counter easy hit

آٹا چینی فارنزک رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش، نیا پنڈورابکس

پاکستان میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق رواں برس اپریل کے اوائل میں سامنے آنے والی انکوائری رپورٹ کی مفصل فارنزک آڈٹ رپورٹ جمعرات کو وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بلائے گئے اس خصوصی اجلاس میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کابینہ کے اراکین کو ان بحرانوں سے متعلق بریفنگ دیں گے جس کے بعد اس رپورٹ کو منظرعام پر لانے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چار اپریل کو منظر عام پر آنے والی انکوائری رپورٹ کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اس رپورٹ پر کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے قبل 25 اپریل تک فارنزک آڈٹ کے نتائج کا انتظار کریں گے۔

تاہم اس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ مکمل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا گیا تھا۔

اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ آٹے اور چینی کے بحران کے بارے میں جو تحقیقاتی رپورٹ تیار کی گئی تھی اور اس میں جن ذمہ داروں کا تعین کیا گیا تھا فارنزک آڈٹ رپورٹ میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔اہلکار کے مطابق وفاقی کابینہ کو بریفنگ میں اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے متعلق سفارشات بھی دیں گے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں متضاد رائے موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رپورٹ لیک کروائی گئی ہے جس کی تصدیق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور مبینہ طور پر چینی بحران کے اہم کردار جہانگیر ترین نے کی ہے۔

اُنھوں نے اس کا الزام وزیراعظم کے پرنسیپل سیکرٹری اعظم خان پر عائد کیا ہے۔ ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے مطابق حکومت نے یہ تحقیقاتی رپورٹ خود پبلک کی ہے کیونکہ وزیر اعظم نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ آٹے اور چینی کے بحران کی تحقیقات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر بھی اس تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور مذکورہ افراد کے اس تحقیقات کا حصہ بننے کے لیے جے آئی ٹی کے سربراہ کو خط لکھا تھا۔

ان ارکان پارلیمان نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم عمران خان کو تو طلب نہیں کیا البتہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی اس ٹیم کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق مذکورہ وفاقی وزیر خود پیش ہوئے تھے اور اُنھیں جے آئی ٹی نے طلب نہیں کیا تھا۔

یاد رہے کہ چینی کو جب بیرون ملک برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی تو اس وقت اسد عمر وفاقی وزیر خزانہ تھے۔اس سے قبل، رواں برس چار اپریل کو منظر عام پر آنے والی ان دونوں رپورٹس نے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی تھی۔ یہ رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں قائم ہونے والی ایک ٹیم نے تیار کی ہے۔

خیال رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے جو تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی اس کی سربراہی بھی واجد ضیا ہی کر رہے تھے اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس بھی دائر کیے گئے تھے۔

چینی بحران سے متعلق رپورٹ میں سب سے اہم نقطہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کا اس بحران میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف میں وزیر اعظم عمران خان کے بعد سب زیادہ اہمیت جہانگیر ترین کو حاصل ہے۔

گذشتہ ماہ جب یہ رپورٹ سامنے آئی تھی تو وزیر اعظم نے کابینہ میں چند وزرا کے محکمے تو ضرور تبدیل کیے تھے لیکن ابھی تک ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی۔

وزیر اعظم کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ایف آئی اے کی اس رپورٹ پر فارنزک آڈٹ ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سب سے پہلے اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایف آئی اے کی طرف سےچینی کے بحران کے بارے میں تفتیش کی روشنی میں تیار کی جانے والی اس رپورٹ میں جہانگیر ترین اور حکمراں جماعت کے دیگر رہنماؤں کے بارے میں کیا کہا گیا تھا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کیا تھا؟

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے چینی کی برآمد کی اجازت ملنے کے بعد صوبہ پنجاب کی کابینہ کی طرف سے شوگر ملز مالکان کو تین ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اور اس سبسڈی کا سب سے بڑا حصہ جہانگیر ترین کو ملا جو کہ 56 کروڑ تھا۔

واضح رہے کہ جہانگیر ترین ملک میں چھ شوگر ملز کے مالک ہیں جبکہ پورے ملک میں شوگر ملز کی تعداد 80 سے زیادہ ہے۔

اس فہرست میں دوسرا نمبر فوڈ سیکیورٹی کے سابق وفاقی وزیر اور موجودہ اقتصادی امور کے وزیر خسرو بختیار کا آتا ہے جنھیں 35 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی۔خسرو بختیار حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر سنہ 2018 کے عام انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر قومی اسمبلی میں آئے تھے۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی زکر تھا کہ صوبائی حکومت سے سبسڈی حاصل کرنے کے باوجود چینی کی قیمتوں میں کمی واقع نہ ہوئی اور لوگوں کو مارکیٹ سے مہنگے داموں چینی خریدنا پڑی جس کی وجہ سے شوگر ملز مالکان نے اس مد میں اربوں روپے کمائے۔

چینی برآمد کرنے کے فیصلے کے بارے میں وفاقی حکومت کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ وزیر اعظم نے شوگر ملز مالکان کو چینی برآمد کرنے کی اجازت اس لیے دی کیونکہ شوگر ملز مالکان نے گنے کے کاشتکاروں سے یہ کہہ کر گنا لینے سے انکار کردیا تھا کہ ان کے پاس چینی کا سٹاک پہلے سے ہی موجود ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے یہ موقف بھی سامنے آیا کہ اُنھوں نے سبسڈی دینے سے انکار کر دیا لیکن پنجاب حکومت نے اس معاملے میں کیوں سبسڈی دی اس بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں چوہدری منیر کی شوگر مل کا بھی زکر ہے جنھیں سبسڈی دی گئی۔ چوہدری منیر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے سمدھی ہیں اور خسرو بختیار کے بزنس پارٹنر بھی ہیں۔

آٹے کی قلت کے بارے میں ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے صوبوں کو پاسکو سے گندم خریدنے کے بارے میں کہا تھا جن میں چار لاکھ ٹن سندھ اور ساڑھے چار لاکھ ٹن صوبہ پنجاب کو خریدنے کے بارے میں کہا تھا۔

صوبہ سندھ نے صرف ایک لاکھ ٹن گندم خریدی جبکہ قیمیت زیادہ ہونے کی وجہ سے پنجاب کی گندم بھی سندھ میں چلی گئی جس کی وجہ سے پنجاب میں گندم کے زخائر میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے آٹے کی قیمیت میں اضافہ ہو گیا۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے پنجاب نے دیگر صوبوں کو گندم کی ترسیل کے حوالے سے اپنے بارڈر بند کر دیے جس کی وجہ سے نہ صرف صوبہ خیبر پختون خوا میں آٹے کی قلت ہو گئی بلکہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں آٹے کی قیمیتوں میں اضافہ ہو گیا۔ اس رپورٹ میں آٹے کی قلت اور مہنگا ہونے کی تمام تر ذمہ داری پنجاب کے محکمہ خوراک پر عائد کی گئی۔

آٹے کے بحران سے متعلق رپورٹ آنے کے بعد صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جبکہ ایک حکومتی ترجمان شہباز گل کے مطابق مذکورہ وزیر کو ان کے عہدے سے برطف کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد پنجاب میں تعینات متعدد بیوروکریٹس کو بھی او ایس ڈی بنا دیا گیا۔جہانگیر ترین کا موقف

ایف آئی اے کی اس رپورٹ کے بعد جہانگیر ترین کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ شوگر ملز مالکان کو حکومت کی طرف سے سبسڈی دی گئی جبکہ اس سے پہلے ماضی کی حکومتوں میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو خلاف قانون ہو۔ جہانگیر ترین نے اس رپورٹ کے لیک کرنے کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعظم کے پرنسیپل سیکرٹری اعظم خان پر ڈال دی اور اس رپورٹ کے لیک ہونے کی وجہ اعظم خان کے ساتھ اختلافات کو قرار دیا۔ جہانگیر ترین نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ آٹے کا بزنس نہیں کرتے۔

خسرو بختیار نے اس رپورٹ کے بعد فوڈ اینڈ سیکیورٹی کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد اُنھیں اقتصادی امور کا وزیر مقرر کر دیا گیا۔

اپنے استعفے میں اُنھوں نے یہ موقف اپنایا تھا کہ چونکہ ان کی شوگر ملز کا نام بھی اس رپورٹ میں آیا ہے لہٰذا یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ نیشل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت پر براجمان رہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے جہانگیر خان ترین کو زرعی اصلاحات کے بارے میں ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے ساتھ بیوروکریسی سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد کو بھی ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا۔

ارباب شہزاد کو جہانگیر ترین ہی لے کر آئے تھے۔ جہانگیر ترین کا موقف ہے کہ وہ کبھی بھی ٹاسک فورس کے چیئرمین نہیں رہے۔
اس رپورٹ کے بعد تجزیہ کاروں کے رائے

تجزیہ کار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے بعد کابینہ میں روبدل بظاہر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے دباو کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی ابھی ذمہ داران وفاقی کابینہ میں موجود ہیں جو کہ حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اصل کارروائی تو وفاقی کابینہ کے خلاف ہونی چاہیے جنہوں نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی برآمد کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا سنہ2016 کا اقتصادی رابطہ کمیٹی کے بارے میں فیصلہ موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ای سی سی کے فیلصوں کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ وفاقی کابینہ ان فیلصوں کی توثیق نہ کرے۔

ملک میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کو جو سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ آنے کے بعد عوام میں اپنی بظاہر کھورہی ساکھ اور مقبولیت کو بحال کرنا ہے۔بشکریہ : بی بی سی

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website