counter easy hit

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی امراض کی تشخیص اور ذمہ داری کا فقدان

Justice Anwar Zaheer Jamali

Justice Anwar Zaheer Jamali

تحریر: محمد صدیق پرہار
کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا ہے کہ ملک میں ایک دوسرے پرالزامات کاکلچرپنپ رہا ہے۔یہ کلچر آج کانہیں بہت پرانا ہے اب اس میںتیزی آگئی ہے۔ہم دوسروںپرالزام لگانے میں دیرنہیں لگاتے۔کسی بھی ایسے معاملہ جس میں ہم خود مجرم ہوں توخودکوبے گناہ ثابت کرنے کیلئے نہ جانے کہاں کہاں سے دلائل تلاش کرکے لے آتے ہیں۔یہ کلچر ہرشعبہ میں پایا جاتا ہے۔ سیاست میں تویہ ایک لازمی جزوبن چکا ہے۔کتنے ہی ایسے الزامات ہیں جوسیاستدانوں پرسیاستدانوںنے ہی لگائے ہیں لیکن وہ ابھی تک ثابت نہیںہوسکے۔یہ کلچرہمارے گھروںمیں بھی پایاجاتا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے پرالزام لگاکر ایک دوسرے کوتشدد کانشانہ بناتے ہیں۔

عدالتوںمیں خاص طورپرفیملی کیسزمیں تنسیخ نکاح اورواپسی جہیزکے کیسزمیںجوکچھ لکھا جاتا ہے وہ اگرسوفیصدنہیں تو٧٠ فیصدضرورجھوٹ اورالزام ہوتا ہے۔کاروباری افرادبھی اپنے مخالف کے کاروبارکومتاثرکرنے کیلئے بھی اسی کلچرکاسہارالیتے ہیں۔ اس کلچرسے مساجد بھی محفوظ نہیں جوبھی مسجدمیںنمازاداکرنے آتا ہے وہ امام مسجدکونصیحت کرنا اوراس کی ذمہ داریوںکااحساس دلانا ہے اپنا فرض عین سمجھتا ہے حالانکہ وہ تمام ذمہ داریاں امام مسجدکی نہیں ہوتیں۔نمازوقت پرنہیںہوتی، مسجد دیرسے کھلتی ہے، کوئی کہتا ہے مسجدکیوںبندکرتے ہو۔ باتھ روم میں صفائی نہیں ہے،مسجدکی ٹوٹنیاںخراب ہیں۔یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ امام مسجدکے حقوق بھی پورے کررہے ہیںیانہیں۔کیاکسی سکول، کالج، دفتر، کمپنی کاسربراہ بھی اپنے ادارے اوردفترکے باتھ کی خود صفائی کرتا ہے ؟ان کی میزکی صفائی بھی دیگرملازمین کرتے ہیں۔مسجدکی صفائی اوردیکھ بھال کرنا، ضروریات کاخیال رکھنا جن کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ خود تواپنی ذمہ داریوںکااحساس نہیںکرتے الٹاامام مسجدکوذمہ دارٹھہراتے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کاکہناتھا کہ ہرشخص حقوق کی بات کرتا ہے لیکن ذمہ داریاں نبھانے کوتیارنہیں،انسانی حقوق کیخلاف کوئی قانون نہیںبن سکتا۔

ملک میں ترقی کی رفتارسست ہونے کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہرشخص حقوق کی بات کرتا ہے لیکن ذمہ داریاں نبھانے کوتیارنہیں۔سیاستدان جب چاہتے ہیں اپنی تنخواہیں اورمراعات بڑھالیتے ہیں۔ سرکاری ملازمین تنخواہیں بڑھانے کیلئے احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔معاشرہ کے دیگرطبقات بھی حقوق، مراعات اورسہولیات کی بات کرتے ہیں ۔ ان میں سے یہ کوئی بھی نہیں دیکھتاکہ اس کی جوذمہ داری ہے کیاوہ اچھی طرح نبھارہا ہے۔کیاوہ اپنی ڈیوٹی پربروقت حاضرہوکراوربروقت چھٹی کرتا ہے۔ ان کاکہناتھا کہ قانون پرعملدرآمدکی ذمہ داری صرف عدلیہ پرنہیں پورے معاشرے پرہے۔ابھی چندروزپہلے کسی نے کہہ دیا کہ ملک میں وزیراعظم کی عدم موجودگی میںآئینی بحران پیداہوچکا ہے۔توایک شخص کہنے لگا کہ ہم نے خودکمانا ہے خودکھانا ہے تواس شخص نے کہا کہ یہ تیری گھٹیا سوچ ہے، آئین پرعمل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ،وہ کہنے لگا کہ یہ ان کامعاملہ ہے ہمارانہیں ، توآئین کی عملداری کی بات کرنے والے نے کہا کہ کیاہم ٹریفک کے اصولوںپرعمل کرتے ہیںتواس نے کہا نہیں۔

court

court

عدلیہ کاکام آئین اورقانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے جبکہ اس پرعمل کرناہم سب کی ذمہ داری ہے۔ہم صرف ٹریفک کے قوانین پرہی عمل کرلیں توآئے روز سڑکوںپرہونے والے حادثات برائے نام ہی رہ جائیں گے۔جسٹس انورظہیر جمالی نے کہا کہ مقننہ ، عدلیہ اورانتظامیہ کواپنااپناکرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی اس بات پرعمل ہوجائے توہمارے اکثرمسائل ختم ہوجائیں گے۔کراچی میں قومی گول میزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ تعلیمی معیارکی بہتری اورجدید ٹیکنالوجی کے بغیرانصاف کی فراہمی کے تقاضے پورے نہیں کیے جاسکتے، انصاف سب کاحق ہے اپنے حقوق کے حصول کیلئے شعورپیداکرنا ہوگا۔اداروںکونئے خون، نئی سوچ اورنئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔تعلیمی معیارکی بہتری اورٹیکنالوجی کاحصول ہمارے تمام اداروںکی بہتری کیلئے ضروری ہے۔جدیدتعلیم اورٹیکنالوجی کی بدولت اداروںکی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مقدمات کی تفتیش اورمجرموںکی شناخت اوربھی زیادہ بہترطریقے سے ہوگی۔

اداروںکونیاخون، نئی سوچ اورنئی ٹیکنالوجی فراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کاکہناتھا کہ گہرائی میںجاکراپنی غلطیوںکودیکھناہوگا۔دنیاکامشکل ترین کام اپنی غلطیوںکودیکھنا اورآسان ترین کام دوسروںکی غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔کوئی اورہماری غلطیوں کی نشاندہی کردے تویہ ہمارے لیے برداشت سے باہرہوتا ہے اورہم کسی کی غلطی دیکھ لیں توپھرخوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ جب ہم اپنی غلطیوںکودیکھیں گے نہیں تواپنی اصلاح کیسے کریں گے۔اپنے کردارکوبہترسے بہتربنانے کیلئے اپنی غلطیوںکاجائزہ لینااورپھرسے نہ کرنا ضروری ہے۔آزادکشمیرجوڈیشل کانفرنس سے خطاب کے دوران چیف جسٹس انورظہیرجمالی کاکہناتھا کہ کرپشن ملک کودیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،کرپشن ملک کودیمک کی طرح نہیں چوہوں کی طرح چاٹ رہی ہے۔یوں توملک میں اس کرپشن کے خاتمے کیلئے قوانین اورادارے موجودہیں چاہیے تویہ تھا کہ یہ کم سے کم ہوتے ہوتے ختم ہوجاتا ہے الٹا اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے، آئے روزاخبارات میںکرپشن کی نئی داستانیں پڑھنے کوملتی ہیں۔کرپشن ختم کرنے کیلئے اس کے خاتمہ کیلئے بنائے قوانین اوراداروں کاپھرسے جائزہ لیناہوگاکہ ان میںکون سی ایسی خرابی ہے جس کی وجہ سے کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی ہے۔

جسٹس انور ظہیرجمالی نے کہا کہ ایک دوسرے پرالزامات کے بجائے اپنامحاسبہ کرنا ہوگا، دوسروںپرالزام لگانا اوردوسروںکامحاسبہ کرنا ہم اپناپہلاحق تصورکرتے ہیں۔اپنا محاسبہ کرنا دنیاکے مشکل ترین کاموں میں سے ہے۔سیاستدان توایک دوسرے کے محاسبہ کامطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ گنتی کے چندسیاستدان ہی ہیں جوخودکو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں۔ ہمیں اپنامحاسبہ کرنے کاحوصلہ مل جائے توہم غلطیاںبھی کم سے کم کریں گے، اپنے فرائض اورذمہ داریاں اداکرنے میںکوتاہی، سستی اورلاپرواہی سے کام نہیں لیں گے، کسی کوناجائزتنگ نہیںکریں گے، اپنی ڈیوٹی کی جگہ پربروقت پہنچیں گے اوربروقت چھٹی کریں گے،کام چوری، ذخیرہ اندوزی، ناجائزمنافع خوری، رشوت وصولی سے اجتناب کریں گے۔ان کاکہناتھا کہ انصاف کی فراہمی لازمی جزو ہے۔ساٹھ فیصد مقدمات سرکاری اداروںکی نااہلی اوربدانتظامی کانتیجہ ہیں۔سرکاری ادارے اپنی کارکردگی بہتربنالیں توعدلیہ سے ساٹھ فیصدمقدمات کابوجھ ختم ہوجائے گا، جس سے مقدمات کی تعدادمیں نمایاں کمی آجائے گی۔مقدمات کم ہونے کی وجہ سے انصاف کی جلدفراہمی بھی ممکن ہوجائے گی۔وہ کہتے ہیں کہ کرپشن کی بیماری ختم کرکے گڈگورننس کاماحول پیداکرنے کی ضرورت ہے۔

Treatment

Treatment

اس بیماری کاعلاج کرنے والے ڈاکٹروں اورلیبارٹریوں کے چیک اپ کی ضرورت ہے۔کہیں ایسا تونہیں کہ اس بیماری کاعلاج کرنے والے معالج مرض ختم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کی دواتواستعمال نہیںکرارہے۔چیف جسٹس درست ہی کہتے ہیں کہ کرپشن اورنااہلی ختم کیے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔نئے حج کوٹہ آپریٹرزکی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ بدعنوانی اوراقرباپروری کاخاتمہ ہوگاتو ملک میںگڈگورننس آئے گی۔چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں فل بینچ نے نئے حج آپریٹرزکی درخواست نمٹاتے ہوئے وزارت حج کوپالیسی مرتب کرتے وقت عدالت کے فیصلے کومدنظررکھنے کاحکم دیا ہے اورہدایت کی ہے کہ اگرعدالتی فیصلے پرعمل نہیں ہوتا تومتاثرہ فریق دادرسی کیلئے قانون کے تحت رجوع کرسکتا ہے ۔ درخواست گزاروںکے وکیل نے موقف اپنایا کہ حج پالیسی کے بارے میں عدالتی فیصلے پرعمل نہیںہوا۔لیکن ان آپریٹرزکوبھی کوٹہ الاٹ ہواجن کے لائسنس زائدالمیعادہوچکے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم توایک عرصہ سے چیخ اورکہہ رہے ہیں کہ آخرملک میںگڈگورننس کب آئے گی۔

بدعنوانی، جانبداری، اقرباپروری ،لاقانونیت اورمحرومیوںکاخاتمہ کب ہوگا۔عدلیہ ایک عرصہ سے حکومت کی توجہ گڈگورننس کی طرف دلارہی ہے۔چیف جسٹس کے ان ریمارکس سے کیاثابت ہوتا ہے یہ ہمارے قارئین اچھی طرح جانتے ہیں۔نہ جانے یہ کام کب ہوگا، ایسے الفاظ کس وقت اورکس کیفیت میں کہے جاتے ہیں معاشرہ کاہرفرد خوب جانتا اورسمجھتا ہے۔وہ لفظ توآسان اورعام استعمال کا ہے تاہم ہم عدلیہ کیلئے وہ لفظ استعمال نہیںکرناچاہتے۔یہ ریمارکس دے کرجسٹس انورظہیرجمالی نے اس کیفیت کااظہارنہیںکیاجس کیفیت کااظہاریہ کام کب ہوگا کہنے سے ہوتا ہے انہوںنے حکومت اوراداروںکواحساس دلایا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی میںبہتری لائیں کسی کوشکایت کاموقع نہ دیں۔اسی گڈگورننس کی عدم موجودگی کی وجہ سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے متعدد ازخودنوٹس لیے تھے۔چاہیے تویہ تھا کہ ادارے اورمحکمے اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے اورایسا کام ہی نہ کرتے کہ جس سے چیف جسٹس کوازخودنوٹس لیناپڑے الٹا چیف جسٹس کے اس اختیاربارے باتیںہونے لگیں ۔وہ چاہتے تھے کہ عدلیہ کایہ اختیارختم ہوجائے پھروہ جوچاہیںکریںکوئی پوچھنے والابھی نہ ہو۔ہمیں یہ بھی دیکھناہوگا کہ ملک میں گڈگورننس کی کمی سیاستدانوںکی وجہ سے ہے یااس کی ذمہ داربیووکریسی ہے۔

چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے نجی ٹی وی چینلزپرقابل اعتراض موادنشرہونے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پگڑی اچھالنے کیلئے پیسے لے کرٹی وی پرپروگرام کیے جاتے ہیں۔جرائم کے خاتمہ کیلئے اچھی حکمرانی وقت کی ضرورت ہے۔ریاست گڈگورننس لے آئے توساٹھ فیصدمقدمات ختم ہوجائیں گے پیمراصرف ایڈوائس اوروارننگ ہی جاری کرتا ہے۔ایسی سزائیں دینے کی ضرورت ہے جومثال بن جائیں۔ چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمراکے ضابطہ اخلا ق پرعمل ہوتوسارے مسائل حل ہوجائیں۔اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شیخ عظمت سعید نے پیمراکے وکیل سے جواستفسارکیا ہے اورنجی ٹی وی چینلزکی جن نشریات بارے استفسارکیا ہے ۔پیمرااورنجی ٹی وی چینلزکوچاہیے کہ وہ اپنے چینلزپرایسا نہ ہونے دیں۔جب بھی کوئی مہمان کسی بھی ٹی وی چینلزپرقائداعظم، علامہ اقبال، نظریہ پاکستان، قیام پاکستان، ملک کے وقار کے بارے میںمنفی باتیںکرے تواس کواسی وقت باہرپھینک دیاجائے۔

Publish Books

Publish Books

اس طرح کی کتابوں کی اشاعت پربھی پابندی لگادی جائے اورجوکتابیں شائع ہوچکی ہیں ان کوتلاش کرکے ضبط کرلیا جائے۔ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن لاڑکانہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انورظہیر جمالی نے کہا کہ کوئی ادارہ ذمہ داری پوری نہ کرسکا ۔صرف ذاتی مفادکیلئے قانون سازی کی گئی۔ہمیں وہ قیادت نہیںمل سکی جوقو م کو بلندیوں پرپہنچادیتی بیڈگورننس ، کرپشن کے خاتمے کیلئے فرشتے نہیں اتریں گے۔ہم میں سے ہی کسی کوآگے آناہوگا۔آزادی کے بعد تیس سال مارشل لاء کی نذرہوچکے ،طبقاتی تفریق کے باعث عوام پریشان ہیں۔ کسی کے خلاف کارروائی کی جائے توبڑی لابی تحفظ کرنے آجاتی ہے،معاشی ناانصافیوںکاخاتمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے حکومت کوچاہیے کہ وہ ایسے ترقیاتی منصوبے شروع کرے جس سے بیروزگاری کاخاتمہ ہواورعوام رزق حلال کماسکیں۔راقم الحروف نے روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میںلکھا تھا کہ کوئی کسی کالیڈرہے توکوئی کسی کا ۔ ان میں سے قوم کالیڈرکوئی نہیں۔چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے بھی یہی بات کی ہے۔قومی قیادت ہی قوم کوبلندیوںپرپہنچادیتی ہے۔قوم کے لیڈرکوقوم کی فکرہوتی ہے اپنی نہیں۔ملک میں کبھی صدارتی نظام رہا توکبھی پارلیمانی۔جس حکومت کے مفادمیںجونظام تھا وہی رائج کردیاگیا۔

جب دیکھا گیا کہ ارباب اقتدارکسی قانون کی زدمیں آرہے ہیںتواس قانون میں ترمیم کردی گئی۔خود کوقانون کے مطابق ڈھالنے کی بجائے قانون کواپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی رہی۔کسی کوتیسری باروزیراعظم بننے سے روکناہوتوتیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پرپابندی لگادی جاتی ہے اورجب کسی نے تیسری باروزیراعظم بنناہوتویہ پابندی ختم کردی جاتی ہے۔جب کسی سیاسی پارٹی کاتعاون درکارہوتا ہے تونائب وزیراعظم بھی بنادیا جاتا ہے جب یہ ضرورت نہیں رہتی توآئین سے یہ شق حذف کردی جاتی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے خطابات اورریمارکس میں جن خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔حکومت پاکستان ان خرابیوںکودورکرنے کیلئے موثرلائحہ عمل اختیارکرے۔

انہوںنے معاشرے کے فردکواپنی اپنی ذمہ داریوںکااحساس دلایا ہے۔معاشرہ کاہرفرداپنی ذمہ داریاں دیانتداری نبھائے دوسروں کے حقوق اوراپنے فرائض کی ادائیگی کوزندگی کانصب العین بنالے تومعاشرہ خوشگوارہوجائے گا۔اس کیلئے لیڈرشپ کوابتداء کرناہوگی۔
لندن میں وزیراعظم نوازشریف کی اوپن ہارٹ سرجری مکمل اورکامیاب ہوگئی ہے۔ قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں ملک بھرمیں ان کی صحت یابی کیلئے دعائیں کی جارہی ہیں۔ ان کی صحت یابی کیلئے بکروں کے صدقے بھی دیے گئے ہیں۔ قوم کی دعا ہے کہ وہ جلدصحت یاب ہوکروطن لوٹ آئیں اورملک کوقوم کی خدمت کریں۔

Siddique Prihar

Siddique Prihar

تحریر: محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com