counter easy hit

غلام احمد بلور نے نواز شریف کے کندھے پر بوسہ دیا

pak-govt-and-opposition-made-collective-effort-against-border-issues

pak-govt-and-opposition-made-collective-effort-against-border-issues

وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی جارحیت کے خلاف اور دوسرے سیاسی معاملات پر اپوزیشن لیڈرز سے ملاقات اور مذاکرات کرکے اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اب ہمسفری بھی ضروری ہے۔ ہمسفر ہونے کے بعد ہمراز ہونے کی باری آتی ہے۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کو بہت اہمیت ملی ہے۔ اور ان کے اس بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے کہ عمران کی سولو فلائٹس مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔
عمران خان نے اس اہم ترین موقعے پر شرکت نہیں کی۔ اس سے نقصان خود انہیں ہوا ہے۔ سب لوگوں نے اس بات کو محسوس کیا ہے۔ عمران حکومت کے خلاف ہے مگر وہ اپوزیشن کے ساتھ بھی نہیں ۔ یہ پالیسی کوئی سیاسی نہیں۔ ہر لحاظ سے یہ ایک غیر سیاسی اقدام ہے۔ بلاول نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ جمہوریت کے خلاف احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خان حکومت کو گرانے کی کوشش کریں گے تو ہم ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ کوئی بھی اپوزیشن لیڈر ساتھ نہیں دے گا۔
عمران خان کوئی ایسا اقدام نہ کریں کہ لوگ سمجھیں کہ یہ غیر سیاسی غیر جمہوری اقدام ہے۔ جمہوریت جیسی بھی ہو اسے چلنے دیا جائے۔ اس کی مدت پانچ سال ہے تو اس سے پہلے ایسا احتجاج جو پانچ سال پہلے کسی واقعے کا باعث بنے افسوسناک ہو گا۔ پھر تو یہی کہا جائے گا کہ سیاستدان اپنی حکومت کی مدت بھی پوری نہیں کر سکتے۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے اقدام نہ کرے جن پر غیر سیاسی ہونے کا شبہ ہو۔
کرپشن عمران کا عزیز ترین موضوع ہے اور قوم کے لئے بہت المناک اور خطرناک ہے۔ جو قوم کرپٹ ہوتی ہے وہ جھوٹی بھی ہوتی ہے۔ یہ خرابیوں کی جڑ ہے یہ چیز ظاہری طور پر اور باطنی طور پر قوم کو کھا جاتی ہے۔ کرپشن کے روکنے اور کم کرنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں یہ صرف موجودہ حکومت کے لئے چیلنج نہیں سب حکومتوں کا مشترکہ چیلنج رہا ہے۔
یہ تو ’’صدر‘‘ زرداری سے پوچھنا پڑے گا کہ انہوں نے پانچ سال ایوان صدر میں کیسے بخیر و خوبی گزار لئے۔ یہ بات ’’صدر‘‘ زرداری کے معروف پیر صاحب حاجی اعجاز سے بھی پوچھی جائے۔ وہ برادرم شاہد رشید کی بیٹی کی شادی میں تشریف لائے تھے۔ ان سے ملاقات رہی مگر موقع نہ تھا کہ اس موضوع پر گفتگو ہوتی۔ ویسے وہ ’’صدر‘‘ زرداری کے حوالے سے مطمئن تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ذکر نہیں ہوا ویسے وہ بلاول کے مستقبل کے لئے پریشان نہیں ہیں۔
پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے خود ہر پارلیمانی لیڈر کا استقبال کیا۔ یہ ایک اچھا تاثر ہے جسے سب نے پسند کیا دوستوں کو یاد ہو گا کہ بھارت ہی کے معاملے میں بلاول بھٹو کے نانا عظیم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی تمام قائدین سے ملاقات کی تھی اور مذاکرات بھی کئے تھے۔ وہ 90 ہزار جنگی قیدیوں کے لئے بھارت جا رہے تھے۔ وہاں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ان کی کامیاب گفتگو ہوئی تھی۔ وہ 90 ہزار جنگی قیدیوں کو لے کے پاکستان آئے تھے۔ اس میں پاکستان کے اپوزیشن کے لوگوں سے رابطے کا بھی حصہ ہے۔
بھارت کو معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان کے سیاستدان بھارت کے معاملے میں یکجا ہیں اور یکتا بھی ہو سکتے ہیں۔ یکتائی کے لئے یکجائی قوموں کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
یہ جو بلاول نے کہا ہے کہ ہم جمہوریت کے خلاف احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے تو یہ سیدھا سیدھا عمران خان کے لئے پیغام ہے مگر یہ پیغام حکومت کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت جو اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے وہ جمہوریت کے خلاف بھی اقدام کر سکتی ہے مگر کوئی حکومت اپنے پائوں پر کلہاڑا مارنے کے لئے تیار نہیں ہو گی۔ ہم نواز شریف حکومت سے ایسی توقع نہیں رکھتے مگر انہیں بھی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور یہ جو اپوزیشن سے صلاح مشورہ کرنے کا مظاہرہ کیا گیا ہے اسے جاری رکھا جائے کیونکہ بھارت اب پاکستان مخالف اقدام کرنے کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری فوج اسے جواب دینے بلکہ لاجواب کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے مگر سیاسی حکومت کی طرف سے بھی ایسا پیغام ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے لاہور آ کے جو بات کی ہے یہ ایک للکار ہے۔ مگر ایک پکار جمہوری حکومت کی طرف سے بھی ضروری تھی اور یہ ساری اپوزیشن کے اکٹھا ہونے سے بھارت تک پہنچ گئی ہے۔
قومی اخبار نوائے وقت نے لکھا ہے دیر آید درست آید کے باوجود یہ ایک احسن اقدام ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہم اسلام آباد کو بند کرنے کے منصوبے سے واقف ہی نہیں ہیں۔ شہر بند نہیں کئے جاتے۔ شہر بند ہونے بھی نہیں دئیے جاتے۔ اب تک 70 سال کے عرصے میں ایک بار بھی کوئی شہر بند نہیں ہوا۔ شہر تو تاریخ بنانے والے ہوتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ ستمبر میں کئی شہروں نے تاریخ بنائی تھی اور بھارت اس تاریخ سے بخوبی واقف ہے۔ اس جملے نے ہمیں اندر سے زندہ کر دیا ہے۔ ’’سیاسی قیادت شیر و شکر ہو گئی ہے‘‘
اے این پی کے غلام احمد بلور نے فرط جذبات میں وزیراعظم نواز شریف کے کندھے پر بوسہ دے دیا ایسا کوئی موقع پھر آیا تو وہ نواز شریف کے ہاتھ بھی چوم لیں گے۔ دست بوسی تو روابط کی تکمیل کا ایک حصہ ہوتی ہے جبکہ اے این پی بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ نواز شریف کا اے این پی کو بلانا اور اے این پی کا چلے آنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا واقعہ ہے۔ فاروق ستار کے ساتھ کچھ دیر تک نواز شریف نے خصوصی بات چیت کی۔ اس طرح یہ اجلاس بہت جامع سیاسی سرگرمی بن گیا۔
ایسے موقعوں پر مریم نواز شریف بہت اچھے اور دلچسپ ٹویٹ کرتی ہیں۔ ان کے یہ پیغامات سیاسی ہوتے ہیں مگر کچھ کچھ غیر سیاسی بھی ہوتے ہیں۔ میں ان کی یہ باتیں اکثر پسند کرتا ہوں۔ یہ بات بھی اپوزیشن کے ساتھ اس اہم ملاقات میں محسوس ہوئی کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات میں ہے مسئلہ کشمیر بھی مذاکرات سے حل ہو گا۔ یہ تاثر بھی دشمنوں تک پہنچ گیا ہے کہ ساری قوم کشمیر کے حوالے سے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے متحد ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھارتی سیاستدان پوری طرح متحد ہیں۔ پاکستانی بھی متحد ہیں تو کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا۔
چین نے ہانگ کانگ صرف اپنے موقف کی ثابت قدمی سے بغیر لڑے ہوئے حاصل کر لیا۔ تائیوان بھی چین کی چند منٹوں کی فوجی کارروائی سے مل سکتا ہے مگر چین انتظار کر رہا ہے تائیوان خود بخود اس کی جھولی میں آ گرے گا۔
مجھے لگتا ہے کہ مودی سرکار کچھ ایسے بلنڈرز کر رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر اپنے حل کے قریب ہے۔ اعلیٰ سطح کی قومی ملاقات میں شیری رحمن اور رضا ربانی کھر بھی تھے ۔ سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، قمرالزمان کائرہ، اعتزاز احسن اور نوید قمر بھی تھے۔ نجانے پیپلز پارٹی کے لوگ کیوں اتنے زیادہ تھے۔ انہیں دعوت دی گئی یا کسی کی عداوت میں وہ سب کے سب پہنچ گئے تھے۔ برادرم پرویز رشید بھی وہاں تھے۔ چودھری نثار علی بھی تھے۔، ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، بشکریہ نوائے وقت

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website