counter easy hit

مریم نواز ، مریم اورنگ زیب اور …!

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ہماری بھانجی ڈاکٹر تنزیلہ چیمہ کی کلاس فیلو تھیں۔مریم کی دوران سٹڈی شادی ہو گئی جبکہ ہماری بھانجی میڈیکل کالج چلی گئی۔ شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد ہماری جب اس خاندان سے پہلی ملاقات مدینہ منورہ میں ہوئی تو مریم کا سیاست سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ مریم نواز کی دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ اپنی والدہ کلثوم بیگم کی طرح پر کشش ہونے کی وجہ سے دلہن بنی حسین لگ رہی تھیں۔مریم سے جب پہلی ملاقات ہوئی تو اس وقت انہوں نے ایک بیٹی گود میں اٹھا رکھی تھی۔ جلا وطن خاندان کے اچھے برے وقت پر ہم نے کئی کالم لکھے۔ مریم پس پردہ رہیں لیکن موجودہ مریم کی سیاسی سرگرمیاں دیکھ کر کوئی بھی بتا سکتا ہے کہ مریم نواز کو وزارت اعظمی کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی لیول پر متعارف کرانے کے لئے والدین امریکہ لے گئے جہاں خاتون اوّل مشعل اوباما سے ملاقات کرائی۔ وائٹ وائٹ ہاوس میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے ہونے والی تقریب میں کلثوم نواز اور مریم نواز نے شرکت کی۔ اس موقع پر مشعل اوباما نے بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز کااستقبال کیا، تقریب سے خطاب کے دوران امریکی خاتون اول کا کہنا تھا کہ خواتین کی ترقی کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا اور امریکا گلوبل گرلز ایجوکیشن پروگرام کے تحت پاکستان کو فنڈز دے رہاے اور اسے 2 گنا کر دیا گیا ہے جس سے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے میں بہت مدد ملے گی۔ گلوبل گرلز پروگرام کے ذریعے لڑکیوں کے لئے تربیت اور صحت سے متعلق متعدد پروگرام بھی شروع کئے جائیں گے۔مریم نواز کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں شرکت کر کے بہت خوشی ہوئی، خواتین قوم اور ملک کا مستقبل ہو اکرتی ہیں، پوری دنیا میں خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں حکومت سنبھالنے کے بعد بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا، ترقی کے لئے لڑکیوں کو باشعور بنانا بہت ضروری ہے اور اس حوالے سے پاکستان میں مختلف پروگرامز پر کام ہو رہا ہے، پاکستان میں ہر بچی کے اسکول جانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔مریم نواز چین سے بیٹھیں یا نہیں البتہ ہم اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی چین سے نہیں بیٹھ سکے۔لڑکیوں کی تعلیم ہم کسی سرکاری یا امریکی امداد کے بغیر کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وظائف مہیا کرنے کے لئے فکر مند رہتے ہیں۔وومن ایجوکیشن کے سلسلے میں مریم نواز سے ملنا چاہتے ہیں تا کہ مشعل اوباما کے فنڈز کا استعمال پوچھ سکیں ۔ مریم نواز اسلام آباد کے سکولوں کے لئے بسوں کی فراہمی کی بات کرتی ہیں تو وزیر اعظم دوسرے روز ہی بسوں کا آرڈر دے دیتے ہیں کیوں کہ وزیر اعظم مریم صاحبہ کے ابو جان بھی ہیں۔ بلکہ مریم نواز ابو جان کا دل اور دماغ ہیں۔ ہمارے ابو جان بانی پاکستان محمد علی جناح کے ایک سپاہی تھے جنہوں نے مریم کے ابو جان کو پاکستان تھالی میں رکھ کر پیش کیا۔اور خود رزق حلال میں ایک پروقار زندگی گزار کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ گو کہ نواز شریف کی مسلم لیگ میں ہمارے بزرگوں کی مسلم لیگ کارنگ پھیکا پڑ چکا ہے لیکن وزیر اعظم چونکہ ریاست کو جوابدہ ہوتا ہے اس لئے عوام کے سوالات کا جواب دیناان کی جاب کا حصہ ہے۔ خوشامد اور چاپلوسی ہم سے ہونہیں سکتی لیکن بلا سبب تنقید بھی نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد کے سکولوں کو معیاری بنانے اور سکول بسیں مہیا کرنے کا اعلان خوش آئند ہے اور امید ہے مریم نواز پورے ملک کے سکولوں کو اسلام آباد کے سکولوں جیسی بسیں مہیا کریں گی۔البتہ مشعل اوباما کے وومن ایجوکیشن کی امداد کی تفصیل جاننے کا تجسس برقرار رہے گا۔الیکشن سے پہلے ابھی کئی طرح کے سوالات اٹھائے جائیں گے۔ وفاق خواتین کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید سے جو کام لینا تھا لے کر انہیں سائیڈ پر کر دیا گیا۔ پرویز رشید کی جگہ مریم اورنگ زیب کو لا کر بٹھا دیا گیا۔ وفاقی حکومت مریم سے مریم کے گرد گردش کر تی دکھائی دیتی ہے۔ مریم نواز نے اپنی مرضی کی ٹیم بنا رکھی ہے۔مریم نواز کا میرٹ یہ ہے کہ وہ وزیر اعظم کی صاحبزادی ہیں۔ جس پر بھی ان کی نظر کرم ہو جائے ، وہ میرٹ سمجھا جائے۔ پی ٹی وی کو قومی ادارہ کہا جاتا ہے اس کے حالیہ چئیر مین عطا الحق قاسمی کا میرٹ بھی یہ ہے کہ ان پر میاں نواز شریف کا دست شفقت ہے ، عرفان صدیقی مشیر ہیں تو قاسمی صاحب میاں صاحب کی شمشیر ہیں۔ ایک تقریب میں ملاقات کے دوران قاسمی صاحب نے کہا ان کی پی ٹی وی میں صدر ممنون حسین جیسی حیثیت ہے۔اس جملے کو صدر ممنون حسین کی بے بسی سمجھا جائے یا قاسمی صاحب کی بے اختیاری ؟ قاسمی صاحب جن خواتین و حضرات پر عنایات فرمانا چاہیں وہاں وہ وزیراعظم نواز شریف نظر آتے ہیں اور جن شریف لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا مقصود ہو وہاں صدر ممنون حسین بن جاتے ہیں ؟ مریم اورنگ زیب کی انفارمیشن سیکرٹری صبا محسن نے بھی دو عہدے سنبھال رکھے ہیں۔ پی ٹی وی کی ایم ڈی بھی ہیں۔ لیکن ان کا حال بھی صدر ممنون حسین سے مختلف دکھائی نہیں دیتا۔ تمام اختیارات مریم سے مریم تک محدود معلوم ہوتے ہیں۔۔۔۔۔2017الیکشن کا سال ہے اور مریم نواز کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ کچھ حقائق خوشامدانہ رویہ سے نکل کر جاننا ضروری ہو جاتے ہیں۔ مریم نواز ملک چلا رہی ہیں لیکن عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کے لئیے عوامی سطح پر انا پڑتا ہے۔۔مریم اورنگ زیب اور ان کے شعبے پر بھی لکھنے کو بہت مواد موصول ہو رہا ہے۔ ہم عوام ہیں اور عوام میں رہتے ہیں۔ مریم نواز کو اقتدار اور راج تھالی میں ملا ہے جیسے ان کے والد کو پاکستان تھالی میں ملا۔اور ہم ملک بنانے والے ایک سپاہی کی اولاد ہیں۔ رگوں میں حقیقی مسلم لیگی لہو گردش کرتا ہے۔ ہم جلا وطنوں کے برے وقت کے گواہ ہیں۔ اور برے وقت کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔اقتدار کا نشہ حقائق سے دور رکھتا ہے۔ آف ریکارڈ اطلاعات مریم نواز اور مریم اورنگ زیب سے حقائق جانے بغیر ان ریکارڈ لانا مناسب نہیں سمجھتے۔ پی ٹی وی ادارہ سب کے باپ کی جاگیر ہے۔ مریم نواز اپنی ٹیم میں غیر سفارشی اور غیر خوشامدی افراد کو بھی موقع دیں اور تنقید برائے اصلاح کو سیاسی شفا سمجھیں۔ ابو جان کو بھی سمجھائیں کہ نوازشات و مہربانیاں کرتے وقت یاد رکھا کریں کہ وہ چند مخصوص افراد کے میاں صاحب نہیں بلکہ بیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم ہیں۔ ابو جان بھلے مریم نواز کے ہیں لیکن بیس کروڑ عوام کے حقوق کے زمہ دار ہیں۔ جن لوگوں ہر بار بار عنایات فرمائی جاتی ہیں ، وہ اہنے اختیارات کا استعمال کیسے کر رہے ہیں ، کچھ اس پر بھی بریک لگائیں۔ مریم اورنگ زیب پاکستان ٹیلی ویژن کی اندرونی کرپشن اور نوازشات کابھی تدارک کریں ورنہ بہت کچھ بے نقاب کرنا پڑے گا۔ انفارمیشن سیکرٹری صبا محسن کو فراغت ملے تو وہ پی ٹی وی کی ایم ڈی کے فرائض ادا کر سکیں۔ عہدے نوازے جائیں تو جائز اختیارات کا جائزہ بھی لیا جائے۔ اس کالم میں پس پردہ گزارشات پیش کی ہیں۔ آئینہ دکھایا تو برا نہ مان جائیں ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website