counter easy hit

یہ نہ ہو کہ احساس زیاں ہو

Wedding

Wedding

تحریر: حلیمہ سعدیہ
گلی کی نوکڑ میں کھڑے دو افراد آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ محلے کے فلاں صاحب کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہیں۔ جس کی وجہ ان دونوں کی آپس میں پسند کو ان کے والدنہیں مانے اور ان کی شادی کہیں اور کرانا چاہتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ رسوا کن واقعہ پیش آیا۔

اب دوسرے گلی بازاروں میں اس قسم کی باتیں سننے کو ملنے میں آتی ہیں۔ جس تیزی کے ساتھ آج کل ہمارے معاشرے میں بھاگ کر شادی کرنی کا رحجان بڑھ رہا ہے وہ ایک حساس انسان کے لیے واقعی قابل غور ہے۔ عمر اور حالات کے مطابق ”شادی“ کو شریعت نے اہم فریضہ قرار دیا اور یہ سنت اور انسان کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ لیکن کم عمری میں ان موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی بدولت ہر دوسرا نوجوان عشق معشوقی کا شکار نظر آتا ہے۔ جس نے ہمارے معاشرے کی اخلاقی نظریات کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔

آج اولاد کی اس حد نافرمانی کی سب سے بڑی وجہ والدین کا غیر محتاط رویہ ہے۔ ان حالات میں ماں باپ اولاد کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جب اولاد کسی کو پسند کرنے لگتی ہے تو دانستہ یا نا دانستہ وہ یہ بات ہر کسی سے چھپا کر رکھنا چاہتی ہے مگر یہی بات جب وہ اپنی ہم جولیوں کے ساتھ بیٹھ کر کہتی ہے تو بالکل بے جھجھک، بے فکر ہو کر کہتی ہیں، کہ کوئی اسے کتنا پیار کرتا ہے اسے کتنا چاہتا ہے۔ اگر اسلامی نقطہ نظریہ سے اس بات کا جائزہ لیا جائے تو اس عشق و معشوقی کا کوئی وجود نہیں پایا جاتا، مگر معاشرہ معاشرتی محبت کو لازم و ملزم بتاتا ہے، محبت ہر کسی کو ہوتی ہے اور اِس پر کوئی زور نہیں ہوتا نا ہی اختیار۔

سوچنے کی بات یہ ہے کے وہ کیا چیز ہوتی ہے جو اک لڑکی کو اپنی سہیلیوں کے سامنے وہ بات کرنے سے نہیں روکتی اور ماں باپ کے سامنے زبان ہلانے پر بھی متفق نہیں کرتی۔ تو وہ چیز ہے ڈر، خوف اور بے اعتباری۔چونکہ دوستوں سے کوئی پردہ، اور نہ ہی کوئی ڈر ہوتا۔ ان سے خوف محسوس نہیں ہوتا جو ماں باپ سے محسوس ہوتا ہے ۔

یہاں ماں باپ کو چائیے کے اپنی اولاد کو اتنا اعتماد ضرور دیں کے وہ کسی اور کو ان سے زیادہ اہم نا سمجھے۔ پھر اولاد کا فرض ہے کے وہ ماں باپ کے احسانات اور انکی محبت یاد رکھے تا کے ان سے زیادہ افضل کوئی نا لگے جس کے لیے وہ ماں باپ سے جھوٹ بولیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عمر کا ایک دور ایسا آتا ہے جو جذباتیات اور نادانی سے بھرپور ہوتا ہے ، جس میں ایک لڑکی کو غیر معمولی توجہ، باتوں کی مٹھاس اور لہجے کی شیرنی اپنی سمت کھینچتی ہے۔ یہ عمر کا وہ نازک دور ہوتا ہے جہاں ماں باپ کو اولاد کا بہترین دوست بننا چاہیے۔ عمر کے اس دور میں اگر اولاد ماں باپ سے دور ہوئی تو یاد رکھیئے گا! کہ یہ دوری لمحوں یا سالوں پر نہیں بلکہ ساری عمر پر محیط ہو کر رہ جاتی ہے، پھر ان فاصلوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔

جس طرح تالی دو ہاتھوں سے نہیں بجتی ویسی ہی غلطی صرف والدین کی یا صرف اولاد کی نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرف سے برابر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کے وہ اپنی اولاد کو پاس بٹھا کر ان سے غیر محسوس انداز میں محبت سے بات کریں۔ انہیں اپنے لفظوں سے اپنے پیار کا احساس دلائیں ۔ اگر اولاد کا زیادہ وقت موبائل اور انٹرنیٹ پر گزر رہا ہے تو اسے زندگی کی مصروفیت دیں، تعلیم، ودیگر غیر نصابی سرگرمیوں اور کورسز میں انہیں مصروف رکھیں تاکہ وہ اپنے وقت اور ٹیکنالوجی کا غلط طریقے سے استعمال نہیں کر سکے۔ انہیں احساس دلائیں اپنی توجہ سے کے آپ کو ان کا کتنا خیال ہے۔ اگر آپ کو یہ بات پتا ہوتی ہے کے آپ کی بیٹی یا بیٹا کسی کو پسند کرتا ہے تو اس موضوع پر ایک دوست کی طرح اس سے گفتگو کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کے وہ کس نظریہ سے سوچ رہا ہے ، اسکی سوچ سمجھنے کی کوشش کریں ۔
اگر آپ کی اولاد آپ کی بہت فرمانبردار ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کے آپ اپنا فیصلہ اس پر تھوپیں۔

ماں باپ تمام عمر اولاد کی پسند کو ترجیح دیتے ہیں، پڑھنے میں ، پہننے میں ، کہیں آنے جانے میں ۔ جو اس کا دل کرتا ہے وہ ویسی اپنی زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔ گھر سے باہر ہم ہر کسی سے کہتے ہیں کے میری بیٹی یا بیٹا اپنی مرضی سے زندگی گزارتا ہے ۔ اسے کسی طرح کی روک ٹوک نہیں اسے مکمل آزادی ہے ۔ پھر یہاں تک کے اولاد اپنا اچھا برا سوچنے کے قابل بھی ہوجاتا ہے۔ پر یہاں اس مقام پر آ کر ہم ایک دم اس سے اس کی تمام آزادی چھین لیتے ہیں ۔ اس کی زندگی سب سے اہم اور بڑا فیصلہ ہم اس کی مرضی جانے بنا کر دیتے ہیں ، کہ میری بیٹی کبھی میری بات نہیں ٹالے گی۔ ٹھیک ہے ! مانا آپکی بیٹی آپکی بات رد نہیں کرے گی پر کیا وہ خوش رہے گی؟ وہ آنے والے انسان کو اپنی زندگی میں تو جگہ دے گی پر دل میں کبھی نہیں دے پائے گی۔ کیا آپ کی اولاد کا یہ ادھورہ پن آپ کے لیے خوشی کا باعث ہو گا ؟۔

شادی کے معاملے میں مکمل محتاط طور پر اختیار اولاد کو ہونا چاہیے، شریعت نے بھی اس بات کی اجازت دی ہے۔ ان کی پسند نہ پسند کا خیال رکھا جائے اور ابتدائی جوانی کے ایام میں ان کو تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں اچھے اور برے کی تمیز کرانی چاہیے تاکہ وہ اپنے لئے کوئی حتمی فیصلہ نہ کریں اور اگر وہ کرنا بھی چاہیے تو ان کے لئے اختیار کا اچھا تجربہ ہو۔ زبردستی کی شادیوں کے انجام ہمارے سامنے ہیں۔ روز کے غیر معمولی جھگڑے، آپس میں چھوٹی چھوٹی نااختلافیاں، ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کا مادہ جو کہ وقت اور حالات کے ساتھ اپنے منطقی انجام یعنی طلاق تک پہنچتا ہے۔

شادی احساس اور جذبات سے جڑا ایک پاکیزہ رشتہ ہے ۔ اپنی اولاد کو شادی کے نام پر عمر بھر کے سمجھوتے میں نا ڈالیں۔ اپنی اولاد کو ہمت دیں کے وہ اپنا نظریہ آپ کے سامنے رکھ سکے۔ اسے حوصلہ دیں کہ آپ اس کی خوشیاں چاہتے اور ان کی خوشیوں میںہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے۔ جب آپ انہیں اعتماد دیں گے تو یقینا وہ بھی آپ پر مکمل بھروہ کریں گے اور اس وقت اسی بھروسے کی ضرورت ہے۔ جو اگر بحال ہوجائے تو شاید کبھی کسی کو اس رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے جس کا زکر گلی کے کارنر میں کھڑے دو افراد کر رہے تھے۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو۔

Halima Sadia

Halima Sadia

تحریر: حلیمہ سعدیہ