counter easy hit

بڑی خبر: وزیراعظم عمران خان نے پنجابیوں کے دکھ درد دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ، 22 نومبر کو کیا بڑا کام ہونے والا ہے ؟ چھوٹے ضلعوں کے کام کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کی تقسیم کا خواب دیکھتے دیکھتے بال سفید ہو گئے ہیں۔ یہ خواب ہم تھل کی تپتی جلتی ریتوں پر ننگے پائوں چلنے والوں اور پیر فریدؒ کی روہی میں ’’پیلو چننے والوں نے دیکھا اور پنجابی ہونے کا انکار کیا: میں تسا، میڈی دھرتی تسی، تسی روہی جائی،

ایسی ویسی غیرت : اپنی محبوبہ سے ملنے والے نوجوان کے ساتھ لڑکی کے گھر کی 4 عورتوں نے ایسی کارروائی ڈال دی کہ اہل علاقہ ہکا بکا رہ گئے

 

نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ میکوں آکھ نہ پنج دریائی۔ (میں پیاسا، میری دھرتی پیاسی، پیاسی روہی میری ماں، مجھے پانچ دریائی مت کہہ) تختِ لاہور کی قید سے آزادی کا یہ خواب، رفتہ رفتہ اتنا توانا ہوا کہ سرائیکی علاقہ کی لیڈر شپ اِسی وعدے پر پی ٹی آئی میں شامل ہوئی۔ پہلے سو دنوں میں صوبہ بنانے کا اعلان کیا گیا۔اس بات پر کسی نے غور نہیں کیا کہ سرائیکی لوگ پنجاب کی تقسیم پر کیوں بضد ہیں۔ انہیں کیا تکلیف ہے۔ وہاں ’’پنجابی سامراج‘‘ جیسی اصطلاحیں کیوں سامنے آئیں۔ عمران خان نے اس بات پر دھیان دیا، غور کیا کہ پنجاب نے پچھلے ستر بہتر سال سے سرائیکی علاقہ کا کیا، کیوں اور کیسے استحصال کیا؟ پتا چلا کہ بنیادی معاملہ معاشیات کا ہے۔ پنجاب کے بجٹ کا نوے فیصد حصہ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور اس کے گرد و نواح میں خرچ کیا گیا کیونکہ زیادہ تر چیف منسٹرز کا تعلق پنجاب سے تھا۔ زیادہ تر بیورو کریسی بھی اِسی علاقہ سے تھی۔ کیا ستم ہے کہ 2008ء میں شہباز شریف بھکر سے ایم پی اے منتخب ہوئے مگر پانچ سال تک اُس پسماندہ ضلع میں چکر لگانا تک پسند نہیں کیا۔ شاید اسی لئے عمران خان نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا۔ دانشِ پنجاب کو یہ بات بالکل پسند نہ آئی۔ عثمان بزدار کو ہٹانے کے لئے پنجاب کا زیادہ تر میڈیا حرکت میں آگیا۔ اُن کی خلاف سازشیں تیار گئیں، ایسے الزامات لگائے گئے جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا مگر عمران خان بھی اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے۔ انہوں نے اس مخالفانہ شور و غل کی طرف کان ہی نہ دھرے اور کہا کہ کم ازکم پانچ سال تو اس علاقے کا شخص پنجاب کا وزیراعلیٰ رہے جہاں محرومیاں ہی محرومیاں ہیں۔ عثمان بزدار نے پنجاب کے بجٹ کا 35فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے لئے مختص کر دیا۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں سچ مچ تبدیلی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جن لوگوں کو میری بات پر یقین نہیں آرہا کہ وہ پنجاب گورنمنٹ کی شائع شدہ ایک کتاب ’’پنجاب بن رہا ہے‘‘ اٹھا کر ایک نظر دیکھ لیں ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ پہلی بار کسی تفریق کے بغیر ہر ضلع کی ضرورت کے مطابق اس کی بہبود کا کام شروع کیا گیا ہے۔ ان تمام اضلاع میں جہاں یونیورسٹیاں نہیں ہیں وہاں بنائی جا رہی ہیں۔ ننکانہ صاحب، چکوال، مری، بھکر، راولپنڈی اور میانوالی میں چھ نئی یونیورسٹیوں کی منظوری ہو چکی ہے۔ ’’میانوالی یونیورسٹی‘‘ میں نے چند ماہ میں اپنی آنکھوں سے بنتے دیکھی ہے۔ وہاں داخلے شروع ہیں، اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں بھی پہلی ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ وہاں بھی داخلے شروع ہونے والے ہیں۔ بابا گرو نانک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ محروم اضلاع میں نو بڑے اسپتالوں کی تعمیر پر کام شروع ہو چکا ہے۔ لیّہ، اٹک، راجن پور، بہاول نگر اور میانوالی میں دو سو بیڈ کے مدر اینڈ چائلڈ کیئر اسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ میانوالی کے اسپتال کا سنگِ بنیاد 22نومبر کو عمران خان رکھ رہے ہیں۔ وہ اسی روز میانوالی سرگودھا روڈ کا بھی افتتاح کریں گے۔ سرگودھا ڈویژن میں جی ٹی روڈ کی طرح کی یہ پہلی سڑک ہو گی وگرنہ ضلع خوشاب، ضلع میانوالی اور ضلع بھکر بلکہ اس سے آگے ضلع لیّہ میں بھی ایسی کوئی سڑک موجود نہیں۔ میانوالی انڈسٹریل ایریا کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس وقت تک تین نئے انڈسٹریل ایریاز پر کام شروع ہے۔ دو سالوں میں پنجاب میں سولہ نئے انڈسٹریل ایریاز بنائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے چولستان میں تمام بے زمین کاشتکاروں کو سرکاری زمین کی مستقلاً الاٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔ ان شاء اللہ چند سالوں میں چولستان کا ریگستان سبزہ و گل سے لہلہا رہا ہوگا۔ صرف ایک سال میں قبضہ مافیا سے 9لاکھ 10ہزار کنال زمین واگزار کرائی ہے۔ کوہِ سلیمان کے علاقوں میں ہل ٹورنٹ (رود کوہی) ڈیمز بنانے کا شاندار منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈیمز ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی زمین کی پیاس ہمیشہ کے لیے بجھا دیں گے اور آبپاشی کے لئے وافر مقدار میں پانی موجود ہوگا۔ ان پہاڑی علاقوں میں 7چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا آغاز ہونے والا ہے۔ ان سے ڈیرہ غازی خان میں سیلاب کا خطرہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ ڈیمز سوڑا، سنگھڑ، سوڑی لنڈ، وہوا سمیت دیگر رود کوہیوں پر بنائے جائیں گے۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں تین ہزار کلو میٹر سڑکیں جون 2020ء تک مکمل ہو جائیں گی۔ اس وقت تک 15سو کلومیٹر سڑکیں بن چکی ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے دور میں پنجاب انسیٹیوٹ آف کارڈیالوجی وزیر آباد قائم کیا مگر شہباز شریف نے اپنے دس سال میں اسے فنکشنل نہ ہونے دیا۔ عثمان بزدار نے اس کا آغاز کرایا۔ پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ جو پرویز الٰہی کے دور میں آدھی سے زیادہ بن چکی تھی، جس کا کام شہباز شریف نے رکوا دیا تھا، بھی عثمان بزدار کے دور میں مکمل ہونے جا رہی ہے۔عثمان بزدار نے میاں شہباز شریف کے دور کے تمام پروجیکٹس مکمل کرنے کے لئے 175ارب رکھ دیے کہ کہیں عوام کا پیسہ ضائع نہ ہو جائے۔ لاہور کی اورنج ٹرین بھی جنوری سے عوام کے لئے کھول دی جائے گی۔ اورنج ٹرین کے لیٹ ہونے کی وجہ عجیب و غریب ہے، شہباز شریف نے اُس کے افتتاح کے وقت ٹرین جنریٹر کے ذریعے چلوا دی تھی۔ اورنج ٹرین نے بجلی کے ذریعے چلنا ہے اور بجلی کا سسٹم لگانے کاخرچ اس کے کل بجٹ کا تیس فیصد تھا۔ عثمان بزدار کے دور کی سب اہم بات لوکل گورنمنٹ ایکٹ ہے۔ اگلے سال یہ ایکٹ جیسے ہی نافذ ہوگا، اقتدار بیورو کریسی سے نکل کر نچلی سطح پر پہنچ جائے گا۔

iMRAN KHAN, DICIDED, TO, GIVE, RELIEF, TO, PUNJABIES, WHAT, IS, GOINT, TO, BE, HAPPEN

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website