counter easy hit

امریکا میں بھی میڈیا کو اعلانیہ غیراعلانیہ پابندیوں کا سامنا، وائس آف امریکا صدارتی کشمکش میں پھنس کر رہ گئی

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) دنیا اور بالخصوصی جنوبی ایشیاکے بعض ترقی پذیر ممالک کی طرح اس وقت “سپرپاور”امریکہ میں بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کواعلانیہ اورغیراعلانیہ بندشوں کا سامنا ہے۔ خودامریکی صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک سے زیادہ مرتبہ زمینی حقائق کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدامات پرآزادانہ موقف اختیار کرتے ہوئے سوالات پرانھوں نے نہ صرف صحافیوں کے جواب دینے سے انکار کردیا بلکہ نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مائیک چھوڑنے کا بھی تاثر دیا جبکہ ان دنوں جب صدارتی انتخابات نزدیک آرہے ہیں اور ان کے حریف جوبائیڈن نے جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور جنھوں نے کامیابی کی صورت میں امریکہ میں مقیم اوربیرون ممالک سے آنے والے مسلمانوں پر سے بعض پابندیاں ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ان کی حمایت کرنے والوں اوربالخصوص حکومتی زیراثر میڈیا میں اردو بولنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق وائس آف امریکا (وی او اے) کی اردو سروس مسلم ووٹس جیتنے کے لیے امریکا کی 2 بڑی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک کے درمیان جاری کشمکش کے بیچ میں خود اتر آئی ہے۔ کچھ اردو صحافیوں کو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے حق میں ویڈیو نشر کرنے پر اپنی ملازمت کھونا پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا میں صرف 35 لاکھ مسلمان ہیں جو مجموعی آبادی کا تقریباً 1.1 فیصد ہے اور بظاہر اسی وجہ سے گزشتہ انتخابات میں کسی جماعت نے مسلمان ووٹس حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن اس مرتبہ الیکشن کچھ مختلف ہے۔
اور اس نکتہ پر 22 جولائی کی نظرثانی شدہ اردو مواد کی ویڈیو میں بھی روشنی ڈالی گئی تھی، جس کی تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘امریکا کی کچھ اہم ریاستوں میں مسلمان ووٹرز کی تعداد آئندہ انتخاب میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، 2016 انتخاب میں امریکی صدر 11 ہزار سے کم ووٹس کے ساتھ مشی گن میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ اس ریاست میں 15 لاکھ مسلمان ووٹرز ہیں’۔وی او اے کی اردو ویب سائٹ پر لوگوز اور سب ٹائٹلز کے ساتھ شائع کی گئی اس ویڈیو میں جوبائیڈن 20 جولائی کو لاکھوں مسلمان ووٹرز کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو ایک غیرمنافع بخش امگیج ایکشن کی جانب سے منعقدہ کی گئی تھی۔اس ویڈیو میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ‘پہلے ہی دن’ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ مسلمان مخالف اقدامات کو ختم کردیں گے ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ ‘اسلاموفوبیا’ کو شکست دینے کے لیے انہیں ووٹ دیں۔ تاہم اس ویڈیو کے نشر ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ٹرمپ کے کچھ حامی گروپس نے اس ویڈیو کو امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا (یو یس اے جی ایم) کے سی ای او مائیکل پیک کو بھیج دی تھی جو وائس آف امریکا بھی چلاتی ہے۔ جس پر انہوں نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا تھا کہ اس بات کا پتا لگایا جائے کہ کیسے اور کیوں یہ ویڈیو نشر کی گئی۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ‘جس اسٹاف ممبر نے امریکی انتخابات میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا’۔ مذکورہ بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2 سب سے بڑی کانگریس حریف ڈیموکریٹک کانگریس وومن منی سوٹا کی الہان عمر اور مشی گن کی راشد طلیب بھی ‘اس ویڈیو میں نظر آئیں تھیں’۔ امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا کے بیان سے نومبر 2020 کے انتخابات میں مسلمان ووٹرز کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا۔ ایجنسی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ وی او اے کے ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس پر شیئر کیا جانے والے مواد کو بھی ہٹا دیا گیا ہے اور ہوسکتا ہے اس نے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔ علاوہ ازیں امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ ‘کچھ وی او اے اردو کے ملازمین’ سے اس مواد کے نشر ہونے پر تحقیقات کی جارہی ہے جبکہ مائیکل پیک کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر جو ذمہ دار ہوں گے ان کے ساتھ ‘تیز اور منصفانہ طریقے’ سے نمٹا جائے گا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website