counter easy hit

ایگزیکٹ سے بڑا اسکینڈل

Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif

Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif

تحریر : عاصم ایاز
میاں برادران تو ہر قانون سے بالاتر ہیں ہی لیکن اس ملک میں ایک اور میاں صاحب ہیں جن کی “منشا” کے خلاف کوئی کام ہوتا ہے نہ کوئی ان کی سرزنش کرسکتا ہے…جی ہاں… میاں منشا کی فائلیں بھی کهل گئیں… آپ لوگوں کو یاد ہوگا کچه عرصے پہلے بڑے میاں صاحب نے بہاولپور کے دورے کے دوران نیب کو شٹ اپ کال دی تھی..وجہ یہی میاں منشا تھے…نیب تو اتنی ڈرپوک نکلی کہ جس طرح ششششش کہنے پر بچہ زمین گیلی کردیتا ہے اسی نیب کی حالت بھی پتلی ہوگئی لیکن کچه نادیدہ قوتوں کے میاں صاحب کی شٹ اپ کال پر کان کھڑے ہوگئے جس کے بعد فائلیں کهلنا شروع ہوگئیں…میٹرو ٹرین منصوبہ.. اورنج ٹرین..ایل این جی گیس.. نندی پور پراجیکٹ… اسحاق ڈالر کی منی لانڈرنگ۔

سانحہ ماڈل ٹاون سمیت کئی وفاقی اور پنجاب کے وزرا کے خلاف شواہد اکٹھا کرلئے گئے۔میاں منشا کے خلاف جو فائل تیار ہوئی ہے اس کے سامنے تو ایگزیکٹ کیس کوئی حیثیت ہی نہیں رکهتا.. ایگزیکٹ کیس تو ایک اخباری رپورٹ کی بنیاد پر بنایا گیا جس کا کوئی مدعی ہے نہ گواہ.. 11 ماہ سے ن لیگی حکومت کوئی ایک ثبوت حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن مسلسل ناکامی کا شکار ہے۔

چوہدری نثار صاحب اور شاہد حیات صاحب اگر اپنے وزیراعظم سے نہیں ڈرتے تو پھر میاں منشا کے موٹے موٹے کارنامے سنو…اور پکڑو ن لیگی حکومت کے ناک کے بال میاں منشا کو.. 1977 میں ایک چھوٹی سی ٹیکسٹائل مل “نشاط” کے نام سے چلانے..پرانے کپڑے اور ٹوٹی چپل پہننے والے میاں منشا کی موجودہ بے تحاشا دولت کا سراغ تو لگائیں۔

Mian Mohammad Mansha

Mian Mohammad Mansha

2010 میں پاکستان کا امیر ترین شخص کہلوانے والا میاں منشا کتنا ٹیکس دیتا ہے ریکارڈ نکلوائیں ایف بی آر سے… چلیں یہ بھی نہ کریں ٹیکس وزیراعظم صاحب کون سا دیتے ہیں..جو یہ بندہ دے…آگے سنو لاہور کے جوہر ٹاون میں نشاط امپوریم کے نام سے جو شاپنگ مال بنایا جارہا ہے اس میں ایک بجلی کا ایک ٹرانسفارمر لگوانے کیلئے سرکاری خزانے کو 4 ارب روپے سے زائد کا چونالگادیا گیا..جھوٹ ہے تو لیسکوکا ریکارڈ چیک کرلیں۔مزید سنیں… لندن میں فائیو اسٹار جیمز ہوٹل 6 کروڑ پونڈ سے خریدا…کیا تگڑم بازی کی خود چیک کرلیں… سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کا دعوی ہے کہ منی لانڈرنگ سے ہوٹل خریدا کیا۔

ایف بی آر کے تین اعلی افسران نے جب اس کی تحقیقات کی اور شواہد حاصل کئے تو ان کو انکے عہدوں سے ہٹادیا گیا… ساری تفصیل ایف بی آر سے لے سکتے ہیں.. آگے اور بھی سنیں2015 میں کی گئی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی پیدا کرنے والی آئی پی پیز کو 400 ارب روپے سے زائد کی غیرآئینی اور غیرقانونی ادائیگیاں کی گئیں جس کا بڑا حصہ میاں منشا کی آئی پی پیز کو گیا…بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔

میاں منشا کو مسلم کمرشل بینک نجکاری کے نام پر جس طرح تھالی میں رکه کے پیش کیا گیا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فناننس نے جب اس کا سارا ریکارڈ طلب کیا تو یہ معاملہ بھی دبا دیا گیا.. کمیٹی کا آرڈر اور اجلاسوں کے منٹس ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں… ہمت ہے تو اور سنیں…اسحاق “ڈالر” صاحب نے میاں منشا کے صاحبزادے کو سوئی نادرن کا ڈائریکٹر کیابنوادیا وارے نیارے ہوگئے.. پورے پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی سپلائی بند رہتی ہے لیکن جب سے صاحبزادے ڈائریکٹر بنے ہیں میاں منشا کی ڈی جی سیمنٹ فیکٹری میں ایک منٹ کیلئے بھی گیس بند نہیں ہوئی اور نہ پریشر میں کوئی کمی آنے دی گئی۔

Dollars

Dollars

کہاں تک سنوگے کہاں تک سناوں… ؟ میاں منشا کی نیندیں حرام ہوچکیں.. اسے پتہ لگ چکا ہے اب بچت کا راستہ ہے اور نہ کوئی پتلی گلی ہے جس سے نکلا جاسکے.. ایک طرف میاں صاحب کے چہیتے میاں منشا کی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری، مالی بے ضابطاگیوں کے ٹھوس شواہد ریاستی اداروں کے پاس محفوظ ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں.. دوسری طرف ایگزیکٹ اور بول کا مالک شعیب شیخ بیگناہ 11 ماہ سے سلاخوں کے پیچھے ہے…شعیب شیخ کے خلاف حکومت پورا زور لگاکر بھی ایک ثبوت حاصل نہ کرسکی لیکن دوسری طرف میاں منشا کی موٹی موٹی فائلیں ثبوتوں سے بھری پڑی ہیں…یہ تو میں نے صرف چند ایک کہانیاں سنائی ہیں مزید بھی سناتا رہوں گا…لیکن کیا میاں برادران میں رتی برابر بھی ایمان موجود ہے۔

کیا ان بھائیوں کو ذرا بھی خوف خدا نہیں؟؟ کیا ان بھائیوں کو یوم حساب پر یقین نہیں؟ کیا انہیں پتہ نہیں کہ آخرت میں حلال کا حساب اور حرام کا عذاب تو لازمی بھگتنا ہے؟ کیا چوہدری نثار کو اپنے آنے والا کل کا پتہ ہے؟ میں بطور صحافی حلفیہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ نواز حکومت میں انصاف کاحصول کٹے سے دوده کی خواہش یا کسی ہیجڑے سے اولاد کی امید کے برابر ہے۔

جب انصاف اور قانون من پسند لوگوں تک محدود ہوجائے تو پھر اس معاشرے کی تباہی یقینی سمجھیں..مولا علی کرم اللہ وجھہ نے پتھر پر لکیر بات کئی صدیوں پہلے کہہ دی تھی کہ…. کفر کا معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم کا معاشرہ کبھی نہیں… پرانی کہاوت ہے اللہ گنجے کو ناخن نہ دے…پپو کہتا ہے فی الحال انہیں ہدایت ہی دے دے تو قوم کا بھلا ہوجائے گا۔

Asim Ayaz

Asim Ayaz

تحریر : عاصم ایاز