counter easy hit

ہالینڈ میں چھڑوں کو مشورہ، جنسی پارٹنر ڈھونڈیں

ڈچ حکومت نے چھڑوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں ’جنسی پارٹنر‘ تلاش کریں۔ ہالینڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ قریب دو ماہ سے سماجی فاصلے کے ضوابط رائج ہیں۔

ہالینڈ میں حکومت کی جانب سے سنگل نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے کے ضوابط کے تناظر میں ‘جنسی پارٹنر‘ تلاش کریں۔ تاہم ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مشتبہ طور پر کورونا وائرس سے متاثر ہو، تو وہ جنسی روابط سے اجتناب برتے۔

ہالینڈ کے قومی ادارہ برائے صحت عامہ اور ماحولیات ریوم کی جانب سے سنگل افراد کو جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک جنسی پارٹنر کا انتظام کریں۔

اس سے قبل سماجی ماہرین نے حکومت کی جانب سے جنسی روابط سے متعلق حکومتی ہدایات کی عدم موجودگی پر تنقید کی تھی۔ہالینڈ میں 23 مارچ سے سماجی فاصلے کے ضوابط رائج ہیں، جب کہ حکومت انہیں ‘دانش مندانہ‘ اور ‘ٹارگٹڈ‘ لاک ڈاؤن قرار دیتی ہے۔یہ بات اہم ہے کہ یورپ کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں ہالینڈ میں خاصا نرم لاک ڈاؤن نافذ ہے، جہاں لوگوں کو سماجی فاصلے کے ضوابط اختیار کرنے پر چھوٹے اجتماعات تک کی اجازت ہے۔

14 مئی کو جاری کردہ گائیڈ لائنز میں ہالینڈ کے ادارہ برائے صحت عامہ نے کہا ہے، ”اگر آپ سنگل ہیں، تو ظاہر ہے، وبا کے دنوں میں بھی آپ کو جسمانی رابطے کی خواہش ہو گی۔‘‘

ہداہت نامے میں کہا گیا ہے، ”سوچیے کہ مل کر اس معاملے کا بہترین حل کیا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص تلاش کیجیے جس کے ساتھ آپ جسمانی اور جنسی قربت اختیار کر سکیں، یعنی جسے آپ پیار سے گلے لگا سکیں یا جنسی تعلق قائم کر سکیں۔ مگر جو بیمار نہ ہو۔‘‘

اس ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے، ”ایسے شخص کے ساتھ مل بیٹھ کر طے کریں کہ آپ نے کتنے افراد سے ملنا ہے۔ اگر آپ زیادہ افراد سے ملیں گے تو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔‘‘

اس ڈچ ادارے نے اپنے ہدایت نامے میں طویل المدتی جنسی روابط کے حامل افراد سے متعلق بھی لکھا ہے، جن میں سے کسی کا سامنا کورونا وائرس سے ہوا ہے۔”اگر آپ کا پارٹنر کورونا وائرس کی وجہ سے آئسولیٹ ہوا ہے، تو اس کے ساتھ سیکس نہ کریں۔‘‘یہ بات اہم ہے کہ پیر سے ہالینڈ میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے اخراج کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع ہوا ہے۔ اس مرحلے میں کتب خانے، ہیئر ڈریسرز، بیوٹیشنز، مساج سلون اور دیگر پیشہ ورانہ تھیراپیز کے مقامات کو گیارہ مئی سے کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہالینڈ میں مجموعی طور پر 43 ہزار آٹھ سو اسی افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ یہاں ہونے والی مجموعی ہلاکتیں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website