counter easy hit

بریکنگ نیوز: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات ۔۔۔ پوری دنیا کو حیران کر دینے والی خبر

DONALD TRUMP, MEETS, IRANI, PRESIDENT, HASSAN ROOHIANI, BREAKING, NEWS

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہتر حالات میں ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کے لیے رضامندی کا اظہار کردیا۔تفصیلات کے مطابق فرانس میں جی سیون اجلاس کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل مکرون اور امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر حالات سازگار رہے تو حسن روحانی سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے ایران سے متعلق نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پوری امید ہے ایران ایک عظیم ملک بن سکتا ہے لیکن جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔دریں اثنا فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے سربراہان کے درمیان جلد ملاقات کی امید ہے، تاہم کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی جاسکتی البتہ اس حوالے سے ماحول بنایا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی جی سیون اجلاس میں شرکت کی تھی، اس موقع پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی جی -7 سربراہی اجلاس میں آمد کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کی عزت بھی کرتے ہیں۔امریکی صدر نے جی-7 سربراہی اجلاس میں بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فرانس کے صدر نے ایرانی وزیرخارجہ کی آمد سے قبل ان سے اس اقدام کی منظوری لی تھی۔قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ملکی مفاد اور حالات کی بہتری کے لیے کسی سے بھی ملنے کے لیے تیار ہیں۔عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سرد مہری کی برف پگھلی ہے یا نہیں؟ کیونکہ جواد ظریف کی کسی بھی امریکی عہدیدار سے بات چیت نہیں ہوئی ہے لیکن امریکی صدر کا یہ دعویٰ کہ ایران کے وزیرخارجہ کی آمد ان کی مرضی سے ہوئی ہے اس بات کا عندیہ ضرور دے رہی ہےکہ کچھ بات چیت کا آغاز ضرور ہوا ہے خواہ وہ پس پردہ ہی کیوں نہ ہو۔دلچسپ امر ہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جی -7 سربراہی اجلاس میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی آمد ان کے لیے حیران کن تھی۔ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک ایسے وقت میں فرانس کا ایک مختصر اور غیر اعلانیہ دورہ دورہ کیا ہے جب وہاں جی سیون سربراہی اجلاس جاری ہے۔دیگر عالمی رہنماؤں کے علاوہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک ہیں اور ایسے میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی ضمنی بات چیت میں شرکت کی۔جواد ظریف نے سربراہی اجلاس کے موقع پر جمعہ کے روز پیرس میں صدر ایمانوئل میکخواں سے بھی ملاقات کی تھی۔ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب گذشتہ برس امریکہ نے یک طرفہ طور پر سنہ 2015 میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔پانچ دوسرے ممالک بشمول فرانس اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی نئی معاشی پابندیوں کے بعد ایران نے جوابی اقدام کے طور پر جوہری سرگرمیاں پھر سے شروع کر دی تھیں۔یاد رہے کہ گذشتہ برس کینیڈا میں منعقد ہونے والے جی 7 ممالک کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گروپ سات کے تمام ممالک ایران کے خطرناک عزائم کی مانیٹرنگ کے لیے متحد ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website