counter easy hit

چودھری برادران اور اسحق ڈار ڈکٹیٹر کا دباﺅ

چودھری برادران چار دن کی نظر بندی کے بعد سرنڈر کر گئے، اسحق ڈار چوبیس ماہ تک ڈٹے رہے۔
اسحق ڈار کے جس بیان حلفی کا ذکر ہر روز چھڑتا ہے، وہ ردی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، ایک معزز جج صاحب کہہ چکے ہیں کہ اخبارات کی اہمیت کیا ہے، ان میں تو اگلے روز پکوڑے بکتے ہیں۔ مگر اسحق ڈار نے جن کاغذات پر دستخط کئے تھے، وہ تو تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو چکے کہ انہیں جبر، ڈنڈے، قید و بند کے ہتھکنڈوں سے لکھوایا گیا، لکھوایا نہیں گیا، صرف اس پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔ مجبور توسقراط کو بھی کیا گیا تھا کہ ا سے زہر کا پیالہ پینا پڑا، اس میں اس کی مرضی شامل نہ تھی، یہ اس پر ایک طرح کا جبر تھا، آپ نہیں کہہ سکتے کہ سقراط نے خود کشی کا ارتکاب کیا، اس لئے بعد از مرگ اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے اوراس کی میت پر بھی کوئی حد نافذ کر دی جائے۔ اسحق ڈار کو بھی سقراط بنا دیا گیا۔ مگر اتنی آسانی سے نہیں، اس کے لئے اسے چوبیس ماہ تک مسلسل عقوبت کا نشانہ بنایا گیا۔ شاعر بھی چیخ اٹھا تھا:
حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے
انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
مگر چودھری برادران، ڈکٹیٹر مشرف کے ایک چیلے کے سامنے چاردن میں ڈھیر ہو گئے تھے، وہ کیسے۔ اس واقعے کا میں بھی ایک کردار ہوں اور اسے تاریخ میں محفوظ ہو جانا چاہئے تاکہ وہ سیاستدان جو ڈینگیں مارتے نہیں تھکتے کہ وہ جیلیں کاٹتے ہیں، عقوبت سہتے ہیں، مگر سر نہیں جھکاتے، ان کی اصلیت سے پردہ اٹھ جائے۔
چودھری شجاعت نے کل ایک ملاقات ڈکٹیٹر مشرف سے دوبئی میں کی ہے، ان کے ساتھ پیر پگاڑا بھی تھے۔ دونوں سیاستدان آج بھی مشرف کو مسیحا اور مائی باپ کیوں خیال کرتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لئے تھوڑا تاریخ کی ورق گردانی کرنا پڑے گی۔
اکتوبر ننانوے میںمشرف ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا، عوام کے مینڈیٹ کو بوٹوں تلے روند چکا تھا، چند ہفتے گزرے کہ مجھے نصف شب کے بعد اعجاز الحق کا فون آیا کہ کہاں ہو، میںنے بتایا کہ ایک میٹنگ سے واپس گھر جا رہا ہوں اور راستے میں ماڈل ٹاﺅن میں ایک کالم نگار بشیر حسین پوسوال کو ڈراپ کیا ہے۔ اعجاز الحق نے کہا، میری طرف سے ہوتے جایئے۔ وہ اس وقت شامی روڈ کے عسکری فلیٹس میں موجود تھے، رات ٹھٹھر رہی تھی، میں اس کے پاس پہنچا، اس نے کہا کہ مشرف کو مسلم لیگ کی ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس کا لیڈر کون ہو، میرے راستے میں صرف چودھری برادران رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ان کی طبعیت درست کرنے کے لئے میں ابھی ایک جنرل (انہوںنے اس جنرل کا نام بھی لیا تھا) کو فون کرتا ہوں کہ چودھریوں کو چند روز کے لئے صرف گھر میں بند کر دیا جائے، وہ ساری چوکڑی بھول جائیں گے، میں اگلے روز شام کو چودھریوں کے گھر پہنچا، صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا اعجاز الحق نے محض ڈینگ ماری تھی یا متعلقہ جنرل نے اس کی بات سنی بھی ہے، کیا دیکھتا ہوں کی چودھریوں کے گھروں کے باہر فوج کا حصار ہے اور کسی چڑیا کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں، چودھریوں کو صرف باورچی دیئے گئے تھے، بیوی بچے بھی ان سے الگ کر دیئے گئے تھے۔ میںبھولی سی شکل بنا کر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ان کے میڈیا کے دفتر میں جا گھسا، وہاں کھانا چنا جا رہا تھا، ایک چھریرے بدن کا نیم لیفٹین چوکس کھڑا تھا، میںنے ا س سے کہا کہ وہ چودھریوں کے ڈیرے پر ہے، کیا ہوا کہ وہ قیدی ہیں مگر اس ڈیرے پر سبھی مہمان ہوتے ہیں، آپ ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہوں گے، میرے دیہاتی لہجے سے اس کی طبیعت کی سختی، ڈھیلی پڑ گئی اور اس نے چند لقمے لے لیے۔ خستہ تندوری روٹی کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔
میں اعجاز الحق کا اعجاز آنکھوں سے دیکھ چکا تھا، دو روز بعد اعجاز کا پنڈی سے فون آیا کہ آج چودھریوںکے گھروں سے فوج ہٹ جائے گی، وہ میری لیڈری میں کام کرنے پر مان گئے ہیں۔
دوسری طرف اسحق ڈار تھا، جسے فوجی بغاوت کی سہہ پہر ایک میٹنگ کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر اس کے بارے میں خدا ہی جانتا تھا کہ فوج نے اسے کس پاتال میں غرق کر دیا، اس کے گھر والے پریشان حال تھے کہ ڈار صاحب کا کوئی اتا پتہ نہ تھا، اسحق ڈار کوئی روایتی سیاستدان نہ تھا، وہ تو بابو تھا، اعلیٰ تعلیم یافتہ جو اپنے پیشہ ورانہ کام سے کام رکھتا تھا۔ اس نے تو زندگی بھرکسی جلوس کی صورت بھی نہیں دیکھی تھی حتیٰ کہ گورنمنٹ کالج میں ڈاکٹر نذیر احمد کی واپسی کے لئے جو جلوس نکالا گیا، وہ ا س سے بھی شاید دور ہی رہا، اس کی سرشت میں سیاست کا کوئی دخل ہی نہ تھا، جنرل موسی خان کے خلاف بھی گورنمنٹ کالج کے احاطے میں ایک جلوس نکلا، اس کی قیادت آفتاب گل کر رہا تھا، سامنے سے پرنسپل رشید آ رہے تھے، انہوں نے پوچھا، یہ کیا ہو رہا ہے، آفتاب گل نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا کہ جلوس نکال رہے ہیں، اور ساتھ ہی ایک زناٹے دار تھپڑ کی آواز آئی، آفتاب گل کے نوخیز چہرے پر اس تھپڑ کے نشان واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے اور یہ جلوس بازی ختم ہو گئی۔
میں نے اس جلوس کی بھیڑ میں بھی کہیں اسحق ڈار کو نہیں دیکھا، وہ پڑھاکو لڑکا تھا۔
مگر یہی اسحق ڈار سوٹڈ بوٹڈ حالت میں وزارت خزانہ کے میٹنگ روم سے فوجیوںکے ہتھے چڑھا تو نجانے اس پر کیا قیامت بیت گئی ہو گی۔ کبھی وہ فارغ ہو تو اس سے وہ داستان سنوں جو نئی کربلا کا عنوان بنے گی۔ اس کربلا کے دنوں کا تصور کرتا ہوں تو مجھے یہ شعر یاد آ جاتا ہے:
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر …. تو ویرانے پہ کیا گزری
اسحق ڈار نہ تو دیوانے تھے، نہ غزالوںکے ساتھ جنگل میں ان کا بسیرا تھا، انہیں تو آمریت کے گھنے جنگل میں خونخوار بھیڑیوں نے گھیر رکھا تھا، وہ جو کہتے ہیں کہ جنگل میں شیر سے سامنا ہو جائے تو کیا کرو گے، جواب ہے کہ وہی ہو گا جو شیر چاہے گا۔
اسحق ڈار کو بھی لاقانونیت کے جنگل کے شیر نے پنجے مارے، اسحق ڈار دو سال تک اس شیر کے سامنے ڈٹے رہے۔ شیر انہیں چیرتا پھاڑتا رہا ، وہ ڈٹے رہے ، ڈٹے رہے ، مگر بھٹو نے اس شیر کے سامنے ڈٹنے کی کوشش کی تو پھانسی چڑھ گیا، نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے بڑا فائٹر تو کوئی نہیں ، وہ بھی دو مرتبہ جلاوطنی پر مجبور ہوئیں آخر اس جنگلی شیر سے این آرا و کر کے معافی تلافی کی ا ور واپس آئیں تو سبھی معاہدوں کے ہوتے ہوئے شہید کر دی گئیں۔
آج اسحق ڈار کے جس کاغذ کا ذکر ہو رہا ہے ، وہ ردی کاایک ٹکڑا ہے، جسے کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر مقدمے کے ریکارڈ میں شامل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ جو تحریر ایک غاصب نے ڈنڈے کے زور پر لکھوائی یا اس پر دستخط کروائے، اس کی قانونی آئینی حیثیت کیا ہے، غاصب خود کچرے کے ڈھیر کا حصہ ہے۔ اس پر پاکستان کی زمین تنگ ہے۔ قوم کا تو مطالبہ ہے کہ اس کے دور کو وائڈ ایب نشو قرار دیا جائے اور اس غاصب اور اس کی ساتھی ق لیگ کو آرٹیکل چھ کے تحت لٹکایا جائے، انہیں دوبئی کے سیر سپاٹے کا موقع نہ دیا جائے۔
کسی کا قول مجھے یاد آ رہا ہے کہ سقراط زہر کا پیالہ نہ پیتا تو مر جاتا، اسحق ڈار بھی بیان حلفی پر دستخط کر کے سقراط کی طرح امر ہو گیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website