counter easy hit

بھارت سے بڑی بریکنگ نیوز: کانگریس کی رہنما ارمیلا ماٹونڈکر نے استعفیٰ دے دیا ، مگر کیوں ؟ تازہ ترین خبر

Big Breaking News from India: Congress leader Urmila Matondkar resigns, but why? Latest news

ممبئی(ویب ڈیسک) بھارتی اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔بھارتی میڈٰیا کے مطابق نامور بالی ووڈ اداکارہ اور سیاستدان ارمیلا ماٹونڈکر نے تقریباً 6 ماہ قبل ہی بھارتی سیاسی پارٹی کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن اب انہوں نے کانگریس چیف سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے پارٹی سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا۔اپنے خط میں ارمیلا ماٹونڈکر نے لکھا کہ ’میں بطور پارٹی رکن اور کانگریس کی دیگر تمام پارٹی عہدوں سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتی ہوں، میں پارٹی کی شکرگزار ہوں جس نے مجھے شمولیت کا موقع دیا۔بعد ازاں ارمیلا نے پارٹی سے استعفیٰ دینے پر ایک پریس ریلیز بھی جاری کی جس میں انہوں نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ ’ممبئی کانگریس‘ کے اہم کارکنان کسی کام کے نہیں رہے یا پھر وہ پارٹی میں بہتری کی جانب تبدیلی لانے کے لیے پرعزم نہیں ہیں جب کہ میری سیاسی اور سماجی حساسیت پارٹی میں بڑے ہدف پر کام کرنے کے بجائے ذاتی مفاد کے لیے کام کرنے سے انکاری ہے۔ارمیلا ماٹونڈکر کا کہنا تھا کہ میں اپنی سوچ اور نظریات کے ساتھ آج بھی کھڑی ہوں اور لوگوں کی بہتری کے لیے اپنی صلاحیت کے مطابق ایمانداری سے کام کرتی رہوں گی، میں ان تمام لوگوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے میرے سیاسی سفر میں ساتھ دیا۔واضح رہے اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر کا ایک انٹرویوسوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں وہ ہندو مخالف بیان دیتی نظرآرہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے جو چیز اچھی نہیں لگتی وہ یہ ہے کہ مذہب جومذہبی رواداری کے لیے جانا جاتا ہے وہ سب سے پُرتشدد مذہب بن جائے۔ ارمیلا کی جانب سے ہندوازم کوپُرتشدد مذہب کہنے کے خلاف پی جے پی کے ایک کارکن نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت کنندہ سریش نے موقف اختیارکرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ٹی وی پردیکھا ارمیلا کہہ رہی ہیں کہ ہندوازم دنیا کا سب سے پرتشدد مذہب ہے، ارمیلا نے یہ الفاظ راہول گاندھی کے کہنے پرادا کیے لہٰذا ان کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہئے دوسری جانب ارمیلا نے اپنے خلاف شکایت درج کیے جانے پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شکایت کنندہ نے میرے بیان کو بہت غلط طریقے سے سمجھاہے، یہ بی جے پی کا رکن ہے جس کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس انٹرویومیں انہوں نے جعلی، تقسیم کرنے والے اورپرتشدد نظریات کومسترد کیا تھا جودراصل بی جے پی ہندووازم کے نام پربیچ رہی ہے۔ ہندووازم امن کی عکاسی کرتا ہے لیکن بی جے پی ایک مختلف قسم کے ہندوازم کا پرچار کررہی ہے جو کہ تشدد پر مبنی ہے۔ واضح رہے کہ ارمیلا ماٹونڈکرکانگریس کی جانب سے بی جے پی رہنما گوپال شیٹھی کے خلاف انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے ارمیلا کو جہاں کانگریس جوائن کرنے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہیں ان کے شوہرمحسن اخترمیرکے حوالے سے بھی وہ بی جے پی کے نشانے پر ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website