yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • پاکستان کا بھارت کے کشمیر سے متعلق دعوے مسترد، اقوام متحدہ کے نقشے ہی واحد مستند حیثیت قرارپاکستان کا بھارت کے کشمیر سے متعلق دعوے مسترد، اقوام متحدہ کے نقشے ہی واحد مستند حیثیت قرار
    • نئے صوبے کے قیام کی متنازع قانون سازی پر پی ٹی آئی کی شدید مخالفت، فیڈریشن کے استحکام کو لاحق خطرات سے خبردارنئے صوبے کے قیام کی متنازع قانون سازی پر پی ٹی آئی کی شدید مخالفت، فیڈریشن کے استحکام کو لاحق خطرات سے خبردار
    بین الاقوامی خبریں
    • خلیجی سلامتی کے لیے امریکی اتحاد ناکافی، خود کفالت ناگزیر: قطری ترجمان کا اہم انکشافخلیجی سلامتی کے لیے امریکی اتحاد ناکافی، خود کفالت ناگزیر: قطری ترجمان کا اہم انکشاف
    • فرانس کے سابق میئر جوکیم پیوئیو پر نابالغ بچوں سے جنسی زیادتی کے تازہ الزامات، دو نئے گواہ سامنے آئےفرانس کے سابق میئر جوکیم پیوئیو پر نابالغ بچوں سے جنسی زیادتی کے تازہ الزامات، دو نئے گواہ سامنے آئے
    شوبز
    • معروف گلوکار نثار ویناڈ 44 سال کی عمر میں دبئی میں انتقال کر گئے، پرفارمنس سے چند گھنٹے قبل دم توڑا##معروف گلوکار نثار ویناڈ 44 سال کی عمر میں دبئی میں انتقال کر گئے، پرفارمنس سے چند گھنٹے قبل دم توڑا ##
    • مومینہ اقبال اور ساقب چدھڑ تنازع: ایم پی اے نے بہنوں پر سنگین الزامات عائد کر دیےمومینہ اقبال اور ساقب چدھڑ تنازع: ایم پی اے نے بہنوں پر سنگین الزامات عائد کر دیے
    مقامی خبریں
    • پاکستان کا بھارت کے کشمیر سے متعلق دعوے مسترد، اقوام متحدہ کے نقشے ہی واحد مستند حیثیت قرارپاکستان کا بھارت کے کشمیر سے متعلق دعوے مسترد، اقوام متحدہ کے نقشے ہی واحد مستند حیثیت قرار
    • نئے صوبے کے قیام کی متنازع قانون سازی پر پی ٹی آئی کی شدید مخالفت، فیڈریشن کے استحکام کو لاحق خطرات سے خبردارنئے صوبے کے قیام کی متنازع قانون سازی پر پی ٹی آئی کی شدید مخالفت، فیڈریشن کے استحکام کو لاحق خطرات سے خبردار
    کاروبار
    • پاکستان معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں واپس نہیں جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا واضح اعلانپاکستان معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں واپس نہیں جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا واضح اعلان
    • گوانگزو میں پاکستان چین سرمایہ کاری فورم: پانچ اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، نئی اقتصادی راہیں متعینگوانگزو میں پاکستان چین سرمایہ کاری فورم: پانچ اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، نئی اقتصادی راہیں متعین
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

سوچ نگر کا ماجد

Yes 1 Webmaster January 14, 2015January 15, 2015 1 min read
Prof Riffat Mazhar
Share this:
Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر: پروفیسررفعت مظہر
گزری اتوار عبدالماجد ملک کی کتاب ”سوچ نگر” کی تقریبِ رونمائی میں جانے کا موقع ملا ۔ماجد کے بلاوے میں اصرار اور خلوص ہی اتنا تھا کہ ڈھونڈے سے بھی معذرت کے الفاظ نہ ملے۔ تقریب میں جاکر احساس ہوا کہ اگرمیں معذرت کرکے گھر بیٹھ رہتی تو ایک خوشگوار دِن گزارنے کا لطف کھود یتی۔ تقریب کے صدر نشیں محترم سجاد میر اور مقررین میں نمایاں ڈاکٹر اجمل نیازی، نجم ولی خاں، گلِ نو خیز اختر ، مظفر محسن، فرخ شہباز وڑائچ ،ناصر محمود ملک اور کچھ دوسرے لوگ شامل تھے۔مجھے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے کہا گیا لیکن میں نے معذرت کرلی کیونکہ کچھ نجی مصروفیات کی بناپر میں تو ”سوچ نگر”کے داخلی دروازے پر دستک تک بھی نہ دے سکی تھی۔ ویسے کچھ مقررین نے میری طرح یہ اعتراف تو ضرور کیا کہ اُنہیں سوچ نگر کے مطالعے کا وقت نہیں ملا لیکن پھربھی وہ لمبا چوڑا اظہارِ خیال کرگئے جس سے کم ازکم یہ تو ثابت ہو گیا کہ ”تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے ”۔یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے کہ اب ہم کتاب پڑھے بنا بھی تجزیوں اور تبصروں کے ماہر ہو گئے ہیں۔

گلِ نو خیز اختر فنِ مزاح نگاری میں خراماں خراماں آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ”اظہارِ خیال”کرکے محفل لوٹ لی۔ وہ بولتے رہے اور ہم قہقہے لگاتے رہے۔ ناصر محمود ملک اور مظفر محسن نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں رنگ جمایا جبکہ نجم ولی خاںنے دِل کی بات انتہائی جذباتی انداز میں کہی۔ وہ کتاب کے بارے میں بہت کم بولے کیونکہ اُن کا دُکھ دوسرا تھا۔ اُنہوں نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنسز میں تو جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام دہشت گردی کے خلاف یکسو تھیں لیکن جب آئینی ترمیم کی باری آئی تو دونوں نے ہی راہِ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی ۔نجم ولی کا جذباتی اندازاُن کے دلی دُکھ کا عکاس تھا جو مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ ہونا بھی یہی چاہیے کہ
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دِل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

اب ایسابھی نہیں کہ میں”سوٹڈ بوٹڈ” نجم ولی خاں کو قلند رہی سمجھ بیٹھوں لیکن یہ ضرور کہ اُن کے اندر کہیں نہ کہیں ایک قلند رچھپا بیٹھا ہے جو کبھی کبھار عالمِ غیض میں نعرۂ مستانہ بلند کرتے ہوئے باہرن کل آتا ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے فرمایا کہ وہ تقریب میں آنے سے معذرت کرنا چاہتے تھے لیکن جب اُنہیں پتہ چلا کہ ماجد میانوالی کے گاؤں”رَکھی”کا باسی ہے تواُن سے رہانہ گیا کیونکہ اُن کا اپنا آبائی گاؤں بھی ”رَکھی”سے ملحق ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دَورانِ تقریر عمران خاں اور ریحام خاں کا ذکر بھی کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ اِس شادی سے اداکارہ میرا اور عائلہ ملک کے دِل ٹوٹ گئے، تب پیچھے سے آواز آئی کہ اور بھی بہت سے دِل ٹوٹے ہیں

جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا”مینوں تے ایناں دوواں دا ای پتہ اے، باقیاں داتینوں پتہ ہووے گا”(میںتو اِن دونوں کے بارے میں جانتا ہوں، باقیوں کا آپ کوپتہ ہو گا)۔ محترم سجاد میر نے اپنے خطبۂ صدارت میں فنِ کالم نگاری کے بارے میں ایسی بہت سی باتیں کیں جونَوآموز لکھاریوں کے لیے مشعلِ راہ تھیں ۔یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ایک استاد اپنے طلبا و طالبات کو لیکچر دے رہا ہو۔ یوں ہنستے مسکراتے یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی لیکن یہ بتانامیں بھول ہی گئی کہ ساری تقریب کامزہ تو اُس وقت دوبالا ہوا جب ہم ڈائننگ ہال میں پہنچے ۔تقریب کے اختتام تک چار بج چکے تھے اور مارے بھوک کے بُراحال ۔ڈائننگ ہال کی میزوں پر سجے طرح طرح کے کھانوں نے ہماری آنکھوں میں اشتہاکی چمک کوکئی گنا کر دیا اور پھر ہمیں نہیں پتہ کہ ہم نے کیا کھایا، کتنا کھایا اور کیوں کھایا۔

گھر پہنچ کرہم نے سوچا کہ اب چونکہ ماجدکا نمک کھا چکے اِس لیے ”سوچ نگر”کا مطالعہ کرہی لینا چاہیے کیونکہ اگر نہ کرتے تویہ ”نمک حرامی”ہوتی ۔سوچ نگر کے مطالعے کے بعد میری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ اگرماجد کی تحریروں کو ادبی معیارپر نہ پرکھا جائے تو اُن میں وہ سبھی کچھ مو جود ہے جو کسی بھی مثبت سوچ رکھنے والے شخص کے دل کی آواز ہو سکتی ہے ۔ماجد سے میرا تعارف زیادہ پرانا نہیں لیکن اُس سے جب بھی ملاقات ہوئی، مجھے محسوس ہوا کہ اُس نوجوان میں کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی اُمنگ جواں ہے ۔وہ مُنہ ٹیڑھا کرکے، انگریزی کے جملے جھاڑ کر دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش تو نہیں کرتا لیکن اپنی فطری سادگی کے سبب اپناحلقۂ احباب وسیع ضرور کرتا جا رہا ہے ۔ساری زندگی اُردو ادب پڑھنے اور پڑھانے کی بنا پر مجھے ہمیشہ نسلِ نَوکے وہ لوگ بہت اچھّے لگتے ہیںجو اُردوادب کے محافظ بن کراُبھر رہے ہیں ۔اُردوہماری قومی زبان ہے لیکن ہم نے ہمیشہ اِس سے سوتیلی ماں کا ساسلوک کیا ہے۔

اگر ماجد ملک جیسی نسلِ نَواُردو کی حفاظت کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہے تو ہمیں اُنکی تحریروں میں ادبی موشگافیوں کی تلاش کی بجائے اُنکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ماںکے پیٹ سے توکوئی لکھاری پیدا ہوتاہے نہ تجزیہ وتبصرہ نگار ،سبھی اِس دشتِ پُر خارکی سیاحی کے شوق میں نکلتے ہیں ۔کچھ تھک کریہ سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ سفر جاری رکھتے ہوئے نمایاں ہوجاتے ہیں ۔جس ماجدکو میں جانتی ہوںاُس نے چھوٹی سی عمر میں زندگی کے سارے نشیب وفراز کو دیکھا، پرکھا اورسہا ۔یہی وجہ ہے کہ اُسکی تحریروں میں ایک سبق موجود ہے اور لائقِ تحسین یہ کہ یہ سبق دینِ مبیں کے تابع ہے ۔جوقاری بھی سوچ نگرکا مطالعہ کرے گااُسے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ ماجدکے اندر ایک” نوجواں مسلم ”کا دل دھڑکتا ہے۔

اُس کی یہی خوبی اُس کی ساری ادبی خامیوں (اگرکوئی ہیں)پر حاوی ہوجاتی ہے۔ اُس کا دُکھ یہ ہے کہ وہ جب تہذیبِ حاضر کو دینِ مبیں سے متصادم دیکھتا ہے تو چلا اُٹھتا ہے اور جذبات کی یہی رَواُسے ادبی پختگی سے دورلے جاتی ہے لیکن اِس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ قاری پراپنا نقطۂ نظر ضرور واضح کر جاتا ہے اور میرے نزدیک ایک اچھّی تحریر کی خوبی بھی یہی ہونی چاہیے ۔سر سیّد احمد خاں کی تحریروں کے بارے میں مولانا الطاف حسین حالی نے لکھا تھا کہ سر سیّد کی حالت تو اُس شخص کی سی تھی جس کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو اور وہ لوگوں کو مدد کے لیے پکار رہا ہو۔ ماجد بھی جب یہ کہتاہے کہ ”میں تو شرمندہ ہوں اِس دَور کا انساں ہو کر” تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تہذیبِ حاضر کے درندوں سے نبردآزما ہے ۔مجھے یہ بھی محسوس ہوتاہے کہ جیسے ماجد خود اپنی تلاش میں ہو۔ اسی لیے کبھی وہ شہرِ خموشاں میں نکل جاتا ہے توکبھی قیامت کی نشانیاں ڈھونڈنے لگتا ہے ،کبھی تفرقوں میں نہ پڑنے کا درس دیتا ہے تو کبھی اسلاف کی دنیا میں گُم ہو جاتا ہے ۔حصولِ منزل کی لگن اور ”ادھوری سوچیں”ہی اُس کا سرمایۂ حیات ہیں ۔اگر اُس نے اپنا سفر جاری رکھا تو مجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دِن اُسے ڈھیروں ڈھیر قاری بھی مل جائیں گے۔

تحریر : پروفیسر مظہر

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Nowshera
Previous Post نوشہرہ، مسجد میں گیس لیکج سے دھماکہ، امام سمیت پانچ نمازی جھلس گئے
Next Post سوچ نگر کا ماجد
Prof Riffat Mazhar

Related Posts

پاکستان کا بھارت کے کشمیر سے متعلق دعوے مسترد، اقوام متحدہ کے نقشے ہی واحد مستند حیثیت قرار

پاکستان کا بھارت کے کشمیر سے متعلق دعوے مسترد، اقوام متحدہ کے نقشے ہی واحد مستند حیثیت قرار

September 8, 2026
نئے صوبے کے قیام کی متنازع قانون سازی پر پی ٹی آئی کی شدید مخالفت، فیڈریشن کے استحکام کو لاحق خطرات سے خبردار

نئے صوبے کے قیام کی متنازع قانون سازی پر پی ٹی آئی کی شدید مخالفت، فیڈریشن کے استحکام کو لاحق خطرات سے خبردار

September 8, 2026
عمران خان کی بہنوں عالیہ اور عظمیٰ خان کے خلاف مقدمات کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش

عمران خان کی بہنوں عالیہ اور عظمیٰ خان کے خلاف مقدمات کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش

September 8, 2026
خلیجی سلامتی کے لیے امریکی اتحاد ناکافی، خود کفالت ناگزیر: قطری ترجمان کا اہم انکشاف

خلیجی سلامتی کے لیے امریکی اتحاد ناکافی، خود کفالت ناگزیر: قطری ترجمان کا اہم انکشاف

September 7, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.