counter easy hit

بچوں میں قبض کی شکایت اورعلاج

قبض کو بیماریوں کی ماں کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے ساتھ کئی اور بیماریاں بھی لے آتی ہے- قبض کی بیماری کا سامنا بڑوں کے علاوہ اکثر بچوں کو بھی کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بچے تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ ان کے والدین بھی پریشان رہتے ہیں- بچوں میں قبض کی شکایت کیوں ہوتی ہے؟ اس کی علامات کیا ہیں؟ اور اس کا علاج کیسے ممکن ہے؟ ان تمام اہم سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہماری ویب کی ٹیم نے معروف چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر مبینہ آگبٹوالہ سے خصوصی ملاقات کی- ملاقات کے دوران اس بیماری کے حوالے سے جو اہم معلومات سامنے آئیں وہ یہاں قارئین کی آگہی کے لیے پیش کی جارہی ہیں-

ڈاکٹر مبینہ کہتی ہیں کہ “ قبض ایک ایسی بیماری ہے جو بچوں میں عام پائی جاتی ہے اور جس طرح کی غذائیں آج کل بچے کھا رہے ہیں ان کی وجہ سے یہ مرض مزید عام ہورہا ہے“-

“ قبض ایسی حالت کو کہتے ہیں جس میں بچہ دو روز تک فضلہ خارج نہ کریں یا پھر اگر ایک یا دو روز کے دوران کرتا بھی ہے تو وہ بہت سخت ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچے کو فضلہ خارج کرتے ہوئے شدید تکلیف ہوتی ہے اور وہ رونے لگتا ہے“-

“ اگر قبض مہینے میں ایک مرتبہ یا دو مہینے میں ایک مرتبہ ہوتی ہے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے“-

hirschsprung disease ڈاکٹر مبینہ کا کہنا تھا کہ “ قبض کی دو اقسام ہوتی ہیں- ایک قبض نوزائیدہ بچوں میں ہوتی اور وہ بہت نایاب ہوتی ہے اور اسے

کہا جاتا ہے

“ اس میں بچہ شروع سے ہی فضلہ خارج نہیں کرتا اور اس کا طریقہ علاج بھی مختلف ہوتا ہے- ایک بات واضح رہے کہ جو نوزائیدہ بچے ماں کے دودھ پر ہوتے ہیں وہ 5 سے 6 مرتبہ فضلہ خارج کرتے ہیں جو کہ نارمل ہوتا ہے٬ نرم اور پیلے رنگ کا ہوتا ہے“-

hirschsprung disease لیکن اگر نوزائیدہ بچہ 4 سے 5 دن تک فضلہ خارج نہ کرے اور ماں کے دودھ پر ہو تو اسے

کہا جاتا ہے

قبض کی دوسری قسم جو کہ عام پائی جاتی ہے٬ کے حوالے سے ڈاکٹر مبینہ کہتی ہیں کہ “ کچھ پاؤڈر کے دودھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دینے سے بچے کو قبض ہوجاتی ہے- اگر بچے کو قبض ہورہی ہے اور وہ پاؤڈر دودھ پر ہے تو کوشش کریں کہ بچہ ماں کے دودھ پر آجائے یا پھر اس کے دودھ کا فارمولہ تبدیل کردیں

“ اس کے علاوہ اکثر مائیں 8 یا 9 ماہ یا پھر 2 سال تک کے بچوں کی مائیں یہ شکایت کرتی ہیں کہ گزشتہ دو مہینے سے بچے کو قبض ہورہی ہے جبکہ پہلے یہ بالکل صحیح تھا

suppository مائیں کہتی ہیں کہ ہم بچے کو دوائیں دے چکے ہیں اور بچے کے نیچے

رکھتے ہیں تو بچہ فضلہ خارج کرتا ہے- اصل میں بچہ اس چیز کا عادی ہوچکا ہوتا ہے- بچے جب 4 یا 5 دن تک فضلہ خارج نہیں کرتے تو وہ سخت ہوجاتا ہے- بچہ جب فضلہ خارج کرنے کے لیے زور لگاتا ہے تو آنتوں کے نیچے زخم ہوجاتے ہیں

“ فضلہ ان زخموں سے رگڑ کھاتا ہے اور بچے کو تکلیف ہونے لگتی ہے اور وہ رونے لگتا ہے- ایسی صورت میں بچہ فضلہ خارج کرتے ہوئے ڈرتا ہے اور اسے روک لیتا ہے- لیکن اس طرح قبض مزید بڑھ جاتی ہے

ڈاکٹر مبینہ کا کہنا تھا کہ “ قبض کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے کھانے تبدیل ہوگئے ہیں اور ان میں اب قدرتی فائبر موجود نہیں ہے- اور یہی وجہ صرف بچوں میں ہی نہیں بڑوں میں بھی قبض کے مرض کا سبب بنتی ہے

بچے میدے سے تیار کردہ اشیاﺀ کھاتے ہیں جیسے کہ برگر٬ پیزا اور نگٹس وغیرہ- اور ان تمام چیزوں میں فائبر موجود نہیں ہوتا- اگر بچے چاول یا جنک فوڈ زیادہ کھا رہا ہے اور روٹی کم کھا رہا ہے تو اس سے بھی قبض کی شکایت پیدا ہوتی ہے

اس کے علاوہ روٹی بھی چکی کے آٹے یعنی براؤن آٹے کی ہونی چاہیے کیونکہ فائن آٹے میں فائبر نہیں ہوتا- سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھانی چاہئیں لیکن زیادہ تر بچے سبزیاں نہیں کھاتے- اس کے لیے آپ بچے کو کچھڑی میں ہری سبزیاں جیسے کہ پالک شامل کر کے دیں یا پھر یخنی بناتے ہوئے اس میں سبزیاں بھی شامل کردیں-

“ بچوں کو پھلوں کا جوس دینے کے بجائے پورا پھل کھلائیں- جو بھی موسمی پھل ہو اسے کھانے سے قبض کم سے کم ہوتی ہے

“ کسی بھی بچے میں قبض کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کی خوراک صحیح نہیں ہوتی“

ڈاکٹر مبینہ کہتی ہیں کہ “ قبض کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں- وہ بچے کو ایسے سیرپ دے گا جس سے فضلہ نرم پڑجائے گا اور آسانی سے خارج ہوجائے گا اور بچے کے زخم بھی ٹھیک ہوجائیں گے اور زخموں کو ٹھیک ہونے میں دو ہفتے لگتے ہیں- یہ سیرپ دو سے تین ہفتوں تک دیا جاسکتا ہے لیکن یہ اس کا حل نہیں ہے

“ اس سیرپ کے ساتھ ساتھ آپ کو بچے کی غذا بھی مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگی- بچے کو تھوڑا بہت جنک فوڈ وغیرہ بھی کھلائیں لیکن اس کی خوراک میں ایسی غذائیں ضرور شامل رکھیں جن میں فائبر پایا جاتا ہو- اس کے علاوہ بچے کو انجیر کھلائیں یہ قبض دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے

“ شام کو 4 بجے انجیر گرم دودھ میں بھگو دیں اور رات 10 بجے اس کا ملک شیک بچے کو دیں یا پھر نرم انجیر بچے کو کھلا دیں- اس سے بھی قبض دور ہوجائے گی- آپ بچے کو پپیتا بھی کھلا سکتے ہیں

“ یہ تمام غذائیں آہستہ آہستہ تمام تبدیل کریں- اس طرح فضلہ نرم ہوجائے گا اور بچے کا ڈر بھی ختم ہوتا جائے گا- قبض کی وجہ سے بچے کی بھوک بھی ختم ہوجاتی ہے اور اس کے پیٹ میں ہلکا ہلکا درد بھی رہتا ہے

“ بچے کو زیادہ دیر کمپیوٹر وغیرہ پر نہ بیٹھنے دیں اور انہیں کھیلنے کودنے کو بھی کہیں٬ اس سے بھی بچہ قبض سے محفوظ رہے گا“