counter easy hit

کورکمانڈرز کانفرنس : فوجی قیادت کو رینجرز کے اختیارات پر سیاسی شرائط نامنظور : ذرائع

Corps Commanders Conference on military

Corps Commanders Conference on military

پاکستان کی عسکری قیادت کا فیصلہ ہے کہ آپریشن پر کوئی حدود و قیو د تسلیم نہیں کی جا ئیں گی ، دہشتگردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں اور مالی مدد گاروں کو بھی نہیں چھو ڑا جا ئیگا ، دوسری صورت میں رینجرز کو واپس بلا لیا جا ئیگا ۔
کراچی ( یس اُردو ) ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نازک موڑ پر پہنچ گیا ہے اور وزیر اعظم سے آرمی چیف کی جلد ملا قا ت متو قع ہے جب کہ نواز شریف اور آصف زرداری میں بھی بالواسطہ رابطہ ، ہے اور وفاقی حکومت براہ راست رینجرز کو اختیارات تفو یض کر سکتی ہے ۔ کورکمانڈرز کانفرنس گزشتہ روز راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل راحیل شر یف کی زیر صدارت ہو ئی، جس میں اہم نکتہ کراچی آپریشن رہا، عسکر ی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کو کراچی آپریشن سے منسلک سیاسی شرائط نا منظور ہیں ، یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ کر اچی میں رینجرز کا قیام اور اختیارات معمول کا معاملہ تھا ، مگر اسے عمومی سطح پر موضوع بحث بنا دیا گیا اور دس روز سے اس پر طرح طرح کی با تیں کی جا رہی ہیں ، جس سے جوانوں اور افسروں کا مورال متا ثر ہو رہا ہے ۔ یہ سب فو جی نظام کا حصہ ہیں ، لہٰذا فورس پر اس کے منفی اثرات مر تب ہو رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت رینجرز کے اختیارات کو چار نکات تک محدود کرنا چاہتی ہے ، جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپریشن کا انتظامی کنٹرول وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کے پاس ہو ، باقی نکات میں دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز کا صفایا، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کا انسداد شامل ہیں ۔ حکومت چاہتی ہے کہ کسی سیا سی شخصیت اور بیورو کریٹ پر ہاتھ نہ ڈالا جائے ، عسکری ذرائع کے مطابق فوجی آپریشن کی کمان کبھی سیاستدان کے پاس نہیں ہوتی ۔ یہ بات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کہ آپریشن کو وزیراعلیٰ کنٹرو ل کریں ۔ ان کی اپنی سیاسی مجبوریاں ہو سکتی ہیں ، لیکن آپر یشنل کمانڈر کو صورتحال کے مطابق فیصلے کرنا ہوتے ہیں ، فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ اس آپریشن کو بلا امتیاز اور بے رحم ہونا چاہئے ، اس سے کسی قسم کی شرائط منسلک کرنا اس کی روح کے منافی ہو گا ۔ اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہو گا ، سیاستدان سیاسی گفتگو اور سمجھوتے کریں ، لیکن سیاسی ذمہ داریوں اور سیاسی شر ائط کو آپریشن سے منسلک نہ کیا جائے ۔ عسکری حلقے سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی حکومت جس طرح کی رعا یت چا ہتی ہے اسی طر ح کا مطالبہ ایم کیو ایم کی طرف سے بھی آئیگا ، یہ صورتحال کسی طرح بھی قبول نہیں ۔ صورتحال اس وقت نازک رخ اختیار کر چکی ہے ، معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ گیا ، عسکری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ آپر یشن پر کسی قسم کی حدود و قیود تسلیم نہیں کی جائیں گی ۔ دہشتگردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں اور مالی مدد گاروں کو بھی نہیں چھوڑا جائیگا ، ان شر ائط پر آپریشن نہ ہوا تو رینجرز کو وا پس بلا لیا جا ئیگا ۔ اس ضمن میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات ایک دو روز میں ہوگی ، جس میں وزیر اعظم نواز شر یف پر فوجی قیا دت کا مو قف پوری طرح واضح کر دیا جا ئیگا ، جس کے بعد وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شا ہ سے ملیں گے اور معاملہ حل کریں گے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ ہو سکا تو ممکن ہے کہ وفاقی حکومت براہ راست احکامات جاری کر کے رینجرز کو اختیارات تفو یض کر دے ۔ اس صور ت میں پیپلز پارٹی کا سخت ردعمل آسکتا ہے ۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ان کے تحفظات پر ہمدردی سے غور کریں گے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اس سلسلے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ یہ معاملہ آئندہ 48 گھنٹوں میں سامنے آئے گا ۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان بھی بالواسطہ رابطہ ہے ۔ یہ نازک فیصلہ ہو گا اور وزیر اعظم کے لئے آسان نہیں ۔ فوجی قیادت اور کراچی کے شہریوں کی رائے ہے کہ یہ آپریشن سیاسی آمیزش سے پاک ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہوئی ۔ اجلاس کو ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی ۔ کانفرنس کے شرکا نے ابھرتی ہوئی جیو سٹریٹجک صورتحال اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے اس کی موزونیت کا ہمہ جہت جائزہ بھی لیا ۔ کانفرنس کے شرکا نے آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہدا کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ، جنہوں نے 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردی کے المناک واقعہ میں اپنی جانیں قربان کیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مادر وطن کی خاطر دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیاں پیش کرنے والے تمام شہدا اور زخمیوں کو یاد کرتے ہوئے ہم مقاصد کے حصول اور انہیں مستحکم بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے جو تمام شہدا اور زخمیوں کے شایان شان خراج تحسین ہوگا ۔