں کر سکتے جبکہ یہ بھی ایک اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ انہیں خاموش کرانے کے لیے ان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں اور ان کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے ’’اوآپا‘‘ جیسے قوانین استعمال ہورہے ہیں۔
ماریا ایرینا نے یاد دلایا کہ بھارت میں پاس کردہ یہ قانون اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے تحت انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی قواعد کے منافی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یورپین پارلیمنٹ میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ اس قانون کے تحت شہریت کے قانون میں ترمیم سمیت متعدد قسم کے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں پر امن احتجاج اور تنقید کو بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے طورپر پیش کیا گیا ہے ۔
ماریا ارینا نے مزید کہاکہ اسی قانون کے تحت ہی پولیس نے صفورا زرگر، گلفشا فاطمہ، خالد سیفی، میران حیدر، شفا الرحمٰن، ڈاکٹر کفیل خان، آصف اقبال اور شرجیل امام سمیت انسانی حقوق کے دیگر کارکنوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔
چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ کے اس اقدام (خط) کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت نے ساتھ دہائیاں قبل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آغاز مقبوضہ کشمیر سے کیا اور آج پورا ہندوستان بھارتی متعصبانہ مودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ خاص طور اقلیتوں کو بڑی بے دردی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یورپین پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کی چئیر پرسن ماریا ایرینا نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاء کے نام خط میں مزید کہا کہ موجودہ صورتحال نے اس خدشے میں اضافہ کردیا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی ’ غیر قانونی سرگرمیاں‘ اور ’دہشت گرد تنظیموں کی رکنیت‘ کی مبہم تعریف ریاستی اداروں کو قانون کے اطلاق میں وسیع صوابدید کی اجازت دے سکتی ہے۔
اس طرح سے ملک میں عدالتی نگرانی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو کافی حد تک کمزور کیا جائے گا۔
ماریا ایرینا نے اپنے خط میں مزید کہا کہ اس وقت اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ حد سے زیادہ وسیع تر قومی سلامتی کی قانون سازی کے ذریعے انسانی حقوق کے محافظوں کے کام کو مجرمانہ بنا کر پیش کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں اور ان کارکنوں کے اجتماعات اور اظہار رائے کی آزادیوں کا احترام کیا جائے ۔
علی رضا سید نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں کہاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کرنا ہوگا جہاں بھارت اس وقت کرونا وائرس کی آڑ میں مظوم کشمیریوں کو مزید دبا رہا ہے۔

علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن کی طرف سے کروناوائرس کے موجودہ بحران میں اقوام متحدہ کی اپیل کا حوالہ دے کر ضمیر کے قیدیوں کی فوری رہائی کے مطالبے کو بھی سراہا۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے مزید کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کی طرف سے ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ خاص طور عالمی فورموں پر ہماری سفارتی جدوجہد جاری رہے گی۔ اس بارے میں ہم نے حالیہ دنوں انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی حکام اور اقوام متحدہ کے عہدیداروں کو خطوط لکھے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

علی رضا سید نے کہاکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کے حالیہ سالوں کے دوران بیانات اور رپورٹس اور اب یورپی پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کے اس خط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے حالات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں ملوث بھارتی حکام عالمی عدالت کا سامنا کررہے ہوں گے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی مظالم میں ملوث افراد عالمی عدالت کا سامنا کرسکتے ہیں تو پھر بھارتی حکام کیوں نہیں عدالت کے کٹہرے میں آسکتے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث بھارتی حکام کے خلاف ایک دن ضرور عدالت برپا ہوگی۔

چئیرمین کشمیر کونسل ای یو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کشمیریوں کو انصاف ملنے تک اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website