counter easy hit

عمران خان کے قریبی ساتھی نے مشکل میں پھنستے ہی (ن) لیگ سے مدد مانگ لی

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے ایم ڈی پی ٹی وی کے معاملے پر ن لیگ سے مدد مانگ لی، فواد چودھری اورترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب کے درمیان ملاقات ہوئی،ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس میں فواد چودھری کے چیمبر میں ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے ایم ڈی پی ٹی وی کے مسئلے کو سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب سے ملاقات کی۔ جس میں پی ٹی وی تنازع، میڈیا اتھارٹی کے قیام، فلم اورکلچر پالیسی پرعملدرآمد میں تاخیر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ اطلاعات تک رسائی کے قانون پر بھی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں فواد چودھر ی نے مریم اورنگزیب سے پی ٹی وی کے معاملے پر مدد کی درخواست کی ہے۔بتایا گیا ہے کہ مریم اورنگزیب سے ملاقات وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی دعوت پرہوئی۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایم ڈی پی ٹی وی کے تنازعے پر وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کو کل طلب کرلیا ہے۔وزیراعظم نے فواد چودھری کی ملاقات کل سہ پہر 3بجے ہوگی۔اس سے قبل انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا اور نعیم الحق کا کوئی ایشو نہیں ہے آپس کی بات ہے،پی ٹی وی کامسئلہ میراذاتی نہیں ہے بلکہ بات اصول کی ہے۔پی ٹی وی کے معاملے پر وزیراعظم سے آج ملاقات ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ مریم بی بی اور مشاہداللہ جلتی پر تیل نہ ڈالیں۔ہمارے سینئر وزیر کو گرفتار کیا گیا ہم نے توکوئی شور نہیں مچایا۔ شریف برادران پر نیب مقدمات گزشتہ دورحکومت کے ہیں۔عدالتی فیصلے سے ڈیل اور ڈھیل کا تاثر زائل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب پراسکیوٹرنے بڑے اچھے طریقے سے کیس لڑا۔ تمام بڑے لٹیروں کا احتساب ہونا چاہیے۔قوم اپنے لوٹے ہوئے پیسے کا حساب چاہتی ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ نیب کو مضبوط بنانے کیلئے مزید ترامیم کریں گے۔آئینی اصلاحات کا مطلب اداروں کو مضبوط اور خودمختار بنانا ہے۔اس وقت بلاتفریق احتساب ہو رہا ہے۔وزیراعظم قوم سے کیے وعدے پورے کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا، کشمیری لوگوں کو دبایا نہیں جاسکتا، ہم ہندوستان کے ساتھ مذاکرات اور تجارت چاہتے ہیں۔افغانستان میں امن اور ہندوستان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔ خطے میں امن قائم ہوجائے تو اس سے پوری دنیا کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظمنے جب حلف نہیں اٹھایا تھا تو کہا تھا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ لیکن آپ مذاکرات کیلئے قدم بڑھانے کی بجائے سمجھیں کہ ہزاروں کشمیریوں کا لہو بہائیں گے، ایسا نہیں ہوگا، لہو بہنے سے آگ بڑھکتی ہے،بجھتی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ آپ قدم بڑھائیں گے تو ہم بھی قدم بڑھائیں گے، کشمیر میں برہان وانی کے بعد یہ سارے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ریاست کی رٹ کا نام بربریت نہیں ہے۔نہ ہی ریاست کی رٹ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو گولیاں ماریں اور اپنی بات منوائیں۔کشمیر تنازع عالمی تنازع بن چکا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی انسانی حقوق اور آزادی کی بات چلی وہاں کشمیر کا تذکرہ بھی ہوا ہے۔بھارت کے کہنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجائے گا، پاکستان امن چاہتا ہے لہذا بھارت کو کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔فواد چودھری نے کہا کہ آپ اگر چاہتے ہیں جنگ لڑنی ہے۔ توٹھیک ہے ، ہم نے تین جنگیں لڑیں، اب چوتھی بھی لڑ لیتے ہیں، پھر جو بچیں گے وہ مذاکرات کرلیں گے۔ اب چوتھی آپشن بھی ہم آپ کو دے رہے ہیں کہ آئیے مذاکرات کرتے ہیں،آپ اپنا مئوقف پیش کریں ہم اپنا مئوقف پیش کرتے پیش کرتے ہیں اوراپنے ممالک کی عوام کو مضبوط بناتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بدترین غربت ہندوستان میں ہے۔