counter easy hit

چکوال میں عشرہ محرم کا آغاز نہائت پر امن اور مذہبی جوش و جذبے کے تحت ہو گیا

Chakwal, Ashra e Majalis in Markazi Imambargah Chakwal

Chakwal, Ashra e Majalis in Markazi Imambargah Gulistan e Zahra, Chakwal

چکوال(یس اردو نیوز)مرکزی امام بارگاہ گلستان زہرا زیر اہتمام چوہدری اظہر عباس عشرہ محرم کا آغاز ہو گیا۔مجلس عزا میں بڑی تعداد میں مرد اور خواتین مومنین نے جوق درجوق شرکت کی۔جبکہ نظامت کے فرائض سید تنویر کاظمی نے ادا کیے۔محرم کی پہلی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے ذاکر تقی عباس قیامت اور ذاکر امیر الحسن کاظمی نے کہا کہ محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی آل رسول پر مصیبتوں کا آغاز ہو گیا۔یزید نے برسر اقتدار آتے ہی گورنر مدینہ ولید کو کہا کہ بے شک عرب کے بڑے قبیلے اور عمراء میری حمایت کر رہے ہیں۔مگر میری حکومت کی جڑیں اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک نواسہ رسول حضرت امام حسین میری بیت نہ کریں۔چنانچہ ولید نے امام عالی مقام سے یزید کے لیے بیت طلب کی۔امام عالی مقام نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مجھ جیسا یزید جیسے حاکم کی بیت نہیں کر سکتا۔کیونکہ میں رسول کا نواسہ ہوں۔اور امام حق ہوں،رسول کے دین کی حفاظت میرا نصب العین ہے۔اور میں اپنی جان کی قربانی دے سکتا ہوں لیکن اسلام پر کوئی آنچ نہیں آنے دونگا۔امام نے ترک وطن سے قبل اپنی شریک بہن سیدہ زینب سلام اللہ علیہا سے مشورہ کیا۔ کہ ہمیں اپنے نانا کے دین کو بچانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دینی پڑینگی۔کربلا کے میدان میں مجھے اور میرے بیٹوں بھائیوں اور دیگر جانثاروں کو شہید کر دیا جائے گا۔7محرم کو ہمارا پانی بند اور شام غریباں کو ہمارے خیموں کو آگ لگا دی جائے گی۔میری جنگ کربلا میں ختم ہو گی۔جبکہ شام کی جنگ سیدہ زینب کو لڑنی ہو گی۔امام کو شریک تلحسین بہن سیدہ زینب نے کہا کہ ہم ہر مصیبت برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔مگر دین محمد پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے۔اسی اثناء میں امام نے اپنے بھائی حضرت عباس علمدار سے سفر اختیار کرنے والے جانثاروں کی ایک فہرست مرتب کرائی۔اور وطن مدینہ کو خیر باد کہنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی۔مقررین نے زور دیا کہ سیدہ الشہداء حضرت امام حسین علیہ سلام کسی ایک فرقے کے سرمایہ نہیں بلکہ وہ محسن انسانیت ہے۔آئیے اتحاد بین المسلمین فرقہ ورانہ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے مل کر مظلوم کربلا کا غم منائے۔عاشورہ محرم مصیبتوں ظلم و زیادتی کا منمبہ ہے۔اہل اسلام اپنے اپنے انداز میں حضرت امام حسین کی طرف سے کربلا کے میدان میں اسلام کی راہ پر دی جانے والی قربانیوں کی یاد تازہ کر سکتے ہیں۔اس موقع پر ایس ایچ او سٹی انسپکٹر نصیر شاہ نے امام بارگاہ کے چاروں اطراف جدید اسلحہ سے لیس پولیس ملازمین تعینات کر کے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے۔واک تھرو گیٹ لگا کر ہر آنے جانے والوں کی سخت چیکنگ کی جاتی رہی۔

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website