counter easy hit

کرائی اونکس Cryonics

Cryonics

Cryonics

تحریر : شاہد شکیل
سائنس تحقیق کا نام ہے اور کسی بھی سائنسی تحقیق میں کامیابی کے بعد ہی محقیقین اسے متعارف کرواتے ہیںجسے سراہنے کے ساتھ مستفید ہوا جاتا ہے لیکن دنیا میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو سائنسی تحقیق اور ایجادات پر یقین تو رکھتے ہیں لیکن معجزہ قرار دیتے ہیں حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا یہ سائنس کا ہی کارنامہ ہے کہ انسان کئی سال پہلے چاند کا سفر کر چکا ہے ،ٹیسٹ ٹیوب بے بی میں کامیابی ہوئی حتیٰ کہ جانوروں کے علاوہ انسانوں کو کلون کرنے کا تجربہ بھی کامیاب ہواان تمام حقائق کے باوجود اگر کوئی انسان جدیدسائنس کو نہیں مانتا تو بھلے معجزہ یا جادو قرار دے لیکن حقیقت دنیا جانتی ہے ، ایسے ہی کئی سائنسدان انسان کو طویل عمر تک زندہ رکھنے کیلئے کئی سالوں سے تجربات کر رہے ہیں اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔کرائی اونکس کوئی جادو یا معجزہ نہیں بلکہ سائنسی ریسرچ ہے جس سے ایک مردہ انسان کو نائیٹروجن مائع کے ذریعے ایک دھاتی باکس میں منفی ایک سو چھیانوے ڈگری سینٹی گریڈ کی حرارت میں رکھ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اس امید پر کہ یہ مردہ انسان کبھی نہ کبھی زندہ ہو جائے گا۔

امریکی سائنسدان رابرٹ ایٹنگر Robert Ettinger نے اس تحقیق کو انیس سو باسٹھ میں متعارف کروایا اور انیس سو چھہتر میں مشی گن میں کرائی اونکس انسٹیٹیوٹ قائم کیاجہاں سب سے پہلے اس نے اپنی مردہ ماں اور دو سابقہ بیویوں کو برف کی سِلوں میں منجمند کردیا۔ رابرٹ کا کہنا ہے کیونکہ زندہ انسان کو فریز نہیں کیا جاسکتا اس لئے میت کو محفوظ کیا جانا آسان ہے اور اس امید پر کرائی اونکس کی گئی لاش سیکڑوں ،ہزاروں سال یا اس سے زائد عرصے تک محفوظ رہے اور مردہ عمر کے ساتھ ساتھ درست حالت میں رہنے کے بعد زندہ ہو جائے،ابھی تک ریسرچ سے ثابت نہیں ہو سکا کہ مردہ انسان کو کتنے عرصے تک سرد باکس میں منجمند کیا جائے کہ منفی ایک سو چھیانوے ڈگری نائیٹروجن مائع میں محفوظ رہے اور اسے نقصان نہ پہنچے لیکن مستقبل میں زندہ ہو جائے،ایک دوسرے سائنسدان کا کہنا ہے ایک تجربہ مردہ خرگوش کے گردوں پر کیا گیا تھا جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے سرد اشیاء کو پگھلانے والے عام مواد کے علاوہ ایتھلین گلائی کول اور ڈیمی تھائیل سلفی ڈوکسڈ زہریلا مواد ہے اگر اس مواد کو زندہ انسان پر استعمال کیا جائے تو اس کے گردے ، دل اور دیگر اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن موت واقع نہیں ہو گی برعکس زندہ انسان کے اگر یہ میٹریل کسی مردہ انسان پر استعمال کیا جائے تو کتنا نقصان دہ ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن تحقیق جاری ہے،ری سیسیٹیشن کا مرحلہ زیادہ نازک ہوتا ہے اور نئی تیکنک استعمال کی جاتی ہے ۔دوہزار چار میں یورپ کے کئی ممالک میں کرائی اونکس انسٹیوٹ قائم کئے گئے اور میتوں کو طویل عرصہ تک سٹوریج کرنے کیلئے ٹیموں کو مخصوص تربیت دینے کے بعد منتخب کیا گیا ،حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دو سو نوے کرائی اونکس مریض (مردے) مختلف انسٹیٹیوٹس کے سرد باکس میں منجمند ہیں امریکن کمپنی الکور کے توسط سے سکاٹ ڈیل ایریزونا میں کئی مریض سٹوریج ہیں۔

اسی افراد کو مرنے سے قبل نیورولوجی بیماری میں مبتلا ہونے کے سبب صرف ان کے دماغ کو منجمند کیا گیا ،الکور کمپنی کے ایک ہزار ممبرز ہیں جس میں ایک سو چونتیس مریض کرائی اونکس انسٹیٹیوٹ کلنٹن ٹاؤن شپ مشی گن میں منجمند ہیں کمپنی کے مزید بارہ سو نئے ممبرز مرنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ سرد باکس میں دفن کئے جا سکیںالکور کی ایک شاخ روس میں دوہزار پانچ میں قائم کی گئی جہاں بارہ سو افراد کمپنی کے ممبرز ہیں،ماسکو کے نواح میں روسی کمپنی سیر جیف پوساد سے ایک سو تیس افراد نے کرائی اونکس کا معاہدہ کیا ہے کہ مرنے کے بعد انہیں سرد باکس میں سٹوریج کیا جائے علاوہ ازیں یورپ کے دیگر ممالک جن میں جرمنی، سپین ، پرتگال ، آئر لینڈ ، برطانیہ ، بیلجئم ، ہالینڈ ، اٹلی ، ڈین مارک اور فن لینڈ میں کرائی اونکس کی تنظیمیں اور ان کے نمائندے موجود ہیں جو موت ، سرد باکس ، طویل عمر اور کرائی اونکس کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔

انیس سو تیرانوے میں ریلیز ہوئی ہالی ووڈ کی ایک فلم ڈیمولیشن مین میں سلویسٹر سٹالون نے پولیس آفیسر جان سپارٹن کا کردار ادا کیا تھا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے پر اسے کرائی اونکس برف کے باکس میں دفن کر کے سزا دی جاتی ہے انیس سو چھیانوے میں اسے مختلف انجیکشن اور کیمیائی مواد کے زیر اثر برف میں ڈالا جاتا ہے اور انیس سو بتیس میں رہائی ہوتی ہے ،فلم کے برعکس لوگوں کا کہنا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ عمر کو میڈیسن ، جینیاتی انجینئرنگ یا نینو میڈیسن کی پیش رفت سے طویل عرصہ تک قائم رکھا جائے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فریز ہوا مردہ کچھ عرصہ بعد زندہ ہو جائے؟۔ مشی گن اور ایریزونا میں ڈھائی سو مردے نائیٹروجن کے زریعے مائینس ایک سو چھیانوے ڈگری کی حرارت میں مرتبانوں میں فریز ہیں اور ماہرین نے انہیں اس امید اور انتظار میں ذخیرہ کیا ہے کہ پچاس ،سو یا دو سو سال بعد وہ زندہ ہو جائیں گے۔

کرائی اوس۔قدیم یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی فریز (منجمند) ہیں،قدیم مصری اور یونانی عقیدے کے مطابق انسان کبھی نہ کبھی زندہ ہو گا، ماہرین کا کہنا ہے زندہ ہونے کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنا انسان خود اور اس روایت کے پیش نظر ڈیڑھ صدی قبل کیمیا دانوں نے ایک تحقیق کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے لیکن دور جدید کی سائنس اس قدیم روایت کو پھر سے مردہ انسان کو طویل عمر کے ساتھ زندہ کرنے کیلئے فریز یا کرائی اونکس جیسے تجربات کرنا چاہتی ہے کہ کیا انسان دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں خاص طور پر امریکا کے علاوہ روس اور یورپ کے ایک درجن سے زائد ممالک نے کرائی اونکس انسٹیٹیوٹ اور تنظیمیں قائم کی ہیں جہاں ان کے نمائندے ہر خاص و عام کو تفصیلاً تمام پروسس سے آگاہ کرتے ہیں،تمام انسٹیٹیوٹس دن رات ریسرچ میں مشغول ہیں کہ کس کیمیائی یا سائنسی عمل سے انسان دوبارہ زندہ ہو جائے۔

طبی پیش رفت میں عمر کو روکنے یا زندگی کو طویل کرنے پر امریکی سائنسدان ڈاکٹر کاس جو کونسل آف بائیو ایتھک کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے زندگی کو طول دینے کیلئے محقیقین ریسرچ کر رہے ہیں لیکن انسانی جلد کو سلوٹوں اور جھریوں سے بوڑھا ہونے سے بچانے کیلئے ابھی تک کوئی میڈیسن ایجاد نہیں کی جا سکی تاہم آج کے انسانوں کی زندگی کا دورانیہ گزشتہ ایک سو سال سے زائد ہے اور اس کے پیچھے بھی تحقیق ، معالجین اور سائنس کا عمل دخل ہے،اس کامیابی کے بعد کہ انسان چند سال زیادہ زندہ رہ سکتا ہے ، نینو میڈیسن کے پروفیسر رابرٹ فرائی تاس جونئیر کا کہنا ہے عنقریب ایک نئی تیکنیک متعارف کروائی جائے گی جس سے انسانی جسم کے خلیات کی سرکولیشن اور رفتار کم کی جائے گی تاکہ اس عمل سے عمر مزید طویل ہو،ماہرین نے ایک حیاتاتی مِنی روبوٹ تیار کیا ہے۔

جو قدرتی موت کی وجوہات کو ختم کرنے کی پیش گوئی کرے گا اور خلیات میں بائیو لوجی سسٹم سے حیاتاتی عمر کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے گالیکن اس تمام عمل کو مخصوص ادویہ اور انجیکشن سے پایہ تکمیل پہنچایا جائے گا، انسان کے سرخ خون کو مصنوعی سفید خون کے ذریعے کھربوں کی تعداد میں خلیات پہنچانے کا عمل کیا جائے گا، روبوٹ کے نقصان دہ بیکٹیریا اور جسمانی آلودگی کو صاف اور ختم کرنے کے بعد تما م جسم میں کروموزوم تھیراپی کی تبدیلی پیدا ہو گی اور انفرادی خلیات کے درمیان فنکشن کرے گا۔مشی گن انسٹیٹیوٹ اور الکور تقریباً چالیس سال سے زندگی کی توسیع کرنے پر تجربات کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کرائی اونکس سسٹم کامیابی کی منزلوں کو چھوئے گا۔

فریز ہونے کیلئے اعداد و شمار کے مطابق روس میں بتیس ہزار یورو ، جرمنی میں ایک لاکھ انیس ہزار یورو اور امریکا میں ایک لاکھ بتیس ہزار یورو تک کی فیس کا تخمینا لگایا گیا ہے صرف سر کو فریز کرنے پر دس ہزار چھ سو یورو سے ساٹھ ہزار یورو تک کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ان تما م سائنسی باتوں پر کتنا یقین کیا جا سکتا ہے یا کب دنیا میں متعارف کروایا جائے گا کوئی نہیں جانتا،لیکن اگر سائنس انسان کو چاند کا سفر کروا سکتی ہے ٹیسٹ ٹیوب بے بیز جنم لے سکتے ہیں اور انسانوں کو کلون کیا جا سکتا ہے تو ممکن ہے چند سالوں بعد انسانو ں کی عمر طویل کرنے کے علاوہ سائنس کچھ ایسا کر دکھائے کہ مردہ زندہ ہو جائے۔

Shahid Sakil

Shahid Sakil

تحریر : شاہد شکیل