counter easy hit

تھر یوں کی مشکلات ہر سال ہی کیوں؟

Thar Desert

Thar Desert

تحریر: مہر بشارت صدیقی
تھر کے صحرا میں ایک مرتبہ پھر خشک سالی نے پنجے گاڑدیے، نئے سال کا چڑھتا سورج بھی معصوم بچوں کی اموات اورمائوں کی گودیں اجڑنے کا نوحہ لے کر طلوع ہوا ہے۔چھاچھرو تھر کے متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت سے بیمار بچوں کی اموات کا سلسلہ نہ رک سکا، چھاچھرو اور مٹھی میں مزید 3 بچے جاں بحق ہو گئے ، جبکہ چھاچھرو کے درجنوں گوٹھوں میں کنووں کا کڑوا اور کھارا پانی استعمال کرنے سے بچوں میں گیسٹرو کی وبا پھیل گئی۔صحرائے تھر میںپہلے مور مرے،پھر مویشی دم توڑنے لگے اور اب خشک سالی،غذائیت کی کمی اور اس سے متعلقہ بیماریوں کا روپ دھار کر معصوم بچوں کی جان لینے لگی ہے۔سول اسپتال مٹھی میں 46 جبکہ چھاچھرو، ڈیپلو، اسلام کوٹ اور ننگرپارکر سمیت ضلع کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں زیرعلاج بچوں کی تعداد 110 سے تجاوز کرگئی ہے۔حکومت نے سول اسپتال مٹھی میں طبی سہولتیں بڑھانے کے بجائے بچوں کو تھر پارکر سے کراچی اورحیدرآباد کے اسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کردیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت ایسا اس لیے کررہی ہے تاکہ شرح اموات کو کم ظاہر کیا جاسکے۔2014ء اور 2015ء میں مجموعی طور پر 1137 بچے غذائیت کی کمی اور دیگر متعلقہ بیماریوں کا شکارہوئے۔ سندھ کے سیکرٹری صحت سعید احمد نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں تعمیر کردہ بنیادی صحت کے کئی مراکز فعال نہیں ہو سکے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں 40 سے زائد بچوں کی اموات ہوئی ہیں، جبکہ رواں سال اب تک 17 بچوں کی سرکاری طور پر تصدیق سیکریٹری صحت نے کی ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تھر میں صحت کی سہولیات کے فقدان کا ایک بڑا سبب حکومت کی جانب سے اسپتالوں کا درجہ بڑھانے کے اعلانات کے باوجود سرکاری اسپتالوں کا بجٹ نہ بڑھانا بھی ہے۔ ڈاکٹر موہن دھنانی، ایم ایس تعلقہ اسپتال چھاچھرکا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے دو برس قبل تعمیر کردہ 70 سے زائد بنیادی صحت مراکز تاحال فعال نہ ہونا بھی ایک بڑا المیہ بنا ہوا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے امدادی گندم کی تقسیم کا اعلان کیا گیا ہے ، لیکن ابھی تک اس کی تقسیم نہ ہو سکی، جب کہ تھرپارکر کے لوگ مشکلات کا شکار ہیں، دیہات میں قائم ڈسپنسریوں میں عملہ اور ادویات بھی نہیں دی گئی ہیں۔ گاؤں ستی ڈیرا میں مزید 23 بچے گیسٹرو میں مبتلا ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں درجنوں بچے غذائی قلت سے امراض کا شکار ہیں ،تھرپارکر میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مال مویشی کے لیے چارہ مکمل ختم ہو گیا ہے۔

لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ نقل مکانی کررہے ہیں۔ تھر کے آفت زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔تحصیل چھاچھرو میں فری میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے۔ 6 موبائل میڈیکل کیمپس کے ذریعے 1495 مریضوں کا علاج کیا ہے اور امدادی کارروائیوں کے تحت 3100 خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے۔فلاح انسانیت فاونڈیشن کراچی کی جانب سے متاثرینِ تھر کے لیے 8 لاکھ روپے مالیت پر مشتمل امدادی سامان کی بڑی کھیپ تھرپارکر پہنچ گئی ہے۔ جس میں ادویات، راشن، گرم کپڑے، بچوں کے لیے صحت بخش غذا و دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔ روانہ کیا گیا امدادی سامان تھرپارکر کے ضلعی صدر مقام مٹھی پہنچا دیا گیا ہے، جہاں سے فلاح انسانیت فائونڈیشن کے رضاکار کیے گئے سروے کے مطابق تھر کے دور دراز گوٹھوں میں تقسیم کریں گے۔ فلاح انسانیت فائونڈیشن کے وائس چیئرمین شاہد محمود کا کہنا ہے۔

کہ ایف آئی ایف کے رضاکار تھرپارکر کے دوردراز علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لیے روز اول سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ صحرائے تھر میں صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دیگر اشیائے ضروریہ کی بھی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ نومولود بچے اور ان کی مائیں صحت بخش غذا اور علاج معالجہ کی بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ متاثرین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے قحط زدہ خاندانوں کے لیے 8 لاکھ روپے مالیت کی بڑی کھیپ روانہ کی، جو تھر کے دور دراز گوٹھوں میں متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تھر کے باسیوں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہائی کا احساس نہیں دلائیں گے، ہر سطح پر ان کی بھرپور مدد کی جائے گی۔ تھر کے متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لیے کراچی سے مزید بڑے پیمانے پر امدای سامان روانہ کیا جائے گا۔تھرپارکر میں بچوں کی اموات کا حالیہ سلسلہ تشویشناک ہے۔

Hospital

Hospital

نومولود بچے اور ان کی مائیں صحت بخش غذا اور علاج معالجہ کی بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔حکومت اور متعلقہ ادارے بھی فوری اقدامات کریں۔ مٹھی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے علاوہ تھر کے دیگر تحصیلوں اور دور دراز گوٹھوں میں بنیادی غذا سے محروم شیرخوار بچوں کی بڑی تعداد موجود ہیں، جن کے والدین ان کی خوراک کے لیے پریشان ہیں۔ صحرائے تھر میں بنیادی ضروریات زندگی نہ ہونے کے باعث بچوں کے لیے صحت بخش غذائوں کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کی بڑے پیمانے پر اموات بھی واقع ہوئیں ہیں۔تھری عوام کی مشکلات کو معمول کا حصہ سمجھ کر فراموش کرنا ظلم ہے۔ بچوں کی اموات کا سبب صحرائے تھر میں غذائی اشیاء اور طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔ تھرپارکر میں پانی کی قلت کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔ جماعة الدعوة گزشتہ 12 سال سے صحرائے تھر میں رفاہی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہے، جماعة الدعوة تھرپارکر کے دور دراز گوٹھوں و علاقوں میں کنوئوں کی تعمیر اور ہینڈ پمپ کی تنصیب کے ساتھ ساتھ متاثرین کو طبی سہولتیں بھی پہنچا رہی ہے۔ گزشتہ بارہ سال سے تھرپارکر میں صحت اور صاف پانی کے حوالے سے رفاہی سرگرمیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ پانی کی فراہمی کے لیے مستقل بنیادوں پر واٹر پروجیکٹ کا دائرہ کار مزید دور دراز گوٹھوں تک بڑھایا جائے گا۔

جماعة الدعوة تھرپارکرمیں متاثرہ مسلمان خاندانوں کے ساتھ ساتھ ہندوئوں کی بھی بلا امتیاز مدد کر رہی ہے۔ سندھ حکومت کی تھرپارکر میں بھوک اور پیاس کے سبب پیدا ہونے والے انسانی بحران پر خاموشی افسوس ناک ہے ، بچوں کی قحط سالی سے موت حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے ، وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے ناکامی کا اعتراف کر نا ہی کافی نہیں ہے، عوام کو اس انسانی بحران اور مسائل سے باہرنکالنے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ناکام پالیسیوں کی بدولت آج سندھ حکومت ہر شعبے میں ناکام نظر آرہی ہے وافر مقدار میں گندم کی موجودگی اور تھر میں قحط سالی سے انسانی جانوں کے ضیاع پر ذمہ داران کیخلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائیاور انہیں کڑی سزا دی جائے ۔

تحریر: مہر بشارت صدیقی