counter easy hit

سانحہ قصور کے اسباب و محرکات

Kasur Scandal Suspects

Kasur Scandal Suspects

تحریر: عتیق الرحمن
گذشتہ دوہفتوں سے ہر کس و ناکس کے لبوں پر ایک ہی واقعہ زبان زدِ عام ہے چہ جائیکہ میڈیا ہو یا سیاستدان، علما و کالم نگاراور عدلیہ سب کے سب اس گھنونے واقعہ کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے چوکہ جس معاشرہ میں سے انسانیت کی حس مٹ جاتی ہے اس معاشرے کو تباہی و بربادی سے کوئی طاقت و قوت بچا نہیں سکتی مگر یہاں چند امور کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ اول یہ کہ اس طرح کے واقعات کیا صرف پاکستان میں واقع ہوتے ہیں ؟یا مغرب اور مہذب معاشروں کے راگ الاپنے والے اس مرض سے یکسر محفوظ ہیں ؟دوسری بات یہ ہے کہ اس سرطان کے پنپنے کو کونسے عوامل مدد دے رہے ہیں اور کیا اسباب ہیں کہ نوجوان اس لت خبیثہ میں مبتلا ہورہے ہیں؟جس طرح سانحہ قصور کو پرنٹ و الکٹرانک میڈیا کی زینت بنایا جا رہا ہے اس سے مکروہ مرض کا سدباب ہوگا یا اسے مزید فروغ ملے گا۔

کس طریقہ سے اس ذلت آمیز دنیا سے معاشرے کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے ؟ سب سے پہلی بات بڑی واضح ہے کہ لواطت و ہم جنس پرستی اور زنا کی تمام اقسام مغرب میں مروج ہیں اور ان کے معاشرے میں بطورلازمی جزو کے رائج ہیں ۔اس پر ان کو کوئی برائی و ذلت نظر نہیں تی کیوں کہ ان کاتقریباً ہر فردکسی نا کسی سطح پر اس بیماری میں مبتلا ہے اسی لیے نہ تو وہ خود اس کو اپنے معاشرے کی برائی جتاتے ہیںاور نہ ہی کوئی میڈیا یا سول سوسائٹی اس پر احتجاج کرتی نظرآتی ہے جبکہ یہ حقیقت مسلم ہے کہانسانی حقوق کے نعرے بلند کرنے والوں کو اسلامی ملکوں میں یا اسلام پسند وں میں رتی بھر بھی خامی و کوتاہی( جو کہ نہیں ہونی چاہیے ) نظر آجائے تو اس کو لے کر اسلام اور اسلام پسندوں اور اسلامی معاشرے کو ہدف تنقید بنانے سے نہیں چوکتے۔

جہاں تک دوسرے امر کا تعلق ہے کہ اس قبیح و مکروہ عمل کو فروغ کہاں سے مل رہاہے اس کے بہت سے اسباب ہیں جن میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا،مغربی معاشرے کی اندھی تقلید ،ٹی وی چینل پر شب و روز مغربی طرز کے ہندی و ترکی اور انگریزی ڈراموں اور فلموں کی نمائش و تنشیر کے ساتھ عورت کو پرنٹ و الیکڑانک میڈیا میں اشتہار بنانا،اخلاقی اقدار سیتہی دامن معاشرہ بشمول والدین ،اہل محلہ،سکول و مدرسہ میں اخلاقی تربیت کا فقدان جس کے سبب بڑی تیزی کے ساتھ بچہ برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتے ہیں اور سکولوں میں بچوں کو اسلامی اقدار سے خاطر خواہ گہی نہیں دی جاتی کیونکہ سکولوں کا مقصد ہی صرف تجوریاں بھرنا ہے اس لئے وہ اسلامیات و اخلاقیات کو تختہ مشق بناتے ہیںاور کمزور سے کمزور فرد کو اسلامیات کا استاذ مقرر کرتے ہیں،دینی مدارس و مساجد کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے مگر افسوس ہے علماء معاشرے کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی ادنی سی کوشش بھی نہیں کرتے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یا تو مسالک کی جنگ سے فرصت نہیں یا پھر وہ اپنے چندوں کے سبب ایسے موضوعات کو موضوع بحث بنانے میں اجتناب کرتے ہیں کہیں معاشرے کی ناراضگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تاخیر سے شادیاں ۔اسلام کا بڑا خوبصورت اصول ہے کہ بچہ بلوغت کی دہلیز پر پہنچتے ساتھ ہی اس کی شادی کی ترغیب دیتاہے اس میں حکمت یہی ہے کہ معاشرہ انتشار سے بچارہے اور اس میں اخلاقی امراض نہ پنپ سکیں ۔مگرالمیہ ہے کہ والدین اس فرض کو اداکرنے میں غفلت سے کام لیتے ہیں وہیں پر معاشرے میں شادی اور جائز عمل کو اس قدر سخت و گراں کردیا گیا ہے جہیز اور لڑکی والوں کی طرف سے سونا ،زمین اور گھر کا مطالبہ کرتے ہیں جس کے باعث لوگ بچوں کی شادی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اور دوسری طرف برائی و فحاشی کوارزاں کردیا گیا ہے کہ گلی محلہ میں جنسی فروخت کے مراکز کھلے ہوئے ہیں۔ایک اہم خرابی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اختلاط سکولوں ،مدراس ،ہسپتالوں ،تھانوں اور اسٹیشنوں پر اس طرح کے امراض کو سراٹھانے کا موقع ملتا ہے ان اداروں کو کے ذمہ داران کو احتساب کے عمل سے گذارنے کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ ان کو یہ احساس دلایا جائے کہ آپ معاشرے کے اہم حصہ و ادارے کی نمائندگی کررہے ہیں اور آپ کا ہر عمل معاشرے کو اچھائی یا برائی و بربادی میں دکھیلنے کا موجب ہو گا لہذااس طرح کی تمام بیماریوں سے نجات کے لئے ترجیحی اقدام کریں۔

Society

Society

پرنٹ و الیکڑانک میڈیا جس طرح اس معاملہ کو پیش کررہاہے اس سے یہ برائی مٹنے کی بجائے اس کو مزید پنپنے کا موقع ملے گا ۔ٹی وی چینل پر ایسے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جن سے برائی رکنے کے برعکس ان سے زیادہ فروغ پاتی ہے اور ان کے مرتکبین دیدہ دلیر ہوجاتے ہیں جب وہ اس مرحلے سے کامیابی سے گذر جائیں مثالیں نجی ٹی وی چینل کے کرائم رپورٹ پر مبنی پروگرامات ہیں ۔مجرموں کے کی نشاندہی و ثبوت کے بعد قرار واقعی سزا ملنی چاہیے اور ان کو نشان عبرت بننا چاہیے اور اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا پڑے گا کہ ان اسباب کا خاتمہ کیا جائے جن کے سبب یہ حس خبیث جنم لیتی ہے۔تھانے اور جیلوں میں مجرموں کی اصلاح کی بجائے ان کو عادی مجرم بنا یا جاتاہے جس کے سبب مجرم سر چھڑ کر اور سینہ زوری سے جرم کرتے ہیں۔

ملک پاکستان کے تمام طبقات پر لازم ہے بشمول والدین ،اساتذہ،سکول و مدارس، مساجد اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکمران و سیاستدان و مذہبی رہنماء اس ملک عظیم کو مثالی معاشرہ فراہم کرنے کی خاطر اسلام کے رہنماء اصولوں سے استفادہ کریں اور اسلامی واخلاقی اقدار کر روشن کرنے کے لئے اپنے اپنے دائرے میں کوشش کریں اور بالخصوص معاشرے میں جائز و حلال(شادی) طریقے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور حرام خوری و لذت پرستی(لواطت،ہم جنس پرستی و زنا) کے اڈوں کو فی الفور بند کیا جائے ۔علماء پر لازم ہے کے وہ منبرومحراب سے نکاح کے سنت طریقوں کو بیان کرنے کے ساتھ نوجوانوں کی شادی فضائل و فوائد سے معاشرہ کو مطلع کریں۔

حکومت الیکڑانک ،سوشل میڈیا اور ٹی وی پروگرامات میں غیراخلاقی ڈراموں اور فلموں اور اعلانات پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مدارس اور سکولوں میں نوجوانوں کو اسلامیات و اخلاقیات جو کہ لازمی مضمون ہے کے لئے متخصص اساتذہ کو تعینات کریں اور پرائیوٹ سکولوں اور تعلیمی اداروں کا بھی محاسبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ معاشرتی اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کو منہدم کرنے میں کردار تو نہیں اداکر رہے۔بیرون ممالک کے تعاون سے چلنے والے تمام اسکولوں میں دینیات ،اسلامیات اور اخلاقیات کو فی الفور رائج و نافذ العمل کیا جائے ۔پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن سمیت یوایس ایڈ اور این جی اوز کے تعاون سے چلنے والے اداروں کی بھی کڑی نگرانی کی جائے۔

 Atiq ur Rehman

Atiq ur Rehman

تحریر: عتیق الرحمن
atiqurrehman001@gmail.com
0313-5265617