counter easy hit

شہید مقبول بٹ اور افضل گرو کی میتوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے، مظاہرین کا مطالبہ

Brussels-Protest

Brussels-Protest

برسلز (پ۔ر) بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں مظاہرین نے مطالبہ کیاہے کہ دو کشمیری حریت پسند رہنماؤوں شہید مقبول بٹ اور افضل گرو کی میتوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کیاجائے تاکہ وہ ان باقاعدہ آخری رسومات اداکریں اور مقبوضہ کشمیرمیں ان کے خاندانوں کی خواہشات کے مطابق تدفین ہوسکے۔ یہ مظاہرہ حریت پسند رہنماؤوں مقبول بٹ اور افضل گرو کی برسی کے موقع پر کشمیرکونسل ای یوکے زیراہتمام بھارتی سفاتخانے کے سامنے کیاگیا۔

مظاہرین نے کہاکہ بھارت کی سات لاکھ فوج کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت کے مطالبے سے نہیں روک سکتی۔ مقبول بٹ اور افضل گرو کا مشن کشمیرکی بھارتی تسلط سے آزادی تھا اور کشمیری عوام ان کے اس مشن کو جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ کوئی بھی مذہب اور قانون لواحقین کو انکے رسم و رواج کے مطابق تدفین سے نہیں روکتالیکن بھارتی حکومت نے ان دونوں کشمیریوں کی میتوں کو ان کے وارثین کی مرضی کے خلاف جیل میں دفن کرکے انتہائی سفاکانہ کردار اداکیاہے۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ شہید مقبول بٹ اور شہیدافضل گرو کی میتوں کوبڑے احترام کے ساتھ جیل کے احاطے سے نکال کرمقبوضہ کشمیرمیں انکے ورثاء کے حوالے کرے۔ یادرہے کہ محمد مقبول بٹ کو گیارہ فروری 1984ء کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر ان کے جسد خاکی کو وہاں ہی دفن کردیاگیاتھا۔ افضل گرو کو اسی جیل میں۹ فروری 2013 ؁ء کو پھانسی دے کر وہاں ہی دفن کردیاگیا ۔ افضل گرو کی پھانسی پر نہ صرف مقبوضہ کشمیربلکہ دنیاکی انسانی حقوق کی تنظیموں اور امن کے علمبرداروں نے بھی اس بھارتی اقدام پر سخت غم وغصے کا اظہارکیاتھا۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سیدنے عالمی برداری مطالبہ کیاکہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی گھمبیر صورتحال کا سختی سے نوٹس لے کربھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ مقبوضہ کشمیرکے نہتے عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی ختم کرکے ان کو ان حق خودارادیت دینے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں قید سیاسی رہنماؤوں کی رہائی اور ماورائے عدالت قتل و غارت کی روک تھام کا بھی مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ عالمی برادری مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے اپنااثرورسوخ استعمال کرے کیونکہ اس مسئلے کا حل خطے کے امن و امان کے لیے اشدضروری ہے۔