counter easy hit

یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےداخلہ نےسوشل میڈیاپرسپریم کورٹ بالخصوص چیف جسٹس کیخلاف مہم کانوٹس لیتےہوئےایف آئی اے کوتحقیقات کی سفارش کردی،ایف آئی اےسےرپورٹ طلب کی گئی ہےکہ کہاں سے یہ مہم شروع ہوئی؟کسی کےبھی خلاف اِس قسم کی مہمات بدنامی کیلئے شروع کی جاتی ہیں،چیئرمین قائمہ کمیٹی رحمان ملک نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ

TOP Best Jobs for All Categories, Govt, Semi Govt and Private Jobs 2019 for 68+ Computer Operators, Stenographers, Stenotypists, Assistants, Instructors & Other

اس مہم کے پیچھے’را‘بھی ملوث ہوسکتی ہے۔قائمہ کمیٹی برائےداخلہ کااِجلاس چیئرمین رحمان ملک کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، قائمہ کمیٹی نے عدالت عظمیٰ میں آرمی چیف کی مدت کی توسیع سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد ڈالے جانے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ رحمان ملک نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس معاملے پر خود آواز اٹھائی ہے،ہماری آواز بھی اس میں شامل ہے، ارکان پارلیمنٹ کو بھی بدنام کیا گیا اور یہ کیس ایف آئی اے کے سپرد کرچکے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کیخلاف مواد کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ایف آئی اے سے ٹاپ سٹی سے متعلق اعتراضات کے بارے میں بھی رپورٹ مانگ لی ہے ۔

Jobs for All Categories throughout Pakistan Govt, Semi Govt, Private, All Cities, All Provinces, Latest Jobs 2019 for 100+ Categories as Assistant Directors, Dy Directors, Dispatch Riders, Naib Qasid & Other

سول ایوی ایشن، آر ڈی اے اور سی ڈی اے کی کلیئرنس کے بارے میں تحریری جواب مانگا گیا ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے حکم دیا ہے اڈیالہ جیل کے بیمار قیدی خادم حسین کیلئے کل یعنی عدالتی چھوٹے والے دن بھی متعلقین پیش ہوں۔وزارت صحت اور وزارت انسانی حقوق کی جانب سے نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے بذریعہ نوٹس آئندہ سماعت پر طلب کیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں خود اڈیالہ کا مہمان بنا تھا اس لیے وہاں کے حالات کا علم ہے، جیل حکام کو اپنے اختیارات کا علم ہی نہیں ہے، قیدی صرف جیل کی ہی نہیں ریاست کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔دوران سماعت پنجاب کے ضلع راولپنڈی کی مرکزی جیل اڈیالہ میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اڈیالہ جیل کے سپرٹنڈنٹ نے انکشاف کیا کہ 1500 قیدیوں کی جگہ4800 قیدی رکھے جا رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف کی درخوست منظور ہونے کے بعد چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت عام قیدی کی بیماری کا کیس بھی نواز شریف کی طرح سنے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ جب کسی قیدی کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا تو عدالت کیس کی سماعت کے لیے بیٹھے گی اور چیف جسٹس 24گھنٹوں میں اس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف نواز شریف کیس کے لیے نہیں بلکہ ہر اس قیدی کے لیے ہے جو سزایافتہ ہے، ہم صرف اشرفیہ کے مسائل پر بات کرتے ہیں،عدالت نے عام قیدیوں کے مسائل پر بات کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا اور اتفاق ہے کہ ایسا ایک ہائی پروفائل کیس میں ہوا۔خیال رہے کہ بیمار قیدیوں کی ضمانت اور طبی سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اگر حکومت اپنے فرائض سے غفلت برتے تو متاثرین عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

Condemnable, campaign, against, Chief Justice, Asif Saeed Khan, Khosa, News,discussed, and, took, notice, by, Rehman Malik, in, Standing, Committee, Meeting

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website