counter easy hit

ولادت باسعادت حضرت معصومہ قم و حضرت ابو طالب علیہ السلام کے موقع پر جامع مسجد دربار شاہ چن چراغ راولپنڈی میں بسلسلہ پہلی برسی ڈاکٹر مبارک علی لائسنسدار تعزیہ و سیج مبارک

ولادت باسعادت حضرت معصومہ قم و حضرت ابو طالب علیہ السلام کے موقع پر جامع مسجد دربار شاہ چن چراغ راولپنڈی میں بسلسلہ پہلی برسی ڈاکٹر مبارک علی لائسنسدار تعزیہ و سیج مبارک یکم محرم الحرام تا دس محرم رسولنگر اور بسلسلہ چہلم صفیہ تبسم زوجہ مرحوم محمد علی پٹواری آف پاک پتن شریف سے ملک نامور عالم دین علامہ سید محسن علی نقوی نے مجلس ترحیم سے خطاب کیا۔ خطیب مسجد سخی شاہ چن چراغ راولپنڈی نے مصائب اہل بیت ؑ بیان کئے انہوں نے حضرت معصومہ قُم سلام اللہ علیہا کے مختصر حالات زندگی بیان بیان کئےانہوں نے کہاکہ ……حضرت معصومہ قُم کا نام فاطمہ اور مشہور لقب معصومہ ،کریمہء اھلبیت ہیں۔

MEHFIL E ZIKR,ON, BIRTH,ANNIVERSARY, HAZRAT BIBI MASOOMA QUM,A.S, AT,DARBAR SHAH CHA CHIRAGH, BADSHAH, DUA E MAGHFIRAT, FOR, DR.MUBARAK ALI

آپ کے والد ساتویں امام حضرت موسی بن جعفر الکاظم (ع) اور والدہ محترمہ حضرت نجمہ خاتون ہیں۔
حضرت جناب معصومہ س کی ولادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
بچپنے میں ہی امام موسیٰ ابن جعفر (ع) کی بغداد میں شہادت واقع ہو گئی اور آپ آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا(ع) کی کفالت میں قرار پائیں۔ سنہ ۲۰۰ ہجری میں امام رضا علیہ السلام کو مامون نے شدید اصرار کر کے خراسان بلوا لیا۔
امام تمام اعزاء اور اقرباء کو مدینہ چھوڑ کر خراسان تشریف لے گئے۔
حضرت امام رضا ؑ کی ہجرت کےایک سال بعد جناب فاطمہ معصومہؑ (س) اپنے بھائی سے ملاقات کے شوق میں اور سیرت حضرت زینب س کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف چل پڑیں۔
اس سفر کے دوران ہر مقام پر اپنے بھائی کی مظلومیت کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتی ہوئی ایران کے ایک شہر ساوہ میں پہنچیں۔
ساوہ کے رہنے والوں نے جو کہ دشمنان اہلبیت (ع) تھے عباسی حکومت کی طرف سے ماموریت کی بنا پر اس کاروان کا راستہ روک لیا۔ اور حضرت معصومہ س کے ساتھ تشریف لائے ہوئے بنی ہاشم کے ساتھ جنگ کرنے پر اتر آئے۔

اور نتیجہ میں تمام جوان شہید ہو گئے حتی کہ ایک روایت کی بنا پر حضرت معصومہؑ کو بھی زہر دے دیا-
آپکے بہت سارے بھائیوں اور بھتیجوں کی قبریں ساوہ اور قُم کے نواح میں موجود ہیں ۔ کل 23 بنی ہاشم اس جنگ میں شہید ہوئے۔بہر حال زہر کی وجہ سے یا شدت غم اور اندوہ کی وجہ سے آپ شدید مریض ہو گئیں۔
اب چونکہ خراسان کی طرف جانا ممکن نہیں رہا لہٰذا قم کا ارادہ کیا ۔
شہر قم کا راستہ معلوم کیا اور فرمایا: مجھے قم لے چلو۔ اس لیے کہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے کہ قُم عُشُّ آل محمد ع شیعوں کا شہر یعنی شیعوں کا مرکز ہے۔ جب قم کے لوگوں کو خبر لگی خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔آخر کار جناب معصومہؑ ۲۳ ربیع الاول سنہ ۲۰۱ ھجری کو قم پہنچیں۔
اورصرف ۱۷ سترہ دن اس شہر میں زندگی گذاری۔
اور اس دوران اپنے پروردگار سے مسلسل راز و نیاز میں مشغول رہیں۔
آپ کا محل عبادت “بیت النور” کے نام سے آج بھی مشہورہے یہاں ایک مسجد بن گئی ہے یہ فقیر وہاں بڑا عرصہ درس پڑھا تا رہا ہے اور اپنے شاگردوں کو جنمیں اکثر ایرانی تھے جماعت بھی کراتا رہاہے
آخر کار ۱۰ ربیع الثانی سنہ ۲۰۱ ھجری بغیر اسکے کہ اپنے بھائی سے ملاقات کر پائیں بارگاہ رب العزت کی طرف سفر کر گئیں۔بعض روایات میں 12 ربیع الثانی بھی تاریخ رحلت درج ہے جبکہ بعض اہل تشیع 5 ربیع الاول کو بھی بی بی معصومہؑ کی شہادت مناتے ہیں۔وقت رحلت بی بی ؑ کی عمر 28 سال تھی۔ قم کے لوگوں نے آپ کے جسد مقدس کو سرزمین قم میں جہاں آج آپ کا روضہ ہے تشیع جنازہ کر کے رکھا اورنماز جنازہ پڑھنا چاہتے تھے کہ دو روپوش نورانی ہستیاں قبلہ کی طرف سے نمودار ہوئیں۔ نماز جنازہ پڑھا کر ان میں سے ایک قبر میں داخل ہوا دوسرے نے جنازہ قبر میں اتارا اور دفن کر کے غائب ہو گئے۔
بعض علماء کے بقول وہ دو آدمی حضرت امام رضاؑ اور حضرت امام جوادؑ تھے۔
تدفین کے بعد موسی ابن خزرج سایبانی نے ایک کپڑا قبر کے اوپر بطور علامت ڈال دیا یہاں تک کہ ۲۵۶ ھجری میں حضرت زینب س بنت امام جواد ؑ نے سب سے پہلی بار اپنی پھوپھی کی قبر شریف پر گنبد تعمیر کروایا اس کے بعد یہ روضہ عالم اسلام مخصوصا اہلبیتؑ کے چاہنے والوں کی عقیدتوں کا مرکز بن گیا۔ اورآج تمام دنیا سے آپ کے چاہنے والے آپ کے روضہ کی زیارت کرنے تشریف لاتے ہیں۔
حضرت معصومہ کی زیارت کی فضیلت حضرت معصومہ علیہا السلام کے سلسلہ میں یہ بات قابل غور ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام کی زیارت کے بعد جتنی ترغیب آپ کی زیارت کے سلسلہ میں دلائی گئی ہے اتنی ترغیب دوسروں کے لئے بہت کم ملتی ہے۔
تین معصوم اماموں نے آپ کی زیارت کی تشویق دلائی ہے۔ جن روایات میں آپ کی زیارت کی ترغیب دلائی گئی ہے-
ان میں سے بعض آپ کی ولادت سے قبل معصوم سے صادر ہوئی تھیں ۔
تین معصومین ؑ کا ارشاد ہے کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کے ثواب میں جنت نصیب ہوگی ۔ معصومین ؑکی زبان سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کی فضیلت کے سلسلہ میں چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:
شیخ صدوق نے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ:”من زارہا فلہ الجنة”جو ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصیب ہوگی ۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ: “من زارعمتی بقم فلہ الجنة” جس شخص نے بھی قم میں میری پھوپھی کی زیارت کی وہ جنتی ہے ۔
حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ : “ان زیارتہا تعادل الجنة”زیارت معصومہ جنت کے برابر ہے ۔
حضرت امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے :یا سعدُ ! من زارہا فلہ الجنة او ھو من اھل الجنة”
اے سعد جو شخص بھی ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصیب ہوگی یا وہ اہل بہشت سے ہے ۔
علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں امام رضا علیہ السلام کے اصحاب کی کتابوں سے روایت کی ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے سعد بن سعد اشعری کو مخاطب کرکے فرمایا :اے سعد تمھارے یہاں ہم میں سے ایک کی قبر ہے ”
سعد نے کہا میں نے عرض کیا : میں قربان ! وہ دختر حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی قبر ہے ؟ فرمایا”: نعم من زارہا عارفا بحقہا فلہ الجنة جس نے بھی اسکی معرفت کے ساتھ زیارت کی اس پہ جنت واجب ھے…

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website