counter easy hit

ایں خیال است محال است و جنوں؟

Study

Study

تحریر : اختر سردار چودھری

معاشرے کی ترقی کے لیے تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تعلیم و تربیت کا نظام اگر درست طور پر کام کر رہا ہو تو معاشرہ سنورتا ہے ،ترقی کرتا ہے ،اس سے کامیاب افراد تیار ہوتے ہیں جیسا کہ عمران خان کہتا ہے اگر سرمایہ کاری افراد پر کی جائے تو قوم بنتی ہے جو خود ہی ترقی کر جاتی ہے ،جس سے ملک کی ترقی ممکن ہے ۔ہم نے اس کے لیے نظام تعلیم و تربیت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔اب مختصر نظر موجودہ نظام تعلیم و تربیت پرہمارا نظام تعلیم و تربیت ہماری نظریاتی ،اسلامی امنگوں پر پورا نہیں اترتاملک میں بہت سے نظام تعلیم و تربیت رائج ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد بھی ہیں ۔ چند دن پہلے سراج الحق نے یکساں نظام تعلیم کی بات کی اور اس بارے میں کوشش بھی ہو رہی ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم اسلامی و ملکی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اور اس میں تربیت کا نظام بھی نہیں ہے ۔دینی اور دنیاوی کامیابی کے لیے نظام تعلیم میں تربیت کا ہونا ضروری ہے ۔اس کے بناں کامیابی بقول مولانا رومی محال ہے ۔ایں خیال است و محال است و جنوں۔

ہمارے ملک میں تین الگ الگ نظام تعلیم رائج ہیں ایک کو دینی مدارس کا نظام کہہ لیں جس میں ہر مکتبہ فکر کا الگ الگ نصاب ہے اس طرح اس دینی مدارس میں یکساںنصاب نہیں ہے اور ان سے پڑھنے والے مولوی ،خطیب بن سکتے ہیں یا علامہ بھی بن گے تو وہ بھی کسی ایک خاص مسلک کے کتنی بڑی خامی ہے یہ مذہبی نظام تعلیم میں اسے مسلکی نظام تعلیم کہنا مناسب ہو گا دینی نظام تعلیم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دین اور مذہب ،مسلک اور فرقہ الگ ہیں دین تو ایک ہی ہے یعنی اسلام اگر اس کا نظام تعلیم کہیں تو سب کو ایک ہونا چاہیے ۔ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں تین نظام تعلیم رائج ہیں اور ان میں ان بھی کی کئی شاخیں ہیں جیسا کہ دینی تعلیم کے بارے میں بتایا گیا ہے دوسرا نظام تعلیم پرائیویٹ نظام تعلیم ہے جس میں انگلش ،اردو،گرائمر اور نہ جانے کون کون سے رائج ہیں بہت سے ایسے ادارے ہیں جہاں اردو میں بات کرنے پر جرمانہ ہوتا ہے ،یعنی ملکی ،قومی زبان میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ تیسرا نظام جو ہے اسے گورنمنٹ کا نظام تعلیم کہ سکتے ہیں جو صوبوں میں الگ الگ رائج ہے ۔اس نظام میں بھی انگلش اور اردو الگ الگ نظام ہیں جیساکہ اوپر کہا گیا ہے تربیت کا تو کوئی تصور ہی نہیں ہے ان تمام نظام تعلیم کے اداروں میں ،نصاب تعلیم و تربیت زمانے کی بصیرت سے عاری ہے۔

پرائیویٹ سیکٹر کو حکومت کنٹرول نہیں کر رہی نہ ہی نصاب و معیار کے معاملے میں اور نہ ہی فیس کی بابت ،قومی زبان اردو کو ہمارے نظام تعلیم میں وہ اہمیت نہیں دی گی جو دی جانی چاہیے تھی کیا کبھی ہم اپنی زبان پر فخر کر سکیں گے جیسے چین ،جاپان ،فرانس وغیرہ کرتا ہے انہوں نے اپنی زبان میں ہی تعلیم حاصل کی اور ترقی کی ۔ایں خیال است و محال است و جنوں۔ ہمارے نظام تعلیم میں پالیسی غیروں کی چلتی ہے کیونکہ وہ پیسے دیتے ہیں ایسے اشتہارات بھی ہمارے نجی چینل پر چل رہے ہیں کہ فلاں ملک کی عوام پاکستان کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لیے مدد دے رہی ہے بھائی سیدھی سی بات ہے کوئی ہماری تعلیم و تربیت پر اپنے مفاد کے سوا کیوں خرچ کرے گا ان کا مفاد ہے ذہنی طور پر غلام افراد تیار کرنا ایسے افراد تیار کرنا جو ان کو ہر لحاظ سے برتر خیال کریں اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہیں ۔ہمارے نظام تعلیم کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس میں قرآن کو مرکزی مقام حاصل نہیں ہے اوپر درج کسی بھی نظام تعلیم میں ایسا نہیں ہے۔

ہمارے زوال کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے ۔یہاں پر سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ غیر مسلم کے ہاں اسلام یا قرآن کو مرکزی مقام حاصل نہیں ہے پھر وہاں کیوں ترقی ہو رہی ہے اور انہوں نے عروج کیسے حاصل کیا ہے ؟بہت اہم سوال ہے مختصر سا جواب یہ ہے کہ ہم اسلام کی روح (حقوق العباد)سے واقف نہیں ہیں اسلام کی اصل روح کو نہیں جانتے اس لیے ایسے سوال کرتے ہیںاسلام کی روح وہاں راج ہے اس لیے وہ ترقی کر رہے ہیں اس کے علاوہ دوسری بات یہ کہ ہم کو یا تو شیطانی راستہ اختیار کرنا چاہیے یا اسلامی راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ درمیان میں رہیں گے تو ناکام ہی رہیں گے ۔یا تو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں یا آدھے جو ہیں وہ بھی نہ رہیں یہ کیا ہوا کہ کچھ باتوں کو مان لیا اور کچھ کو چھوڑ دیا۔دو رنگی اختیار کر کے ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں ۔ایں خیال است و محال است و جنوں ۔ اس موضوع پر مزید لکھا جا سکتا ہے لیکن میں اس بات کو یہیں ختم کرتا ہوں اور اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔

ہمارے ملک میں قرآن کو حفظ کرنے ،ناظرہ پڑھانے کے لاکھوں ادا رے ہیں لیکن قرآن فہمی کے بہت کم ادارے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا قرآن صرف اس لیے نازل ہوا تھا کہ اسے حفظ کر لیا جائے یا ناظرہ پڑھ لیا جائے یا ترجمہ اپنے اپنے فرقے کا اور اپنے فرقے کو سپورٹ کرنے والی آیات کویاد کر لیاجائے پہلے بھی لکھا ہے کہ ہمارے زوال کی اصل وجہ اسلام سے دوری ہے اور اسلام میں گروہ در گروہ ہونا ہے ۔کیا کبھی ہم اس منجھدار سے نکل سکیں گے۔کبھی متحد ہو سکیں گے۔ایں خیال است و محال است و جنوں۔

بھائیوں جب استاد تعلیم کو کاروبار بنا لیں ،سکول سے زیادہ ٹیوشن سنٹر پر توجہ ہو ،جب استاد سرکاری نوکری بھی کریں اور پرائیویٹ سکول و اکیڈمی بھی بنائی ہوئی ہوں، جب ڈاکٹر نوکری کے ساتھ پرائیویٹ کلینک ،ہسپتال بنا لیں ،جب دین کے رہبر و رہنماء حجروں میں جا بیٹھیں ،چندے اکھٹے کریں ، یا منافقت کی سیاست کریں دین کو کاروبار بنالیں ،پیری مریدی مذہب بن جائے ،قرآن سے فال معلوم کرنے اور تعویز لکھے جائیں ۔نزول قرآن کا مقصد دم درود سمجھ لیا جائے ۔جب اہل دین ،اسلامی نظام کے داعی اپنے مفادات کے لیے ان سے اتحاد کر لیں جن کے خلاف جہاد کرنا چاہیے جب رب کی دھرتی رب کا نظام کہنے والے جمہوریت کو اللہ کی نعمت کہنے لگ جائیں ۔جب اسلامی انقلاب لانے والے جمہوریت کو بچانے کا دعوی کریں ۔جب شریف لوگ بدمعاشوں کے شر سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کر لیں تو پھر اصلاح کون کرے گا ؟اور پھر تعلیم کے نظام میں کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے نظام تعلیم کے مطابق ہمارے معاشرے میں تعلیم و تربیت کا خواب پورا ہو سکے ۔اس بارے میں مولانا رومی کا بہت مشہور شعر ہے کہ
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں
ایں خیال است و محال است و جنوں
ترجمہ۔ (ہم خدا کو بھی چاہتے ہیں اور دنیا پرستی میں بھی مبتلا ہیں یہ خیال پاگل پن اور ناممکن ہے)۔

Akhtar Sardar Chaudhry

Akhtar Sardar Chaudhry

تحریر : اختر سردار چودھری