counter easy hit

پاکستان کی وہ نامور گلوکارہ جسکے بیٹے نے خالہ سے شادی کر ر کھی ہے ، یہ کون ہیں ؟ نام آپ کو حیران کر ڈالے گا

famous, singer,, who's, son, have, married, to, her, sister, a column, by, khawar naeem hashmi

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خاور نعیم ہاشمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں عرصہ دراز کے بعد دوستوں کے ساتھ پہاڑوں اور سمندروں کی سیر کا موقع ملا، ذوالقرنین اور نعیمہ میاں بیوی ہیں اور دوستوں کے دوست، انہیں احمد فراز، منیر نیازی، اجمل نیازی، جاوید قریشی جیسی شخصیات کی مستقل میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہے، ان کے گھر کا دروازہ کبھی دوستوں کیلئے بند نہیں دیکھا،  ۔۔۔۔۔۔۔ آپ جب بھی ان کے گھر جائیں نعیمہ کو ہمیشہ باورچی خانے میں پہلے سے موجود مہمانوں کیلئے کھانا تیار کرتے ہوئے دیکھیں گے، ان کے اکلوتے بیٹے غالب اقبال کا نام بھی احمد فراز صاحب نے رکھا تھا، ان کے حلقہ احباب میں زندگی کے ہر شعبہ کے لوگ شامل ہیں، اور دوستوں کا یہ گروپ ایک کنبے کی طرح محسوس ہوتا ہے، پچھلے دو ماہ میں اس گروپ نے تین بار ناران، کاغان، مظفر آباد، بالا کوٹ،جیسے تفریحی مقامات کی مشترکہ سیر کی، پہلے دو دوروں میں تو میں شامل نہ ہو سکا، البتہ اس ہفتے ہونے والے تیسرے ٹرپ میں شریک ہونے کا موقع مل ہی گیا، ہماری لاہور سے روانگی رات دو بجے ہوئی، شریک سفر افراد میں چھ سال پہلے داغ مفارقت دے جانے والی عظیم فوک گائیکہ بلبل صحرا ریشماں کا بیٹا ساون، اس کی اہلیہ مہرو اور ایک جوان بیٹا کامران خان بھی موجود تھے، ہم نے سوچا، چلو! اس سفر کے دوران ریشماں جی کی یاد بھی تازہ ہوتی رہے گی۔ یہ وہی ساون ہے جس کی پیدائش کے سال کے حوالے سے ریشماں سے ایک اینکر نے سوال کیا تھا تو ان کا جواب تھا،،،، سال دا تے پتہ نئیں، بس ایناں یاد اے کہ اوہدوں بارشاں بڑیاں ہوئیاں سن تے او سون دا مہینہ سی، ،،،،،ریشماں کے دوسرے بیٹے کا نام بھادوں ہے اور وہ بھادوں کے مہینے کی پیدائش ہے۔۔ ہمارے قافلے کا پہلا پڑاؤ بھوربن کا ایک غیر معروف ہوٹل تھا، جس کے اردگرد کوئی مارکیٹ تھی نہ بازار اور نہ ہی کوئی اور سہولت، رات کو جب تمام لوگ سستانے کے بعد سیر کیلئے نکلنے کی تیاری کرکے ہوٹل سے نیچے اترے تو ایک’’بم‘‘پھٹا، پتہ چلا کہ اس تفریحی دورے کے انتظامات جن صاحب کے سپرد کئے گئے تھے انہوں نے صبح یہاں پہنچتے ہی کوچ کے ڈرائیور کو دو دن کی چھٹی دیدی تھی اور وہ دو دن کے لئے اپنے گھر ایبٹ آباد جا چکا ہے، اب کیا ہو سکتا تھا؟ ہمارے ساتھ ایک فیملی اپنی ذاتی گاڑی میں سوار ہو کر بھی آئی تھی یہ دو بچوں سمیت کل چھ افراد تھے جو ہوٹل میں قید ہونے سے بچ گئے، میری مراد ہمارا ہردلعزیز دوست کے کےخرم خان ہے جو گھرسے تو فیملی کے ساتھ ناران، کاغان کی سیر کو نکلا تھا لیکن میں نے اسے لینڈ سلائیڈنگ سے خوفزدہ کرکے اپنا ہمراہی بنا لیا تھا، کوچ ڈرائیور کی عدم دستیابی کے باعث باقی لوگوں کے لئے کوئی آسرا بچا تھا تو وہ تھا، ریشماں کے بیٹے اور بہو کی ہمارے ساتھ موجودگی، ریشماں کی بہو ریشماں کی سگی پھوپھی کی بیٹی ہے، اس طرح ساون کی بیوی اس کی خالہ بھی لگتی ہے، لیکن عمر میں نہیں،،،،،،،،،، اب سفر کی تھکاوٹ اتارنے کیلئے بھوربن کے ہوٹل میں محفل موسیقی سجا لی گئی جہاں ریشماں فیملی کے افراد نے فن کا مظاہرہ کیا اور داد کے ساتھ تھوڑے بہت پیسے بھی سمیٹے، پھر اگلا دن چڑھا تو میزبان نعیمہ ذوالقرنین نے ہوٹل کے باورچی خانے میں قیمہ بھون کر تمام ساتھیوں کو ناشتہ کرایا، خوش قسمتی سے روٹیاں ساتھ والے ہوٹل سے مل گئیں ورنہ لوگوں کو قیمہ بھی چمچیوں کے ساتھ کھانا پڑتا،

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website