counter easy hit

جنم جنم کی ایک کہانی، امر جلیل

Sab Jhoot by Amar Jalil

Sab Jhoot by Amar Jalil

جب کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تو ہم سب پریشان ہوجاتے ہیں، میں بھی بہت پریشان رہتا تھا، میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہر جنم میں میرے ساتھ ایک ہی کہانی کیوں دہرائی جاتی ہے، کہانی تبدیل کیوں نہیں ہوتی؟ کہانی میںٹوئسٹکیوں نہیں آتا؟ کہانی کا انجام مختلف کیوں نہیں ہوتا؟ صدیوں سے ایک ہی کہانی میرے ساتھ کیوں دہرائی جاتی ہے؟ میں بہت پریشان رہتا تھا، میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں! میں جانتا ہوں آپ بھی میری بپتا جیسی بپتا سے گزرتے رہتے ہیں، آپ کی سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ پچھلے اڑسٹھ برسوں سے آپ ایک ہی نسل کے لوگوں کو ووٹ دیکر، اپنا نمائندہ بنا کر اسمبلیوں میں کیوں بٹھاتے ہیں! اور پھر اپنے منتخب کئے ہوئے ممبروں کی کرپشن کا رونا روتے رہتے ہیں! آپ کی سمجھ میں قطعی نہیں آتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں! آپ اپنے ووٹ سے اپنے ہی نمائندوں کی کرپشن دیکھ کر اپنے بال نوچنے لگتے ہیں، اپنا گریبان چاک کردیتے ہیں، کوئی وجہ تو ہے کہ پاکستان میں پاگلوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جس تیزی سے ملک میں پاگلوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی آبادی میں پاگل اکثریت میں ہوں گے اور جمہوریت کے بل بوتے پر اسمبلیوں میں برا جمان ہوں گے، کچھ لوگوں کا خیال ہے پاگل ممبر اچھی قانون سازی کرسکیں گے اور کرپٹ ممبروں کے مقابلے میں ملک کا کاروبار اچھی طرح سے چلا سکیں گے۔
آپ جانیں، آپ کی پریشانیاں جانیں، میں پریشان تھا کہ ہر جنم میں میرے ساتھ ایک ہی کہانی کیوں دہرائی جاتی ہے، میں آسمانوں سے پوچھتا پھرتا تھا کہ کسی جنم میں میرے ساتھ کچھ نیا کیوں نہیں ہوتا؟ کسی نئی کہانی کا میں کردار کیوں نہیں بنتا؟ تب ایک رات میری ماں نے انٹرنیٹ پر مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا ’’تو اس قدر پریشان کیوں ہے بیٹے؟‘‘
نہ جانے کس جہاں سے، کتنی دور سے میری ماں نے مجھ سے رابطہ کیا تھا، مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ ماں کو کیسے پتہ چلا کہ میں پریشان تھا! کیا ایک ماں کو وقت اور فاصلے اپنے بچوں سے بے خبر رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں؟ یا کہ ماں وقت اور فاصلوں کو طے کرکے اپنے بچوں کی خیرخبر معلوم کرلیتی ہے؟ میں سمجھتا ہوں بچے کی تکلیف اور پریشانی جب حد سے گزر جاتی ہے تب ماں دوریوں کی تمام رکاوٹوں کو پل بھر میں عبور کرکے اپنے بچے کے پاس پہنچ جاتی ہے، اس سے پہلے کہ ماں مجھ سےمیری پریشانی کی وجہ پوچھتی میں نے ماں سے پوچھا کہ ماں کیوں ہر جنم میں میرے ساتھ ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے؟
ماں نے کہا ’’بیٹا ہر جنم میں تیرے ساتھ ایک ہی کہانی اس لئے دہرائی جاتی ہے کیوں کہ تو ایک بکرا ہے، بکروں کے ساتھ ہر جنم میں ایک سا سلوک برتا جاتا ہے، اس لئے اب بکروں کی مائیں، اپنے بچوں کی خیر نہیں مناتیں‘‘۔
بکرا ہونے کی پاداش میں، میں نے ہر جنم میں کسی اور کیلئے اپنی جان دی ہے، ہر جنم میں، میں منڈیوں میں بکتا رہا ہوں، ہر جنم میں کٹتا رہا ہوں، بیشمار قصے ہیں میرے پاس آپ کو سنانے کیلئے، زیادہ تر قصے عیدالضحیٰ کے حوالے سے ہیں، رشوت خور افسران، ٹھگ ٹھیکیدار، دونمبر کا کاروبار کرنے والے بیوپاری مجھے ہر جنم میں خریدتے ہیں، اللہ کی راہ میں میرا گلا کاٹ کر میری قربانی دیتے ہیں اور بااثر لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے میرے اعضا،ران، سری پائے، دل، کلیجی، گردے، دستیاں وغیرہ ان کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔
ایک عیدالضحیٰ کے موقع پر ایک پٹواری نے بکروں کا پورا ریوڑ خرید لیا تھا اور پھر ایک ایک کرکے تمام بکرے کمشنر سے لیکر آڈیٹر آفس سپرنٹنڈنٹ اور پیش کار کو تحفے کے طور پر دیئے تھے، اس ریوڑ میں، میں بھی تھا، میں خوردبرد میں ماہر اکائو نٹس آفیسر کے حصے میں آیا وہ افسران اعلی کی خوش نودی کیلئے کروڑوں کے گھپلے کرتا تھا، میں جب اکائونٹس آفیسر کے پاس پہنچا تو اس کے آنگن میں پہلے سے آٹھ دس بکرے، دو بیل اور ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان ہونے کے بعد اکائونٹس آفیسر کے تعلقات عامہ مضبوط کرنے کیلئے کام آنے والے تھے، نہ جانے کتنے جنموں سے میرے ساتھ یہی ہو رہا تھا، میں بار بار قصائی کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہوتے بیزار ہوچکا تھا، ایک مرتبہ میں نے آسمانوں کی طرف دیکھ کر کہا تھا میں چھری سے ذبح ہوتے ہوتے تنگ آچکا ہوں، اگلے جنم میں، میں گولی کھا کر مرنا پسند کروں گا…بم دھماکے میں مرنا پسند کروں گا…مجھے چھری سے ذبح ہوکر مرنا اچھا نہیں لگتا۔
اگلے جنم میں مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ میرے سر سے سینگ غائب تھے، میں نے خود کو گدھا سمجھا…پھر جب میں نے اپنی ٹانگوں پر نگاہ ڈالی تو میں سکتے میں پڑگیا، میری دو ٹانگیں غائب تھیں اور پھر جب میں نے غور سے اپنا جائزہ لیا تو ڈرگیا، میں بکرے سے آدمی بن چکا تھا میں نے بموں سے لدا ہوا جیکٹ پہن رکھا تھا…ایک انتہا پسند تنظیم کے موٹے تڑنگے ریچھ جیسے کمانڈر نے کہا، تیری دعا قبول ہوگئی ہے، اب تو چھری سے ذبح ہوکر قربانی نہیں دیگا، تو بم دھماکہ کرکے تنظیم کیلئے قربانی دیگا اور ساری نعمتیں سمیٹ لیگا…میں نے بم دھماکہ کرکے مارکیٹ اڑا دی اور خود بھی چیتھڑ ے چیتھڑے ہوگیا۔
اب کئی جنموں سے میں بم دھماکے کرکے انتہا پسند تنظیموں کیلئے قربان ہو رہا ہوں اور کسی جنم میں سیاسی کارکن بن کر سیاسی لیڈروں کے لئے گولی کھا کر مر رہا ہوں۔
انٹرنیٹ پر میری ماں نے کہا بیٹا، بکرے کی دو ٹانگیں ہوںیا چارٹانگیں ہوں، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، بکرے کو دوسروں کے اعمالوں کیلئے مرنا پڑتا ہے … اب بکروں کی ہم مائیں اپنے بچوں کیلئے خیر نہیں مناتیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website