counter easy hit

پاکستان کا قرضہ۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض ہے

اقتصادی اشاریوں پر ہمیشہ تشریح اور بحث کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔کچھ لوگ ان اعداد و شمار کا معروضی جائزہ لیتے ہیں جب کہ بعض اپنے تعصبات کا شکار ہوتے ہیں۔آخر الذکر صورت میں تجزیہ نگار صرف اپنے مطلب کی معلومات پیش کرتے ہیں اورپہلے سے موجود خیالات کی بنیاد پر ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں چند لوگ اپنے تعصبات سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ وہ اتنے اہم اعدادو شمار کی غلط تشریح کے ذریعے اپنے ہی ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ یہ محسوس نہیں کر پاتے کہ نامکمل شواہد کی مدد سے کیا گیا اُن کا تجزیہ مقامی و غیرملکی سرمایہ کاروں اور اقتصادی شراکت داروں کے بھروسے کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ خوش قسمتی سے بین الاقوامی ادارے بشمول عالمی بینک ،عالمی مالیاتی فنڈ،ایشیائی ترقیاتی بینک  اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں معروضی تجزئیے اور تخمینے پیش کیے ہیں۔

مثال کے طور پر قومی قرضے کے انتظام کو لے لیجیے۔ چند تشکیک پسند تجزیہ نگار پاکستان کے قرضوں اور ادائیگیوں کے سلسلے میں مبالغہ آمیزی سے کام لے کر قیامت کا منظر نامہ کھینچتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔بلا شبہ ان کے تجزئیے حقائق کے بجائے غلط تشریحات پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ قومی قرضے کا انتظام کرنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ اس میں بجٹ کی ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ لاگت اور رسک کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور ثانوی منڈی  کا قیام اور قومی قرضے کو پائیدار بنیادوں پر قائم رکھنے کے مقاصد شامل ہوتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے اپنے مارچ 2016کے ایک اخباری کالم میں عرض کیا تھا کہ ہمارے قومی مالیاتی نظام میں قرضے کا انتظام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ حکومتوں کے بڑے بڑے مالیاتی خساروں کی وجہ سے گذشتہ کچھ برسوں میں قومی قرضے میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ہماری حکومت کا وژن  یہ ہے کہ قرضے اور مجموعی قومی پیداوارکے تناسب کو موجودہ قانونی حد یعنی 60 فیصد تک لایا جائے اور 2018-19سے آغاز کرتے ہوئے پندرہ سال میں اس کو پچاس فیصد کر لیا جائے۔اسی طرح ہم نے وفاقی مالیاتی خسارے کے لیے 4فیصد کی قانونی حد بھی مقرر کردی ہے۔اس سلسلے میں پارلیمان نے جون2016 میں مالیاتی ذمے داری اور قومی قرضے کی حدکے قانون میں ضروری تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔ ان دور رس تبدیلیوں سے ہمارے قرضوں کے انتظام میں ایک متعین نظم و ضبط آئے گا۔ اس وقت میں کچھ عام غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

زیادہ تر قرضہ بیرونی نہیں بلکہ مقامی ہے۔

سب سے پہلے ہم یہ سمجھ لیں کہ مقامی اور بیرونی قرضوں کا رسک علیحدہ علیحدہ ہے۔ جون 2016 کے اختتام پر کل ملکی قرضہ 19.68 کھرب  روپے تھااور خالص ملکی قرضہ17.83کھرب روپے تھا جس میں سے خالص مقامی قرضہ 11.78 کھرب روپے اور بیرونی قرضہ6.05کھرب روپے تھا۔ اس طرح خالص مقامی قرضہ خالص ملکی قرضے کا تقریباً 66 فیصد جب کہ باقی ماندہ 34فیصد بیرونی قرضہ تھا۔

نئے قرضوں کی ادائیگی لمبی مدت میں ہو گی۔

حکومت وسط مدتی حکمتِ عملی برائے قرضہ جات برائے 2015/16تا 2018/19پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سرکاری قرضے کی ادائیگی کی مدت میں اضافہ کر کے اسے مزید قابلِ برداشت بنا رہی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ کی طرح کے وسط مدتی اور طویل المیعاد قرض کے ذریعے مقامی قرضے کی اوسط مدتِ تکمیل (Maturity) بڑھائی جائے گی۔ جون2016کے اختتام پر درمیانی اور طویل مدت کے قرضے کی مالیت 8.6کھرب روپے تھی جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 13.7فیصد زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں قلیل مدتی قرضوںمیں ایک سال کے دوران صرف 8.4فیصد اضافہ ہوا۔

جون 2013 کے اختتام پر پاکستان کے سرکاری قرضے میں موجود ری فنانسنگ رسک ایک اہم مسئلہ تھاجس کی بنیادی وجہ فوری طور پر قابل الادا مقامی قرضے تھے۔اب ہم نے اس رسک کو کافی حد تک کم کر لیا ہے کیونکہ ہم نے ادائیگیوں کی مدت میں اضافہ کردیا ہے۔ لہٰذا اگلے ایک سال میں واجب الادا قرضوں کی شرح جو2013  میں64.2فیصد تھی، جون 2016کے اختتام پر کم ہو کر51.9 فیصد رہ گئی۔ جون 2016میں مقامی قرضے کی ادائیگی کی اوسط مدت میں اضافہ ہوا جو جون2013کے 1.8سال کے مقابلے میں 2.1سال ہو گئی ہے۔حکومت وسط مدتی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے لاگت  اور رسک  کا موازنہ کر کے قرضوں کی اوسط مدتِ ادائیگی میں مزید اضافہ کرے گی۔ سب مالیاتی ماہرین اتفاق کریں گے کہ مقامی قرضے کی جتنی طویل ہو گی اتنی ہی شرحِ منافع اور اُن کی ادائیگی یا توسیع کا رسک کم ہوگا۔ علاوہ ازیں کی طویل مدت سے  کی وسعت میں اضافہ ہوتا ہے اورلاگت  کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ادائیگی کا بوجھ کم ہوا ہے
ادائیگوں کے اوقات میں یہ تبدیلی اس وقت ہو رہی ہے جب مقامی قرضوں کے ریٹ بہت نچلی سطح پر ہیںجسے دیکھتے ہوئے حکومت نے اپنی آیندہ ادائیگیوں کی لاگت میں فائدہ اٹھایا ہے۔ اوسط مدت ادائیگی بڑھنے کی لاگت  یقینا دوبارہ قرضوںکے حصول کے خطرے (Risk)میں کمی اور لاگت  میں ہونے والے اضافوں سے تحفظ کی صورت میں ملنے والے فوائد کہیں زیادہ ہیںکیونکہ جون 2016میںایک سال میں ہونے والی جون 2013 کے 67.2 فیصد سے کم ہو کر صرف 52.8فیصد رہ گئی ہے۔

مقامی قرضوں کو ترجیح دینے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں بیرونی قرضوں کی نسبت دوبارہ حصول  کے رسک  کی شدت کم ہوتی ہے۔ خصوصاً مقامی کرنسی میں اٹھایا گیا قرضہ ٹریژری بلز اور انوسٹمنٹ بانڈ کے مناسب امتزاج کے ذریعے فوری طور پر دوبارہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔ٹی بلز کی ہر دو ہفتے بعد ہونے والی بولی اور مختلف کے پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز کی ہر مہینے ہونے والی بولی ری فنانسنگ کے لیے آزمودہ اور منظم موقع فراہم کرتی ہے۔

ادائیگی وقفے وقفے سے ہے نہ کہ کسی ایک مدت میں

یہاں یہ واضح کرنا اہم ہے کہ ساری ادائیگی ایک ہی وقت پر نہیں کرنا ہوتی بلکہ مختلف قرضے مختلف مدت میں واجب الادا ہوتے ہیں۔ اس سے حکومت کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے موجودہ قرضے کی ادائیگی کے لیے مناسب شیڈیول یا نئی مدت کا تعین کرے۔ایسا کرتے ہوئے حکومت قرض حاصل کرنے کی موجودہ لاگت، آنے والی مدت کے ممکنہ ریٹ اور محصولات کی صورتِ حال کو پیشِ نظر رکھتی ہے۔

بیرونی سرکاری قرضے کا حجم کم ہوا ہے۔
بعض تجزیہ کار اکثراوقات غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے میڈیا میں کہتے ہیں کہ سرکاری قرضے کا حجم 73ارب ڈالر ہے۔ وہ سرکاری اور نجی قرضے کو خلط ملط کرتے ہیں اور اس میں مالیاتی اور غیر مالیاتی نجی اداروں کے فارن ایکسچینج قرضوں کو بھی شامل کرلیتے ہیں۔ جون2016 کے اختتام پر کل غیرملکی سرکاری قرضہ57.7ارب ڈالر تھا جب کہ جون 2013 کے اختتام پر بیرونی سرکاری قرضے کا حجم 48.1 ارب ڈالرتھا۔ اس طرح بیرونی قرضوں میںمجموعی طور پر 6.3فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ کوئی بھی معقول ذہن اس اضافہ کو بے تحاشا اضافہ نہیں کہہ سکتا جیسا کہ بعض مبصرین دعویٰ کرتے ہیں۔یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ اس رقم کا ایک حصہ آئی ایم ایف کے قرضے سے آیا ہے جو بجٹ سپورٹ کے لیے نہیں بلکہ صرف بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور 2011میں آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے کی بقایا اقساط ادا کرنے کے لیے لیا گیا ۔

آخری بات یہ کہ ہر غیر جانبدار مالیاتی ماہر تسلیم کرے گا کہ بیرونی قرضے کے حجم میں تھوڑے بہت اضافے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ قرضوں کے حجم میں فارن کرنسی ذخائر ، فارن کرنسی آمدن اور مجموعی قومی پیداوارکے مقابلے میں کیا اضافہ ہوا ہے۔نیچے دیے گئے جدولکے سرسری جائزے سے واضح ہوتاہے کہ حجم میں اضافے کے باوجود بنیادی معاشی اشاریوں مثلاً مجموعی قومی پیداوار اور فارن کرنسی ذخائر کے تناظر میں گذ شتہ تین برس کے دوران بیرونی قرضوں کے بوجھ میںاچھی خاصی کمی آئی ہے۔

سرکاری بیرونی قرضے کے اہم اشارئیے۔فیصد۔

خالص بیرونی قرض داری میں کمی/ بہتری

ایک حقیقت پسندانہ طریقہ یہ ہو گا اگر ہم ملک کی مجموعی بیرونی قرض داری کا جائزہ لیں جس کا پیمانہ یہ ہے کہ سرکاری غیرملکی قرضے اور سرکاری فارن کرنسی ذخائر کا فرق دیکھا جائے۔

جون 2013میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مجموعی فارن کرنسی ذخائر 6ارب ڈالر تھے جن میں سے 2ارب ڈالر ایک دوست ملک کے ساتھ قلیل مدتی کرنسی تبادلے سے حاصل کیے گئے تھے جو آئیندہ 60 دنوں میں واجب الادا تھے۔ اس لیے عملی طور پر جون 2013میں ذخائر کا حجم صرف 4ارب ڈالر تھا جس کے مقابلے میں بیرونی سرکاری قرضہ 48.1ارب ڈالر تھا۔ اس طرح جون 2013میں خالص بیرونی قرضداری 44.1ارب ڈالر تھی ($48.1 ۔ جب کہ جون 2016میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مجموعی فارن کرنسی ذخائر 18.1ارب ڈالر تھے اور بیرونی سرکاری قرضہ 57.7 ارب ڈالر تھا اس طرح خالص بیرونی قرضداری 39.6 ارب ڈالر($57:7  $18.1 )تھی۔چنانچہ جون 2013کے مقابلے میں جون 2016میں ملکی خالص قرضداری کی صورتحال میں 4.5ارب ڈالر کی بہتری آئی۔

کسی ملک کے فارن کرنسی ذخائر کی اہمیت پر جتنا اصرار کیا جائے کم ہے۔ ان سے نہ صرف مرکزی بینک کرنسی کو غیر مستحکم کرنے والے قیاس آرائیوں پر مبنی حملوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے بلکہ فارن کرنسی کی مقامی منڈی کی مصنوعی تیزی کو روکنے کے ذریعے دراصل وہ افراطِ زر کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں جس سے قرضوں کی مقامی شرح مناسب حد میں رہتی ہے۔ جون 2016تک ختم ہونے والے تین مالی سالوں میں بیرونی سرکاری قرضے کے حجم میں 9.6ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جب کہ اس دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فارن کرنسی ذخائر میں 14.1ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔اس طرح بیرونی قرضوں کی رقم نکال کر بھی اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مزید 4.5ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ حکومت نے جون 2016کے اختتام تک تقریباً 12 ارب ڈالر بیرونی قرض کی واپسی کی ہے جس میں سے اکثر گذشتہ حکومتوں کا لیا ہوا قرضہ تھا۔ ان بھاری ادائیگیوں کے باوجود ملک کے فارن کرنسی ذخائر 23ارب ڈالر سے زائد ہیں۔ان میں سے 18.1ارب اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں جو کہ پانچ ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اس کے مقابلے میں جون 2013میں تقریباً ایک ماہ کی درآمدات کے لیے 4ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے۔ اس وقت کچھ مبصرین اسی وجہ سے یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ پاکستان کے بیرونی وسائل غیرملکی قرضے کی ادائیگیوں کے لیے ناکافی ہیں اور اس لیے ملک جون 2014 میں ڈیفالٹ کر جائے گا۔

ذخائر کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آخر میں میں ایک سادہ صورتحال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرض کیجیے اگر ملک کے پاس فارن کرنسی کے تسلی بخش ذخائر نہ ہوں تو لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ملک کے بین الاقوامی رسک پروفائل کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ تمام بین الاقوامی ترقیاتی ادارے ادائیگیوں کے توازن کے لیے دی جانے والی امداد بند کر دیں گے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں صفر یا انتہائی کم استطاعت کی بنا پر ہماری ریٹنگ کئی درجے نیچے کر دیں گی اور درآمد کنندگان کو غیر ملکی بینکوں سے ہوشربا نرخوں پر اپنے لیٹر آف کریڈٹ کنفرم کروانے پڑیں گے۔

قصہ کوتاہ ملک کو ہائی رسک اور منفی آؤٹ لک قرار دیا جا سکتا ہے جیسا کہ جون 2013 میں تھا۔ یہ سادہ سی مثال یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ مستحکم معیشت کے لیے فارن کرنسی ذخائر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر فارن کرنسی ذخائر بڑھ رہے ہوں اورملک کی خالص بیرونی قرضداری بھی کم ہو رہی ہو تو یہ دہرا فائدہ ہے جیسا کہ پچھلے تین سال میں پاکستان کے معاملے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مختلف خبروں کے برعکس سستی ڈویلپمنٹ فنڈنگ میں اضافہ
گزشتہ تین سالوں میں بہت سے نکتہ چین تجزیہ کار بیرونی قرض میں اضافے کی بنیادی وجہ کا اور تجارتی بنیادوں پر لیا جانے والا قرضہ قرار دیتے رہے ہیں جو کہ درست بات نہیں ہے۔ بیرونی قرضوں میں سب سے زیادہ حجم کثیر جہتی قرضہ جات  کا ہے جو کہ جون 2016 کے اختتام تک 26.4ارب ڈالر ہیں اور پیرس کلب قرض جو کہ12.7ارب ڈالر ہیں جو کہ مجموعی طور پر بیرونی قرض کا 68فیصد ہیں۔جب کہ سب سے زیادہ خبروں کا حصہ بننے والے کے قرضہ جات اور یورو بانڈ  اور کی مقدار بالترتیب صرف 6ارب ڈالر اور 4.6ارب ڈالر ہیں جو کہ کل بیرونی قرض کا 18فیصد ہیں۔

بقیہ 8ارب ڈالر باہمی اور تجارتی قرضہ جات ہیں۔اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ ان قرضہ جات کا ایک بڑا حصہ پرویز مشرف کے تاریک دور میں جاری کیے گئے 500ملین ڈالر کے یورو بانڈ اور گزشتہ حکومتوں کے سے حاصل کیے گئے قرضہ جات کی ادائیگیوں کی مد میں استعمال ہوا۔کثیر الجہتی قرضہ جات میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک  سے حاصل کردہ رقوم کا ایک بڑا حصہ شامل ہے۔یہاں اس امر کی یاد دہانی بہت اہم ہے کہ ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ملک کی غیر متوازن اقتصادی صورت حال،اور زرمبادلہ کے انتہائی قلیل ذخائر کے پیشِ نظر پاکستان سے سال 2013کے شروع میں عملی طور پر لین دین ختم کر دیا تھا لیکن ملکی معاشی صورت حال میں موجودہ حکومت کی بنیادی اصلاحات کی وجہ سے آنے والی بہتری کے باعث گزشتہ تین سالوں سے یہ تعلقات پھر سے بحال ہو چکے ہیں۔

ان شراکت داریوں کا بنیادی مقصد پاکستانی معیشت کو درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنے کے علاوہ ملک میں توانائی، محصولات، کاروباری آسانی،تجارتی سہولت کاری اور تعلیم کے شعبہ جات میں مدد فراہم کرنا اور چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباروں کو فروغ دینا شامل ہے۔

یہ قرضہ جاتی پروگرام کارکردگی اور پیداوار میں اضافے کے ذریعے پاکستان کی ممکنہ اہلیت میں اضافے کا سبب ہو گا لہٰذا یہ پروگرام قرضہ جات کی واپسی کی ملکی صلاحیت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی اہم ہے کہ یہ قرضہ جات رعائتی اور طویل المدتی ہیں اور ملک کے ادائیگیوں کے بوجھ میں زیادہ اضافہ کا باعث نہیں بنیں گے۔یہ رعائتی بیرونی قرضہ جات نسبتاً مہنگے اندرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں استعمال ہوئے ہیں۔

آنے والی ادائیگیاں ہماری استطاعت کے مطابق ہیں۔
سال 2021تک ہماری بیرونی قرضوں کی ادائیگیاںاوسطاً 5ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ملک کی گزشتہ روایت کے پیشِ نظر ادائیگیوں کی یہ مقدار پریشان کن نہیں ہونی چاہیے۔مالی سال 2013اور2014میں پاکستان نے بڑی کامیابی سے 6ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ کی ادائیگیاں ایسی صورت حال میں کیں جب زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہت کم تھے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے کہ اتنی بڑی ادائیگیاں پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرضہ جات کی مد میں کی گئیں۔اس وقت ملکی ذرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 23ارب ڈالر ہیں جو کہ تاریخی اعتبار سے بلند ترین سطح پر ہیںاور اسی لیے طے شدہ ادائیگیاں قابل انتظام ہیں۔ اس سے قبل ذخائر کی بلند ترین سطح -18.2ارب ڈالر جولائی 2011میں تھی۔جس میں آئی ایم ایف کی اسٹینڈ بائی سہولت  کے تحت حاصل ہونے والے  -7.5ارب ڈالر بھی شامل تھے۔

کچھ سٹیبیلٹی  کے بارے میں:
قرضوں کی سٹیبیلٹی  کے حوالے سے وزارتِ خزانہ میں ہے جو کہ اور کے معیاری اعداد و شمار کی روشنی میں بیرونی قرضوں پر نظر رکھتا ہے۔ میں نے پہلے ہی مارچ 2016کے آرٹیکل میں کچھ اشارئیے پیش کیے ہیں۔تاہم کچھ دیگر اعداد و شمار کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ کے حوالے سے جس شرح کو دیکھنا سب سے ضروری ہے وہ ایک سال میں واجب الادا قرض اور ہمارے فارن کرنسی ذخائر کی شرح ہے۔ اس شرح میںنمایاں بہتری آئی ہے جو کہ جون 2013کے 69فیصد سے کم ہو کر جون 2016کے اختتام تک صرف 32فیصد رہ گئی ہے۔اس میں مزید اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ ایک سال کے دوران واجبالادا ہونے والے قرضوں اور اسٹیٹ بینک کے خالص بین الاقوامی ذخائر میں قابلِ ذکر بہتری آئی ہے کیونکہ اب یہ تناسب مثبت 77فیصد ہے جب کہ جون 2013میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو یہ تناسب منفی میں تھا۔

اس بات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جسے بلند شرح نمو کے حصول کے لیے اپنی استعداداور روزگار کے مواقع میں اضافہ ، فی کس آمدنی میں بہتری،غربت میں کمی اور مسابقت میں بہتری لانے کی ضرورت ہے نتیجتاً بجٹ خسارہ ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ایک دوسرا حل ترقیاتی اخراجات میں کمی سے نموکا گلا گھونٹنا ہے جس سے اقتصادی و معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ہر سال فنانس بل کے ذریعے یہ مالی خسارہ پہلے ہی پارلیمنٹ سے منظور کیا جاتاہے تاہم یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ خسارے والا بجٹ خود بہ خود سرکاری قرض میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

اسی لیے سرکاری قرضے کی قطعی مقدار میں تب تک کمی ممکن نہیں جب تک پاکستان ایک بجٹ خسارے والا ملک رہے گا۔ قومی قرضے میں گذشتہ تین سال کے دوران 4,342ارب کا خالص اضافہ ہوا جو بنیادی طور پرپارلیمنٹ سے منظور شدہ مالی خسارے والے بجٹ کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ خسارہ جون 2016کے اختتام تک تین سالوں میں 4195ارب روپے رہا ہے۔ بقایا خسارہ دیگر غیر بجٹ خساروں کی وجہ سے ہے جیسا کہ جو کہ کرنسی کے اندرونی و بیرونی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پیش آ تے ہیں۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 30جون 2008کو پاکستان کا کل سرکاری قرضہ6,126ارب روپے تھا جب کہ خالص سرکاری قرضہ 5,650ارب روپے تھا جس میں 2,798ارب کا خالص مقامی اور 2,852ارب روپے کا بیرونی قرضہ شامل تھا۔مالی سال 2012-13کے اختتام تک کل سرکاری قرضہ 14,318ارب تک پہنچ چکا تھا جب کہ خالص سرکاری قرضہ13,483ارب روپے تھا۔ اس طرح گذشتہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور(2008-13) میں19فیصدسالانہ کی شرح سے 7,833ارب روپے کاخالصقرضہ حاصل کیا۔موجودہ حکومت نے2013میں اپنا پہلامالی سال 14,318ارب روپے کے کل ملکی قرضے اور13,483ارب روپے کے خالص  ملکی قرضے سے شروع کیا۔

جس میں48.1ارب ڈالر (4,797ارب روپے) کا بیرونی اور 8,686ارب روپے کا خالص مقامی قرضہ شامل تھا۔ جولائی 2013سے جون 2016کے درمیان کل ملکی قرضہ19,678ارب جب کہ خالص ملکی قرضہ 17,825ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں سے 57.7ارب ڈالر (6,051ارب روپے) بیرونی قرضہ جب کہ 11,774ارب روپے خالص مقامی قرضہ ہے۔اس طرح سرکاری قرضے میں 4,342ارب روپے کا خالص اضافہ ہوا ہے جس میں 9.6ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ شامل ہے۔اس طرح موجودہ حکومت کے پہلے تین سالوں میں خالص قومی قرضے میںسابقہ حکومت کے19.0فیصد کے مقابلے میں 9.75فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے ۔

جون 2008 میںخالص قرضے اور مجموعی قومی پیداوار  کا تناسب 53.1فیصد تھاجو جون 2013میں ہمارے حکومت سنبھالنے کے وقت بڑھتا ہوا 60.2فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ جولائی 2013سے جون2016کے درمیان خالص قرضے اور مجموعی قومی پیداوار  کا تناسب 60.2فیصدپربرقرار رکھا گیا ہے یعنی اس میں مزید ابتری نہیں آئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری  بہتر ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اس مضمون میں خالصقرضے کے اعدادوشمار بہترین عالمی طریق کاراور عالمی مالیاتی ادارے  اور متعدد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں استعمال ہونے والے طریقے کے مطابق ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2013کے عام انتخابات کے وقت پاکستان کی معیشت کو استحکام کی اشد ضرورت تھی۔ لہٰذا موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کو مستحکم کرنے کی غرض سے کئی عملی اقدامات اور بنیادی اصلاحات کیں۔ان اقدامات میں ٹیکس بیس کی بڑھوتری، غیر ضروری سبسڈیز میںکمی،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کی ساخت نو اور مالی خسارے میں کمی شامل ہے۔مالی خسارے کو جون 2016تک تین سالوں میں 8.2فیصد سے کم کر کے4.6فیصد تک محدود کرنے کے باوجود موجودہ حکومت نے وفاقی ترقیاتی اخراجاتکومالی سال 2013کے 348ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2017کے لیے 800ارب روپے تک بڑھایا ہے تاکہ کو مزید بڑھایا جا سکے جو کہ مالی سال 2016میں 8سال کی بلند ترین سطح 4.7فیصد پر رہی۔

اسی طرح غریب ترین لوگوں کو دی جانے والی مالی امداد میں تین سالوں میں مالی سال 2013کے 40ارب روپے کے مقابلے میںجون 2016کے آخر تک 115ارب روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔جب پاکستان مسلم لیگ(ن)نے 2013میں اقتدار سنبھالا تو اوسط افراط زر  میں تھی جسے مالی سال 2016تک 3فیصد سے بھی کم کردیا گیا ہے جو کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔آمدنی کے حوالے سے دیکھا جائے تو گزشتہ 3سالوں میں ٹیکس محصولات میں سالانہ 20فیصد کی اوسط سے 60فیصد اضافہ ہوا ہے جو مالی سال 2013کے 1946ارب سے بڑھ کر مالی سال 2016میں 3112  ارب روپے ہوا ہے جو کہ مالی سال 2013کے 3.38فیصد سالانہ سے6 گنا زیادہ ہے۔

عالمی اداروں نے بھی پاکستان کی اقتصادی کارکردگی میں بہتری آنے کا اعتراف کیا ہے۔ حال ہی میں اسٹینڈرڈ اینڈ پورز  نے پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ منفی Bسے بڑھا کر Bکردی ہے اور آیندہ کی صورتحال کو مستحکم قرار دیا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ملکی معاشی منظرنامہ بہتر ہوا ہے اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے مالی سال 2017کے لیے پاکستان کی مجموعی معاشی کارکردگی کا تخمینہ بہتر کرتے ہوئے 4.7فیصد سے بڑھا کر 5فیصد کر دیا ہے جب کہ ایشیائی ترقیاتی ادارینے2017کے لیے پاکستان کی،5.2فیصدسے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔عالمی بینک کے مطابق ترقی کی شرح 2017میں 5.2اور 2018میں 5.5فیصدرہنے کا امکان ہے ۔ علاوہ ازیں ہارورڈیونیورسٹی کے مطابق 2024تک پاکستان کیمیں5.07 فیصد سالانہ اضافہ ہو گا۔ہمارا ہدف یہ ہے کہ مالی سال 2017-18تک اقتصادی ترقی کی رفتار کو 6سے 7 فیصدتک بڑھایا جائے۔

ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ بار بار یہ معاملہ اٹھاتا ہے کہ حکومت مہنگے نرخوں پر بیرونی قرضے لے رہی ہے۔مگر یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔ بیرونی قرضوں کا بڑا حصہ انتہائی کم نرخوں اور آسان شرائط پر حاصل کیا گیا ہے۔اس کا اندازہ موجودہ حکومت کے بیرونی قرضوں کی اوسط لاگت سے ہوتاہے جو گرانٹس کے بغیر 3.1فیصد اور گرانٹس ملا کر 2.9فیصد ہے۔علاوہ ازیں اکتوبر 2016میں ہماری حکومت نے 1ارب ڈالر کا بین الاقوامی سکوک 5.5فیصد کے نرخ پر جاری کیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں سکوک اور بانڈکا کم ترین نرخ تھا۔لہٰذا موجودہ حکومت کے اٹھائے گئے بیرونی قرضے نہ صرف سستے نرخوں پر لیے گئے بلکہ ان کی ادائیگی بھی لمبی مدت میں واجب الادا ہے۔بیرونی قرضے اور کا گرتا ہوا تناسب یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرضداری کی رفتار میں کمی آئی ہے۔

مالیاتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ناگزیر ہے۔اچھے معاشی بندوبست کے لیے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ ان دو خساروں کو قابل برداشت حد تک رکھا جائے تاکہ مالیاتی خسارے میں بلا روک ٹوک اضافے سے سرکاری قرضے کے حجم میں اضافہ نہ ہو اور جاری کھاتوں کے خسارے سے ایسی بیرونی ادائیگیاں نہ جمع ہوں جن کے لیے ممکنہ وسائل دستیاب نہ ہوں ۔ہماری قرضوں کی پالیسی دراصل ان دو خساروں کا توازن برقرار رکھنے پر مشتمل ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط ہمارے قرضوں کے بندوبست میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس کا مرکزی نکتہ بجٹ خسارے میں کمی لانا ہے۔ نتائج خود بولتے ہیں۔مالی سال 2016میں کے 4.6فیصد ہونے والا خسارہ مالی سال 2013کے 8.8فیصد کا تقریباً نصف ہے جب موجودہ حکومت نے عنانِ اقتدار سنبھالی۔موجودہ مالی سال (2017) کے اختتام تک اسے 4 فیصد تک لایا جائے گا۔ تاہم اس کے باوجود اب برآمدات میں اضافہ کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری ہمارا ترجیحی ایجنڈا ہے۔اس سلسلے میں لیے گئے اصلاحی اقدامات سے آنے والے برسوں میں ملک کے میں بہتری آئے گی۔مجموعی طور پر اوپر بیان کیے گئے شواہد یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان اپنے قرضوں کا انتظام مناسب طریقہ کار کے مطابق کر رہا ہے۔اس سے اس تاثر کی بھی فیصلہ کن طریقے سے نفی ہوتی ہے کہ آنے والے کئی برسوں تک پاکستان قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا کرے گا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website