counter easy hit

چین اور روس کی معاونت

Pakistan

Pakistan

تحریر : سید توقیر حسین
امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے احکام پر امریکی حکام نے پاکستان کو ایف۔ 16 طیاروں کی خریداری کی مد میں دی جانیوالی امداد روک لی ہے۔ اس پابندی کے نتیجہ میں پاکستان کو اب ایف۔ 16 طیارے خریدنے کیلئے 70 کروڑ ڈالر کی رقم خود ادا کرنا ہو گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے اس سلسلہ میں بی بی سی کو بتایا کہ اوبامہ انتظامیہ اب بھی پاکستان کو ایف۔16طیاروں کی فروخت کے حق میں ہے تاہم اس کیلئے امریکی پیسہ خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ انکے بقول امریکی انتظامیہ کو یہ فیصلہ سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سنیٹر باب کارکر کے حکم پر کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ کانگرس کے پاس ہی یہ رقم جاری کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے اس سال کیلئے پاکستان کو دی جانے والی 74 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد بھی امریکی کانگرس سے منظوری حاصل نہ ہونے کے باعث روک لی ہے۔

اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ایف۔ 16 طیاروں کی پاکستان کو فراہمی کے حوالے سے اس امر کی پہلے ہی وضاحت کر دی گئی تھی کہ یہ طیارے دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے استعمال کئے جائینگے۔ تاہم امریکی کانگرس کے متعدد ارکان کی جانب سے ایف۔16 طیاروں کی فروخت پر اس بنیاد پر اعتراض کیا گیا کہ ان کا استعمال بھارت کیخلاف ہو سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے بھی اسی تناظر میں پاکستان کو ایف۔ 16 طیاروں کی فراہمی پر اعتراض کیا گیا تھا تاہم اس وقت اوبامہ انتظامیہ نے پاکستان کو متذکرہ طیاروں کی فروخت سے متعلق اپنے فیصلہ کا دفاع کیا جبکہ اب امریکی سینٹ کے احکام کے تحت متذکرہ طیاروں کیلئے پاکستان کو امریکی فنڈز فراہم کرنے سے معذرت کر لی گئی ہے اور یہ قرین قیاس ہے کہ امریکی سینٹ نے یہ فیصلہ بھارتی دبائو پر ہی کیا ہے۔

Zarb-e-Azb

Zarb-e-Azb

اس وقت جبکہ دہشتگردوں کیخلاف افواج پاکستان کا اپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں ہے اور دہشت گردی کے ناسور سے نجات کیلئے تمام سیاسی قیادتیں اور پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ یکجہت ہے’ امریکی کانگرس کا دہشت گردوں کو آخری ضرب لگانے کیلئے پاکستان کو آٹھ ایف۔16 طیاروں کی فراہمی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنا دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے اور اسکی جانی اور مالی قربانیاں ضائع جانے دینے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے بے شک اس خوش فہمی کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو ایف۔16 طیاروں کی فراہمی کا سودا ابھی ختم نہیں ہوا اور انکے بقول امریکی کانگرس کو رضامند کرنا اوبامہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاہم امریکی کانگرس میں بالخصوص ری پبلکن پارٹی کے متعدد سنیٹروں کی جانب سے جس انداز میں پاکستان مخالف پراپیگنڈہ مہم چلائی جاتی رہی ہے اور جس طرح امریکہ میں موجود بھارتی لابی ان سنیٹروں سے بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے دورہ امریکہ کے موقع پر پاکستان مخالف پراپیگنڈہ تیز کرنے کا کام لیتی رہی ہے’ اسکے پیش نظر امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں پاکستان کے حوالے سے کسی نرم روئیے اور اپنی پالیسیوں سے رجوع کرنے کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی۔

بالخصوص آنے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ری پبلکن کے امیدوار ٹرمپ کی کامیابی کی صورت میں تو امریکی کانگرس میں پاکستان مخالف لابی اور بھی مضبوط ہو جائیگی اس لئے اب بہتر یہی ہے کہ طوطا چشم امریکہ سے امداد کی بھیک مانگنے کے بجائے قومی خودداری کی بنیاد پر اپنے وسائل پر تکیہ کیا جائے اور ہماری سکیورٹی فورسز جس مشّاقی اور تدبر کے ساتھ اپریشن ضرب عضب میں دہشتگردوں کی سرکوبی کے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہیں، اس جذبے میں کوئی کمی آنے دی جائے نہ کسی سیاسی مجبوری یا مصلحت کو اس اپریشن کی راہ میں آڑے آنے دیا جائے۔ پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ امریکہ کبھی ہمارے مفادات کے ساتھ مخلص نہیں رہا۔ اس نے 71ء کی پاکستان بھارت جنگ کے دوران ہمیں اپنے بحری بیڑے کی کمک پہنچانے کا چکمہ اور لولی پاپ دیا۔ اس جنگ کے نتیجہ میں بھارت نے مکتی باہنی کی سرپرستی کرکے پاکستان کو دولخت کر دیا مگر امریکی بحری بیڑہ ہماری امداد کو نہ آنا تھا نہ آیا۔

United States

United States

پھر امریکہ نے سوویت یونین کیخلاف اپنی سرد جنگ میں ہماری انٹیلی جنس کی صلاحیتوں اور حربی وسائل کو استعمال کیا، ان کی مدد سے افغان مجاہدین کی کھیپ تیار کی۔ خود کو جنگی نقصانات سے بچایا اور ہمارے وسائل زیادہ استعمال کئے اور جنگ کے مقاصد حاصل کرنے کے بعد طوطا چشمی کی نئی اور نادر مثال قائم کرتے ہوئے پاکستان اور افغان مجاہدین کو تنہا چھوڑ کر بے نیاز ہو گیا جس کے بعد ہی دہشت گردی کے ناسور نے اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کی آگ ہمیں آج بھی جھلسا رہی ہے۔ ایسی ہی بے وفائیوں کی داستانیں اس خطہ میں شروع کی گئی دہشتگردی کے خاتمہ کی جنگ کے دوران بھی امریکہ کی جانب سے وقفوں وقفوںسے دہرائی جاتی رہی ہیں۔ ہم نے تو اس جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی بن کر دہشتگردوں کی سرکوبی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس کا ردعمل طالبان اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے خودکش حملوں اور دہشتگردی کی دوسری وارداتوں کی شکل میں ہمیں ہی بھگتنا پڑا نتیجتاً ہم اپنے 70ہزار کے قریب بے گناہ شہریوں بشمول سکیورٹی فورسز کے دس ہزار افسران اور جوانوں کی زندگیوں کو دہشتگردوں کے مذموم جنونی عزائم کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں مگر امریکہ نہ صرف ہم سے ڈومور کے تقاضے بڑھاتا رہا بلکہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار پر عدم اعتماد کا اظہار بھی امریکی سرشت میں شامل رہا۔

ہمارے ساتھ بداعتمادی کی یہ فضا آج بھی برقرار ہے اور دو روز قبل بھی امریکی دفتر خارجہ اور پاکستان افغانستان کے امور سے متعلق امریکی معاون خصوصی رچرڈ اولسن کی جانب سے اس امریکی بداعتمادی کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنیوالے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی نہیں کر رہا۔ جبکہ حقیقت اسکے قطعی برعکس ہے جو اس امر کی چغلی کھا رہی ہے کہ بھارت کابل حکومت کے ایما پر افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے اپنے دہشت گردوں کی تربیت کیلئے استعمال کر رہا ہے اور بھارتی ”را” کے یہی تربیت یافتہ دہشتگرد افغان سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور دہشتگردی کیلئے اپنے متعینہ اہداف تک پہنچ کر یہاں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے یہ سارے ثبوت ایک ڈوسیئر کی شکل میں امریکی دفتر خارجہ کو فراہم کئے جا چکے ہیں مگر امریکہ ان ثبوتوں کی روشنی میں پاکستان کی سالمیت کیخلاف استعمال ہونیوالے افغان اور بھارتی ہاتھ روکنے کے بجائے انکی سرپرستی کرتا نظر آتا ہے اور بھارت ہی کی زبان میں ہم سے بلاامتیاز تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپریشن کا تقاضہ کرتے نہیں تھکتا۔

China and Russia

China and Russia

اب یہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں رہی کہ بھارتی وزیراعظم مودی کے دورہ امریکہ کے موقع پر بھارتی لابی نے وہاں جس جارحانہ انداز میں پاکستان مخالف مہم چلائی’ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ کیا اور پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں استعمال کرنے کیلئے ایف۔16 طیاروں کی فراہمی کے معاہدہ پر چیخ و پکار کی۔ اسکے نتیجہ میں ہی امریکی سینٹ میں موجود پاکستان مخالف ارکان نے پاکستان کو فوجی فنڈز کی فراہمی رکوا کر ایف۔ 16 طیاروں کے حوالے سے اوبامہ انتظامیہ کے پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو سبوتاڑ کیا ہے۔ اگر آج اوبامہ انتظامیہ کو اس امر کا احساس بھی ہے کہ دہشتگردی کی جنگ جیتنے کیلئے پاکستان کو ایف۔16 طیاروں کی فراہمی ضروری ہے۔اسکے باوجود اس کی جانب سے امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے فیصلہ کی بنیاد پر بے بسی کا اظہار کیا جا رہا ہے تو یہ درحقیقت واشنگٹن انتظامیہ کی منافقت اور اس کا دہرا معیار ہے کیونکہ بھارت کو ہر قسم کے جدید اور ایٹمی ہتھیاروں تک کی فراہمی کے معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے واشنگٹن کو کبھی اپنی بے بسی کا احساس نہیں ہوتا۔ اس صورتحال میں اب بہتر یہی ہے ۔

علاقائی ترقی و سلامتی سے متعلق مفادات اور اپنی سلامتی کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا جائے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اپنی مجبوری نہ بنایا جائے۔ اب جہاں امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں اپنی توانائی کی اور دفاعی ضروریات سے عہدہ برا ہونے کیلئے اس خطہ کے ممالک بالخصوص چین اور روس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے۔ اب ہمارے لئے اپنی قومی خارجہ پالیسیوں کو خالصتاً اپنے مفادات اور ملکی و قومی سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کی خاطر اپنے فرنٹ لائن اتحادی کے ساتھ طوطا چشمیکا مظاہرہ کر سکتا ہے تو ہمیں بھی انپے مفادات ہی عزیز ہونا چاہئیں۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر حسین