counter easy hit

اور صحافتی زندگی کا باب تمام ہو گیا

Journalism

Journalism

تحریر: تجمل محمود جنجوعہ
چند روز قبل میری ملاقات اپنے دوست قاسم بشیر گوندل سے ہوئی۔ ہم چونکہ دو سال کے طویل عر صہ بعد ملے تھے اس لئے ہم کئی گھنٹے تک بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ قاسم میری صحافتی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کرنے لگا اور اپنے ایک کولیگ (رائو عاطف) کے ایک صحافی دوست کا واقعہ سنانے لگا جو چند روز قبل ہی ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ آپ بھی انہی کی زبانی سنئیے۔

یہ آج سے پانچ سال پہلے کی بات ہے جب میں میٹرک کے امتحانات دے کر فارغ ہوا تو ایک دن میرا دوست شمس میرے پاس آیا اور اپنے ساتھ شہر چلنے کو کہا۔وہ اس وقت انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دے چکا تھا۔ چونکہ میں بھی رزلٹ کا منتظر تھا اور چھٹیاں ہونے کے باعث زیادہ تر وقت گھر ہی گزارتا تھا، لہذا شمس کے ساتھ ہو لیا۔ ایک گھنٹے سفر کرنے کے بعد شمس نے بائیک ایک مقامی اخبار کے دفتر کے باہر روک دی ۔ ہم دفتر کے اندر داخل ہو گئے۔ وہاں ایک صاحب پہلے سے ہی شمس کا انتظار کر رہے تھے۔شمس نے اپنی جیب سے ہزار ہزا ر کے دو نوٹ نکالے اور ان صاحب کو تھما دیئے۔ ( یہ 2005ء کی بات ہے)۔ ان صاحب نے نوٹ پکڑے اور کہا کہ اگلے ہفتے تمہارا کارڈ بن جائے گا، آ کے لے جانا۔ شمس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔ ہم باہر آگئے اور شمس نے بائیک سٹارٹ کی اور مجھے بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس وقت تک میں کچھ سمجھ نہیں پایا تھا کہ اس نے پیسے کیوں دئیے اور کو ن سا کارڈ بنوانا چاہ رہا ہے۔ میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ خود مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا، ”تم جانتے ہوئے میں صحافی بن گیا ہوں اور آج سے اس اخبار کے رپورٹر کی حیثیت سے کام کروں گا اور اپنے علاقہ کے مسائل کو اجاگر کروں گا”۔ میں پیسوں والی بات اب تک نہ سمجھ پایا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ پیسے آپ نے اس بندے کو کیوں دیئے۔ وہ کہنے لگا کہ وہ صاحب اس اخبار کے ایڈیٹر ہیں اور میں نے انہیںپریس کارڈ کی فیس دی ہے۔ میں اس کی بات سن کر صرف ”اچھا” ہی کہہ سکا۔ شمس کہنے لگا، ”میں تو کہتا ہوں تم بھی کارڈ بنوا لو۔” مگر میں نے انکار کر دیا۔ اس سے اگلے دن شمس نے میرے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو شمس بہت خوش دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ خیریت ہے آج بڑے خوش لگ رہے ہو۔ اس نے اخبار میرے سامنے کرتے ہوئے کہا یہ دیکھو۔ اخبار میں میری تصویر چھپی ہے۔ میں نے اس سے اخبار لیا اور دیکھنے لگا۔

ایک کونے پر اس کو نمائندگی دئیے جانے کا اعلان بمع تصویر چھپا تھا۔ میں نے اسے مبارکباد دی۔ بس اسی طرح ہر روز کوئی نہ کوئی خبر چھپوانے لگا۔ اس کا شوق اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اپنی بھیجی ہوئی خبر اخبار پر دیکھنے کے لئے وہ خراب سڑکوں اور لوکل ٹرانسپورٹ میں چالیس کلو میٹرسفر کر کے اخبار کے دفتر پہنچ جاتااور اس اخبار کی دو یا تین کاپیاں لے کر دوبارہ اتنا ہی سفر طے کر کے گائوں واپس آتا۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور چار ماہ کے بعد اس نے اپنے شہر کے ایف ایم ریڈیو کے لئے اپنی یونین کونسل سے بطور رپورٹر کام کرنا شروع کر دیا۔(یہ الگ بات کہ اسے ایف ایم کی نمائندگی کے لئے بھی اسے دو ہزار روپے سکیورٹی فیس کی مد میں ادا کرنا پڑے تھے۔) اس نے فرسٹ ڈویژن میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر لیا تھا اور اب اسی کالج سے گریجوایشن کرنے لگا۔اب کبھی کبھار وہ پریس کلب بھی جانے لگا تھا۔ چونکہ ان دنوں گائوں میں کیبل کی سہولت نہ تھی اور ہمارے شہر میں ایف ایم ریڈیو کو بنے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، اسلئے گائوں کے لوگ ایف ایم پر رات آٹھ بجے خبریں ضرور سنا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ان خبروں میں زیادہ تر مقامی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ ایف ایم ریڈیو کے نیوز پریزنٹر رپورٹر کے نام کے ساتھ خبر پڑھا کرتے تھے۔

چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ اپنے گائوں سمیت قریبی علاقہ جات میں بھی جانا جانے لگا۔ اب تو میں کبھی کبھی سوچا کرتا کہ کاش اس دن میں بھی اخبار کی نمائندگی لے لیتا اور ایسے ہی لوگ مجھے بھی پہچانتے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ پریس کلب میں جانے کے باعث قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے رپورٹرز کے ساتھ اس کی خاصی دوستی ہو گئی تھی لہذا پریس کلب میں اس کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اسے شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا ۔ گریجوایشن کے امتحانات کے بعد اس نے مقامی اخبارات میں کالم لکھنا بھی شروع کر دیا۔ پھر ایک سال کے عرصہ میں اس کی تحریر میں اس قدر نکھار آ چکا تھا کہ قومی اخبارات میں اس کے کالم شائع ہونے لگے اور پاکستان کے معروف ترین اخبارات سے اہم قومی دنوں یا اہم واقعات کے حوالہ سے کالم کے لئے اسے کالز آنے لگیں۔گریجوایشن پاس کرنے کے بعد اب وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ ایک قومی اخبار اور ٹی وی چینل کے ساتھ بطور تحصیل رپورٹر کام کرنے لگا۔ لیکن اب کی بار اسے نمائندگی کے لئے دو ہزار نہیں بلکہ تیس ہزار روپے ادا کرنا پڑے۔ اپنی محنت اور شوق کے باعث اس نے جلد ہی رپورٹنگ میں بھی اپنا نام پیدا کر لیا۔ لیکن اب شاید اس کے تارے گردش میں آنے والے تھے۔

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور اس کے چند ماہ بعد ہی اس کی والدہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں اور ڈاکٹریٹ کے خواب آنکھوں میں سجانے والاتنگی حالات کے باعث ماسٹر بھی مکمل نہ کر سکا اور میڈیا میں کسی مناسب نوکری کی تلاش کرنے لگا۔اپنے کام کے باعث وہ ضلع کی تمام میڈیا تنظیموں کا اعزازی ممبر اور اپنے ادارے کا ڈسٹرکٹ رپورٹر تو بن چکا تھا مگر کوئی پیڈ جاب حاصل نہ کر سکا تھا۔ اسے نہ تو کرپٹ افسران کے تلوے چاٹنے کی عادت تھی اور نہ ہی آج تک اس کے کسی استاد نے اسے دوسروں کاحق مار کر اپنی جیب گرم کرنے کا سبق دیا تھا ۔ اس لئے وہ میرٹ پر ہی نوکری بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دس سے زائد ٹی وی چینلز اور قریباً اتنی ہی تعداد میں اخبارات میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اس کی قسمت پر تو جیسے تالا لگ چکا تھا۔ کچھ عرصہ اسی طرح مختلف میڈیا ہائوسز کے چکر کاٹنے کے بعد اس نے دیگر شعبہ جات کی طرف بھی اپلائی کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی اپنی نوکری کے لئے کوشش کرتا رہا۔ مگر اسے سفارش نہ ہونے اور رشوت کے لئے رقم نہ ہونے کے باعث مختلف بہانے بنا کر انکار کر دیا جاتا۔ایک ٹی وی چینل میں وہ نیوز پریزنٹر اور رپورٹر کے لئے انٹرویو دینے گیا تو وہاں اسے انٹرویو لئے بغیر، اس کے تجربے اور لگن کو پرکھے بغیر انکار کر دیا گیا اور اسے رسیپشنسٹ کی نوکری کے لئے آفر کی گئی۔ وہ مایوس ہو چکا تھا۔ پڑھا لکھا ہونے اور باشعور کے باوجود وہ مایوسی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔اس نے صحافت کو خیرباد کہنے اور تارک الدنیا ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے کالم نویسی،رپورٹنگ اور حتیٰ کہ فیس بک اور موبائل فون تک استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ وہ کسی سے ملنے سے بھی گریز کرنے لگا۔ ایک دن اسی اندر کی گھٹن سے تنگ آکر وہ زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا اور پچیس سالہ شمس ٹرین سے ٹکرا کر اپنے خوابوں سمیت پاش پاش ہو گیا۔ مجھے آج بھی اس کا آخری سٹیٹس یاد آتا ہے۔ ” اور صحافتی زندگی کا باب تمام ہو گیا۔”اور ”ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا ہو گا۔فیس بک کے دوستو اللہ حافظ و ناصر۔ میرے لئے دعا کرنا کہ میں اپنے فیصلوں پر ثابت قدم رہ سکوں۔ آپ سب کے لئے بہت سی دعائیں۔ ”

اتنا کہہ کر قاسم نے نے سرد آہ بھری اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”تجمل بھائی ! یہ بات سچ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابرہوتیں اور سب لوگ برے نہیں ہوتے۔ آپ اپنے شعبہ کو ہی لے لیں، ایک طرف تو ایسے لوگ جو مڈل پاس بھی نہیں اور شہر کے معروف ترین صحافی ہیں اور ناجائز ذرائع سے جمع کردہ پیسوں سے اب ان کے کئی کاروبار بن چکے ہیں اور دوسری طرف شمس جیسے لوگ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور صحافت کو عبادت سمجھنے والے ہوتے ہیں، ان کا کوئی مستقبل نہیںہوتا۔ایسے میں مَیں کسے قصور وار ٹھہرائوں۔ چند نوٹوں کی خاطر نمائندگیاں اور پریس کارڈ فروخت کرنے والوں کو یا شمس جیسے لوگوں کو جو اس باطل زدہ دور میں بھی حق کو نجات سمجھتے ہیں اور اس پر قائم ہیں۔پہلے وڈیرے اورجاگیردار اپنے غلط کاموں کو منظر عام پر لانے کی پاداش میں صحافیوں کی جان کے دشمن بن جاتے تھے اور آج کل ایماندار صحافی خود ہی اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔بھائی، شمس کا خون کس کے سر ہو گا۔” نوجوان صحافی کی دردناک کہانی سن کر میرا دماغ مائوف ہو چکا تھا۔ یقینا فیلڈ ورک کرنے والے بہت سے صحا فیوں کی کہانی شمس جیسی ہو گی اور ان کا انجام خدا جانے کیا اور کیسا ہوتا ہو گا۔ میرے پاس اپنے دوست قاسم کو کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ کیا آپ ان سوالات کا کوئی جواب دے سکتے ہیں…..؟؟؟

Tajammal Mahmood Janjua Logo

Tajammal Mahmood Janjua Logo

تحریر: تجمل محمود جنجوعہ
tmjanjua.din@gmail.com
0301-3920428
www.facebook.com/tajammal.janjua.5