counter easy hit

انتہا پسند معاشرہ، لمحہ فکریہ

Women Violence

Women Violence

تحریر : رقیہ غزل
آج سے چودہ سو سال پہلے عرب معاشرے میں عام رواج تھا کہ بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جا تا تھا ویسے تو زمانہ جاہلیت کی مروجہ رسم ہندو معاشرے میں ”ستی ” کی شکل میں اور ہمارے قبائلی علاقہ جات میں کارو کاری کی شکل میں آج بھی موجودہے مگر بدقسمتی تو یہ ہے کہ آج مہذب اسلامی معاشرے کے نادانوں اور جاہلوں نے زندہ لڑکیوں کو جلانے کی رسم اٹھائی ہے اس مکروہ فعل کی وجہ کوئی بھی ہو انسانیت کی یہ تکذیب کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے اور ویسے بھی ایک زندہ انسان کو جلانے کا اختیار کسی کے بھی پاس نہیں ہے بلاشبہ یہ انتہا پسندی مہذب اسلامی معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے عورت تو وہ مقدس ہستی ہے جو جس بھی صورت میں ہو قابل احترام اور انتہائی قابل قدر ہے اور اسے یہ شرف اسلام نے بخشا ہے مگر آج دنیا بھر میں عورت کے حقوق کے لیے جوآواز اٹھائی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں مغربی معاشرے عورت کے سب سے بڑے محافظ بن کر سامنے آرہے ہیں اور وہ ہر اس انسان کو عزت کو دیتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ مسلم معاشروں میں خواتین کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کیا جاتا ہے جبکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورت کوعزت و وقار دیکر اسے اس کے بنیادی حقوق فراہم کئے ہیں یہ الگ بات کہ جیسے اسلام کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے ویسے ہی عورت کے حقوق کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج غیر مسلم معاشرے ہماری تہذیب اور عورتوں سے غیر انسانی سلوک پر ہمارا تمسخر اڑا رہے ہیں کیونکہ وہ لوگ ہماری تہذیب کو اپنا کر اپنی خواتین کو احترام دے چکے ہیں۔

اسلام جس نے عورت کو گراوٹ اور عدم تحفظ سے اٹھا کر اعلان عام کیا کہ جس کو تم صرف ایک جنس یاا ستعمال کی چیز سمجھتے ہو اس کے قدموں تلے جنت ہے وہ حوا کی بیٹی اسی مذہب کے پیروکاروں کے ہاتھوں آج ذلیل و خوار ہے ستم تو یہ ہے کہ پہلے یہ صورتحال جہالت کی بنیاد پر صرف دیہاتوں تک محدود تھی مگر آج مقدس ایوانوں کے فلور زسے لیکر تہذیب و تمدن یافتہ شہروں تک سر عام عورت کا استحصال جاری ہے اگر آپ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھنے والی یا سیاسی میدانوں میں بولنے والی عورت مضبوط ہے تو یہ آپ کی خام خیا لی ہے کیونکہ خواتین پر جملے کسنے کی روش پرانی ہے اور اب اس پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا بلکہ کھلے عام عورت کے کردار کو ”مشکوک ”کر دیا جاتا ہے کیونکہ عورت کا کردار بدلے اوراہانت کے طور پربگڑے معاشرے کی نظر میں سب سے آسان ہدف ہے۔

Women Violence

Women Violence

الغرض عورت کہیں بھی محفوظ نہیں ہے مردوں کی اجارہ داری نے عورت کو قابل رحم مخلوق بنا کر رکھ دیا ہے جس کا کام سورج مکھی کی طرح اس کے آگے پیچھے گھومتے رہناہے اور اگر وہ اس کی مرضی کے خلاف ایک لفظ کہے یا قدم اٹھائے تو ”معمولی تشدد” کا حق مرد کو دے دیا گیا ہے جبکہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ وآلہ وسلم کی ١٢ ازدواج مطہرات تھیں جو کہ سب ان کے حسن سلوک سے امہات المومنین قرار پائیں جبکہ اس مہذب معاشرے نے عورتوں سے غیر منصفانہ اورتحکمانہ سلوک روا کر کے ان کی عزت نفس کو مجروح کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت بھی اپنی حدود کو بھولتی جا رہی ہے مرد و زن کی اسی انتہا پسندی نے لرزہ خیز جرائم اور وارداتوں کو جنم دے دیا ہے پہلے ایبٹ آباد اورراولپنڈی میں بھیانک قتل کی خبریں سامنے آئیں ابھی وہ ذہنوں سے محو نہ ہوئیں تھیں کہ لاہور میں ایک اور قتل کی لرزہ خیز داستان رقم ہوئی ان دونوں اندوہناک واقعات کی نوعیت کوئی بھی ہو مگر زمین پر دوزخ سجانے والوں نے ثابت کر دیا کہ فرعونیت کی آج بھی کوئی حد نہیں ہے صورتحال کی سنگینی کی اندازہ محض لفظوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔

ویسے بھی دل ابھی گو مگو کی کیفیت میں ہے کہ ایک سگی ماں اپنی حقیقی بیٹی کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا سکتی ہے ۔۔اس پر اگرایک بھائی نے ایک بہن کو چارپائی سے باندھا تو اس کوبھی عقل تسلیم نہیںکرتی ہے کیونکہ بھائیوں نے بہنوں کو ہمیشہ تحفظ دیا ہے مگر ماں کی سنگدلی بعد از قیاس ہے جبکہ دوسرے واقعہ میں بھی کہیں نہ کہیں جرگہ کے فیصلے کے ساتھ باپ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے اس انتہا پسندی کی وجہ کیا ہے؟ آج پھر حوا کی بیٹی کے ساتھ ظلم و ستم کا بازار گرم کیوں ہے؟ آئے روز قتل اور تشدد کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں ؟اجتماعی زیادتی اور بچوں کے ساتھ بد فعلی کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ؟غیرت کے نام پر قتل کی حقیقت کیا ہے ؟ہمارا احساس کیوں مر گیا ہے ؟ کہنے کوتو ہم نے ترقی کی ہے اور مہذب دنیا میں ہمارا شمار ہوتا ہے مگر ہم عورت کو ایک جائز سماجی مقام دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ہماری مردانہ جبلت یہ برداشت نہیں کرتی مگر اسی تنگ نظری نے ہم سے ہمارا تشخص ،روایات ،مذہب ،احساس اور مروت سب کچھ چھین لیاہے اورہمارے پاس بچا ہے تو اخلاق سے عاری انہتا پسند ناکام معاشرہ ۔۔۔

مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے میںآپ کسی کو عورت کے استحصال پر فلم بنانے پر گالی نہیں دے سکتے ہیں جبکہ آپ کے ملک میں روزانہ بیسیوں خواتین اپنی عصمت کھو دیتی ہیں یا ان کے چہرے پر تیزاب گرا دیا جاتا ہے اور حیوانیت کا اختتام یہیں پر نہیں ہوتا تیزاب گردی کا شکار نابینا خاتون کو بھی سر عام لوٹ لیا جاتا ہے ایسے میں ہم دنیا میں کیوں بے نقاب نہ ہوں ،ملالہ نے اگر پاکستان چھوڑ ا ہے تو یقینا اگر وہ یہاں رہتی تو اس کو بھیانک سزا ملتی کیونکہ وہ کہیں نہ کہیں آواز بلند کرنے کی مرتکب ہوئی تھی جس کی عورت کو وہاں قطعاً اجازت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں عورت لٹ جانے کے بعد تھانے کے باہر خود کو بے شک آگ لگا لے مگر اس کی آواز کوئی نہیں سنتا اس میں کوئی دو رائے نہیں۔

Law

Law

ہمارے ملک میں حکومت چادر اور چار دیواری کے تحفظ کی مد میں رٹ قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور آنے والی نسل کو بھی ہم نظریاتی پختگی نہیں دے رہے بلکہ انھیں صرف یہ بتا رہے ہیں کہ اسلام میں ہلکا پھلکا تشدد ”جائز” ہے یہ تشدد کن شرائط پر جائز ہے اسلام سے نابلد ذہنوں کو کون سمجھائے گا اور نہ اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ” متشدد نسل” پھر تیار ہے اس لیے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سالہا سال گزر گئے قوانین بنتے رہے ،دعوے ہوتے رہے مگر سب کچھ کاغذی کاروائیوں،بیانات اور بلند و بانگ دعووں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا اور ہر سال عورتوں کے استحصال میں اضافہ ہی دیکھنے کو آرہا ہے۔

چند دن قبل پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میری نظر سے گزری ہے جس کے مطابق گذشتہ سال ملک بھر میں غیرت کے نام پر 1100خواتین کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والے مردوں کی تعداد 88ہے مذکورہ رپورٹ کے مطابق 833کو اغوا کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور 939 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے 777 خواتین نے خودکشی و اقدام خود کشی کی کوشش کی ہے اس رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ 47 خواتین سزائے موت پر عارضی پابندی ہٹنے کے بعد سے پھانسی کی منتظر ہیں۔

جبکہ انھیں کوئی قانونی معاونت فراہم نہیں کی گئی ہے اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جنسی تشدد کے خلاف واقعات میں 2014 کی بہ نسبت 2015 میں اضافہ ہوا ہے ملک بھر میں بچوں میں جنسی تشدد کے 3768 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ان میں 1974لڑکیاں اور 1794لڑکے شامل ہیں اور فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ ان کی عمریں گیارہ سال تاپندرہ سال کے درمیان ہیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزانہ ملک بھر میں تقریباً دس بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔واضح رہے کہ یہ رپورٹ ان اعدادوشمار کے مطابق ہے جن کے مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ اکثر آگاہ ہیں کہ ایسے سنگین جرائم کے مقدمات رپورٹ ہی بہت کم ہوتے ہیں پھر بھی اگر صرف اسے ہی سامنے رکھ لیاجائے تو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ پامال ہو چکا ہے۔

Society

Society

سوال یہ ہے کہ یہ تقدس کیوں پامال ہورہا ہے اس بارے مختلف نظریات ہیں مگر حقیقت تو یہی ہے کہ حیا سوز کلچر کے فروغ ،میڈیا کی مغربی نقالی اورقانون و انصاف کی فراہمی کے نہ ہونے کی وجہ سے عورت عدم تحفظ کا شکار ہو گئی ہے خواتین تحفظ بل تو اب منظور ہوا ہے جبکہ فیملی لاز تو پہلے بھی موجود تھے پھر بھی خواتین داد رسی کی متلاشی رہیں اسی لیے استدعا ہے کہ قوانین بنانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو بنے ہوئے ہیں ان پر ہی عملداری کو یقینی بنا لیا جائے تو ان جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے مگر ہمارے ہاں وزارتیں بہت ہیں مگر وزیر چیدہ چیدہ ہیں چونکہ یہ دھرتی بانجھ ہو چکی ہے اور چند لوگ ہی اس قابل پیدا ہوئے ہیں جو اچھے عہدوں کو سنبھال سکیں۔

اس لیے وہ بیچارے چھ چھ وزارتیں لئے بیٹھے ہیں یہی وجہ ہے کسی ایک بھی شعبے کے نتائج اچھے نہیں ہیں مگر کیا کیا جائے کہ قابلیت کا فقدان ہے ایسے میں گزارے پر سب چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق گذشتہ سال سولہ لاکھ لڑکیاں کم عمری کی شادیوں کی بھینٹ چڑھی ہیں اور رواں سال بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں سات فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیا یہ اسلامی ریاست ہے ؟ کہاں ہیں قوانین اور کیا ہے حکومت کا کردار اور کیا کر رہی ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسی کیا قیامت ہے کہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

پھر بھی جرائم پر قابو پانا ممکن نہیں ہو رہا ہے جبکہ گذشتہ کئی سالوں سے بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں نمائشی بیانات سے کچھ نہیں ہوگا فصیل وقت پر ایسی کہانی لکھ جائیں کہ آنے والی نسلیں مثال دیں ورنہ تو یہ طے ہے کہ جہاں چادر اور چار دیواری کا تحفظ قائم نہ رہے ایسی ریاستوں کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

Riqiya Ghazal

Riqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل