counter easy hit

پاکستان اٹامک انرجی کی زراعت کے شعبوں میں کارکردگی کا عالمی ادارے کی طرف سے اعتراف، رپورٹ جاری کردی

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے ذیلی ادارہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ بائیولوجی کے ان کوششوں کی تعریف کی ہے جو وہ پاکستان میں کپاس کی فصلوں کے احیاء اور اس طرح ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ کے لئے کر رہا ہے ۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی ویب سائٹ پر جاری بین الاقوامی سپروائزری کمیٹی کے اجلاس کی رپورٹ میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ بائیولوجی کے ان اقدامات کو سراہا گیا جو وہ پاکستان میں زراعت کہ بہتری کے لئے اٹھارہا ہے۔ اسے اس دور ميں کسانوں کے لئے امید کى ایک کرن سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک پریس مراسلے میں پریس انفارمیشن آفس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمى درجہء حرارت کے بڑھنے کے تناظر میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار کو نقصان پہنچا ہے تاہم نیو کلئیر ٹیکنالوجی کے استعمال سے کپاس کی ایسى قسمیں متعارف کی گئی ہیں جو بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات سے بہتر مطابقت رکھتى ہىں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور امریکہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے اشتراک سے مقامى سائنسدانوں کو تربیت فراہم کى گئى ہے کہ وہ فصلوں کی ان اقسام کہ افزائش کریں جو نہ صرف بدلتے موسمیاتی حالات سے مطابقت کا مظاہرہ کریں بلکہ اچھى پیداوار ى صلاحيت بھى دکھا سکیں ۔

https://www.iaea.org/newscenter/news/cotton-in-pakistan-how-nuclear-techniques-are-helping-the-textile-industry

کپاس کى چار قسموں کو 2016ء میں متعارف کروایا گیا اوراب یہ کپاس کے زیر کاشت 40 فیصد رقبے پر کاشت کی جارہی ہیں ۔ منظور حسین ڈپٹى چیف سائنسدان پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن نے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ بائیولوجی کے حوالے سے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیاں اس خطہ میں زراعت کو متاثر کر رہى ہیں، کپاس کی کاشت اب اتنى منافع بخش نہیں رہى۔ ایک زرعی ماہر کے طور پر انھوں نےکہا کہ زراعت کو ملکى معیشت میں ریڑھ کى ہڈى کى حیثیت حاصل ہے اور نیو کلئیر ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم زراعت کو مزید منافع بخش بنا سکتے ہیں ۔بین الااقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور امریکى ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون سے یہ پروگرام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ بائیولوجی فیصل آباد کے زرعى سائنسدانوں کو تربیت فراہم کر رہا ہے جس کا ثمر کپاس کى ان چار قسموں کہ صورت ميں حاصل ہوا ہے۔بہا ولنگر کے ایک کسان محمد اکرم نے فخر سے یہ بتایا کہ کپاس کى اس نئى ورائٹى کہ کاشت سے اسے 30 فیصد زيادہ پیداوار حاصل ہوئى ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سال درجہء حرارت بڑھنے سے کپاس کى کاشت ميں مسائل کا سامنا رہا۔ اس نے مزید بتایا کہ کپاس کہ اس قسم نے نہ صرف درجہء حرارت کو برداشت کيا بلکہ بہتر پیداوار بھى دى۔

اس سےان اقسام کی کاشت اور مقبولیت میں ا ضافہ ہو رہا ہے۔مسٹر لىپو جىنکو لوسکى جو آئی اے ای اے کی مشترکہ ریسرچ ٹیم سے وابستہ ہیں انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئى ورائٹى کی کپاس کی نہ صرف پیداوار ى صلاحيت بہتر ہے بلکہ کپاس کے ریشے کا معیار بھى بلند تر ہے۔ ماحولیاتی مطابقت میں بھى یہ فصلیں بہتر ہیں ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ آبادى کہ ضروریات کے مطابق ان اقسام سے پیداوار حاصل ہوتی رہے گى۔ بین الااقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور امریکہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون سے اس پروگرام کا مقصد ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ساتھ افرادی تربیت کے حصول پر مشتمل طویل المدت زرعی اہداف کا حصول ہے۔ اس تربیت میں خاص طور سے درجہء حرارت میں ا ضافہ اور خشک سالى جیسے عوامل سے مقابلہِ کرنے والى فصلوں کہ اقسام کہ تحقیق شامل ہے۔منظور حسین نے کہا کہ فصلوں کی افزائش ميں افرادی تربیت ىمارى قومى ترجیح ہونى چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کى پیداوار سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور اس شعبے میں زرعى تحقیق بہت اہم ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر اىنڈ ٹیکنالوجی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل اینڈ بائیولوجی، فیصل آباد، پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیر اہتمام چار زرعی سینٹر ز میں سے ایک ہے۔جہاں سے اب تک 115 اقسام کہ اجناس اور نقد آور فصلیں تیار کی جا چکى ہیں ۔ اب تک کپاس کی 16 ورائیٹیز متعارف کی جا چکى ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق کپاس کی نو دريافت شدہ چار اقسام کپاس کے زیر کاشت 56 فیصد رقبے پر کاشت کئے جانے کا امکان ہے۔پاکستانی سائنسدان اس شعبے میں اس قدر مہارت حاصل کر کے ہیں کہ کئى ہمسایہ ممالک کے سائنسدانوں کو بھى اپنے تجربات اور مہارتیں سکھا سکتے ہیں ۔ پاکستان اس میدان میں خطہ کے دیگر ممالک سے آگے ہے ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website